• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر : فیصل محمود۔۔۔لندن
ایک بار جبرا ئیل علیہ السلام سے آپ ﷺ نے پوچھا اے جبرائیل تمہاری عمر کتنی ہے ،جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں یہ تو نہیں جانتا کہ میری عمر کتنی ہے مگر میں نے چوتھے حجاب میں ایک چمکتا ستارہ دیکھا تھا جو 70 ہزار سال کے بعد چمکتا ہے اور اسی چمکتے ستارے کو میں نے 72 ہزار بار دیکھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ نورانی تارہ میں ہی ہوں،اسی طرح ایک بار حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو تخلیق فرمایا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی نے سب سے پہلے نور محمدی ﷺ کو تخلیق فرمایا پھر اس نور کے چار حصہ کر دیئے ،ایک حصہ عرش، دوسرا لوح محفوظ ،تیسرا قلم اور چوتھے حصہ آپ ﷺ کے چہرہ انور پر اتار دیا، اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام کی رہنمائی کے لئے کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر اور رسول بھیجے اور آخری پیغمبر ہمارے پیارے نبی ﷺ کو بھیجا گیا، غور کرنے کی بات ہے سب سے پہلی تخلیق نور محمد اور آخری نبی کی ہوئی جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا یعنی صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام کائنات اور تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا،آپ ﷺ کی آمد سے پہلے جہالت کا دور دورہ تھا، بتوں کی پوجا ہوا کرتی تھی، بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اور جس دن آپ ﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی اور دنیا کو ہدایت میسر آئی، آپ ﷺ پیر کو روزہ اس لئے رکھتے تھے کیونکہ آپﷺ کی ولادت کا دن پیر ہے،اعمال کا دار ومدار نیتوں پرہے،مسلم شریف کے الفاظ ہیں جس نے اسلام میں ایک اچھا طریقہ جاری کیا تو جتنے لوگ اس پر چلیں گے ان کو بھی اور جو عمل کرے گا اس کو بھی ثواب ملتا رہے گا،آپ ﷺ سے بڑھ کر کون سی نعمت ہو سکتی ہے اور مسلمانوں کی اکثریت نہ صرف ربیع الاوّل بلکہ ربیع الاوّل کے بعد بھی آپ ﷺ کا میلاد النبی ﷺ اس ہی عقیدت و احترام سے مناتی ہے۔میلاد النبی ان نیتوں سے منائیں کہ 5 وقت کے نمازی بن جائیں،قرآن پاک کو پڑھنے ،سمجھنے اور عمل کرنے والے بن جائیں ، آقا علیہ السلام کی سنتوں پر عمل کرنے والے بن جائیں، ہمارا جاگنا ،سونا بولنا، چلنا،پھرناسنت کے مطابق ہو جائے، ہم والدین کے حقوق، پڑوسیوں اور رشتے داروں کے حقوق ادا کرنے والے بن جا ئیں ،نیکی کا حکم اور برائیوں سے منع کرنے والے بن جائیں،اپنے آپ کو اور اپنے اہل و اعیال کو جہنم کی آگ سے بچانے والے بن جائیں، عید میلاد النبی ﷺ کا یہی پیغام ہے، ہم نے اپنی کوششوں سے اس معاشرے کو اور اس دنیا کو اچھائی کی جانب لے کر جانا ہے، ضرورت اس امر کی ہے ایسے ماحول سے وابستہ ہو جائیں جہاں ہمارا خاتمہ ایمان پر ہو جائے، جب آپ ﷺ کی ولادت ہوئی تو آپ ﷺ نے اللہ عزوجل سے فرمایا اے میرے رب میری امت میرے حوالے کر دے جب معراج کا وقت آیا تب امت کو یاد کیا ،جب موت کی سختی کا ذکر ہو رہا تھا تب امت کی فکر کی اور جب روز محشر برپا ہو گا تو امت کو کیسے بھولیں گے، اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے اے حبیب ﷺ ہم نے آپﷺ کا ذکر بلند کر دیا ، وہ امت کتنی خوش نصیب ہے جس کا امتی بننے کی خواہش انبیاء علیہ السلام کریں۔
یورپ سے سے مزید