• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف و حکایت … ظفر تنویر
وہ جوان آدمی ہے صحت بھی اس کی بہت اچھی ہے لیکن فون پر اس کی آواز کپکپا رہی تھی اس نے اسی کپکپاتی لیکن مدہم ہوتی ہوئی آواز میں بتایا کہ ان کے والد کی بگڑتی ہوئی حالت اور جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ہونے کے باعث انہیں اسپتال کے کورونا وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے، مجھ سے بات کرنے والا نوجوان عرفان تھا جو اپنے والد محترم محمد عجیب کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں رنجیدہ ہی نہیں فکر مند بھی تھا ۔یہ وہی محمد عجیب ہیں جنہیں برطانیہ کا پہلا غیر سفید فام اور پہلا مسلمان لارڈ میئر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ابھی گزشتہ ماہ ہی بریڈ فورڈ ان پر لکھی گئی کتاب کی اشاعت پر نازاں تھا، ان پر ٹی وی پروگرام کرنے جا رہے تھے نئے نئے مضامین لکھے جا رہے تھے اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے آن لائن سیمینار کے ذریعہ ان کی جدوجہد اور نسلی تعصب کیخلاف ان کی کہانی سے سبق حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ اس سارے عرصہ میں محمد عجیب چاک و چوبند تو تھے ہی لیکن بڑی احتیاط اور سلیقے سے جینے کی کوشش کر رہے تھے کوروناکی لہر میں قابل ذکر کمی آنے کے باوجود، انہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کئے رکھیں چہرے پر لگائے گئے ماسک کو برقرار رکھا، مصافحہ اور معانقہ نہ کرنے پربھی سختی سے عمل پیرارہے لیکن اس موذی جراثیم نے انہیں آہی گھیرا اور اب وہ اسپتال میں ہیں۔ محمد عجیب پیار کرنے والے اور پیار بانٹنے اور سمیٹنے والے انسان ہیں نانا بھی ہیں اور دادا بھی ہیں۔ بچوں سے پیار ان کی فطرت کا ایک حصہ ہے اور شاید یہی پیار انہیں گھیر گھار کر جراثیم کے قریب لے گیا ۔ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جب موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد اسکول کھلے تو اس خدشہ کا تکرار کے ساتھ اظہار کیا گیا کہ بچوں کے اس طرح آزادانہ میل جول سے کوروناکی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اب لگتا بھی ہے کہ ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔ انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں انفیکشن کے بڑھنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ انفیکشن کی رفتار میں گو پہلے والی شدت نہیں شاید اس کی وجہ تینوں علاقوں کی بالغ اکثریت کو لگائی جانے والی ویکسین ہے۔ اب تو ’’بوسٹر‘‘ کے نام سے تیسرا انجکشن بھی لگایا جارہا ہے خاص کر ان لوگوں کو جو صحت کے بعض مسائل میں پہلے سے ہی گھرے ہوئے ہیں ۔محمد عجیب بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں یہ تیسرا ’’بوسٹر‘‘ لگ چکا ہے ان کے اپنے گھر میں بہت احتیاط کی جاتی ہے، ویسے اس سے پہلے ان کی اہلیہ، بیٹا اور بہواس وبا کو شکست دے چکے ہیں اور کورونا پازیٹو ہونے کے بعد اختیار کی گئیں غیر معمولی تدابیر سے کورونا کے پنجوں سے جان چھڑا چکے ہیں لیکن اب گھر کے سربراہ کے اس طرح ہسپتال چلے جانے سے بہت سے نئے سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ سوال صرف ایک اسی گھرانہ کیلئے نہیں بلکہ ان سب گھروں کیلئے بھی ہیں جن میں بزرگ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اس امر کا اشارہ تو پہلے ہی کردیا گیا تھا کہ اسکول کھلنے سے وبا بڑھ سکتی ہے، ہم اپنے ایسے گھروں پر ایک نگاہ ڈالیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اسکولوں سے واپسی پر عموماً بچے بھاگتے ہوئے گھر کے بڑوں کی طرف جاتے ہیں یہ بچوں کا اپنے بڑوں کیلئے پیار ہے اور دوسری طرف گھر کے بڑے اپنی باہیں کھولے ان ننھے فرشتوں کو اپنے اندر سما لینے کی کوشش کرتے ہیں اور غالباً یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب جراثیم ایک دوسرے کو منتقل ہوسکتے ہیں ۔میں نے ایسا اکثر ہوتا دیکھا ہے دور کیوں جائیں خود میرے گھر میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے لیکن ہمیں اسے روکنا ہوگا ۔ہوسکتا ہے ہمیں یہ تلخ لگے لیکن ایسا کرنا ہوگا، بچے تو معصوم ہیں یہاں تو بڑوں کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ جراثیم لئے پھر رہے ہیں اور جب انہیں پتہ چلتا ہے توبہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور وہ بہت سے دوسروں میں یہ جراثیم بانٹ چکے ہوتے ہیں ۔ہماری بیٹوں، بہنوں اور بہووں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینا ہوگی اگر آپ کو اپنے بڑوں سے محبت ہے تو اپنے بچوں کو ان سے دور رکھئے یقیناً یہ ایک مشکل اور کٹھن گھڑی ہے لیکن صبر کے گھونٹ پیجئے اور اپنے گھروں کو اپنے بزرگوں کیلئے محفوظ بنایئے کہ اس وقت سب سے زیادہ نشا نے پر وہی ہیں وہ آپ سے محبت کرتے ہیں اوران کی حفاظت کو اپنی محبت کا عنوان بنا لیجئے۔
یورپ سے سے مزید