• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوبل انعام: تنقید اور ستائش کے درمیان جاری سفر

ہر سال کی طرح اس سال بھی نوبل انعام جیتنے والے افراد کے ناموں کا اعلان کردیا گیا ہے۔یہ انعام دینے کا آغاز 1901میں ہوا تھا۔ یہ ہر سال دیا جاتاہے اور دنیا میں سب سے اہم ایوارڈہے۔ اس کی اہمیت مسلمہ، ہر جگہ اس کا احترام اور پذیرائی ہے۔ دنیا اس انعام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ الفریڈ نویل کی وصیت کے مطابق اس کی ایجادات اوراس کے قایم کردہ اداروں سے جو آمدن ہوتی ہے اس کا چوارنوے فیصد حصہ نوبل انعامات پانے والوں میں تقسیم کیا جاتا ہےاور باقی چھ فیصد رقم انتظامی اخراجات کی مد میں صرف کی جاتی ہے۔ تاحال الفریڈ نوبل کی وصیت پر عمل ہو رہا ہے اور نارویجین نوبل اکیڈمی ، رائل سوئیڈن کمیٹی اور سوئیڈش اکیڈمی قابل ستائش طور پر کام کر رہی ہیں۔

الفریڈ نوبل،ایک ذہین شخص

الفریڈ نوبل 1833میں سوئیڈن میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ کیمسٹری کے امتحان میں کامیابی کے بعداس نے انجینئرنگ کی سند حاصل کی اور پھر صنعتی میدان میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ تیس سال کی عمر تک وہ ایک دھماکاخیز مواد تیار کرنے میں کام یاب ہو گیا جو ڈائنامائٹ کہلایا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس ایجاد کی یورپ میں دھوم مچ گئی۔ اس ایجادکے بعد الفریڈ نے اٹھارہ سو چورانوے میں بوفرس اور فولاد کا کارخانہ خریدلیاجس کے بعد الفریڈ کی ایجادات کا سلسلہ تیزی سے دراز ہوا۔ بوفرس میں توپیں تیار ہوتی تھیں۔

اس کے علاوہ الفریڈنے مختلف ہتھیاروں سمیت ساڑھے پانچ سو زائد ایجادات کیں۔ اب اس کی آمدن میں کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا اور اس کے ڈائنامائٹ کی شہرت امریکا تک پہنچ چکی تھی۔ وہ بچپن ہی سے ذہین واقع ہوا تھا۔ اس کا اسکول کاریکارڈ بھی اچھا تھا۔ اس کا خاندان ناروے آگیا، جہاں الفریڈ نے اپنا کاروبار مزید مستحکم کیا اور تحقیق کے کام میں پوری طرح مشغول ہوگیا۔ سوئیڈن کی طرح ناروے میں بھی الفریڈ کی صلاحیتوں اور کام کی بہت شہرت ہوئی۔

ڈائنامائٹ کی ایجاد اور اسی طرح مزید دھماکا خیز مواد کی ایجاد نے اس دور کے میدانِ جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ ہر ملک کی فوج کے توپ خانے کو فوج کی اہم طاقت تصور کیا جانے لگا ۔ الفریڈ نے اپنے کارخانے میں جو فولاد تیار کیا اس کے معیار پر خاص محنت کی جس سے بوفرس توپیں تیار ہوتی تھیں جو آج بھی بہت شہرت رکھتی ہیں۔ الفریڈ نےاپنی تمام ایجادات کو سوئیڈن اور ناروے میں پیٹنٹ کرایا۔ اس دور میں یورپ صنعتی طور پر تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ایجادات اوردریافتوں کا سلسلہ فروغ پا رہا تھا۔ ایسے میں صنعتی راز، فارمولے اور ایجادات چرانے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔

اس لئے حکومتوں نے اس ضمن میں ہر چند کہ سخت اصول اور قوانین وضع کر رکھے تھے، پھر بھی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وارداتیں ہوتی رہتی تھیں۔ الفریڈ نوبل نے اپنی ایجادات اور آمدن کے حوالےسے ایک خاص اہمیت حاصل کر لی تھی۔ درحقیقت سوئیڈن ، ناروے، ڈنمارک اور فن لینڈکے آپس کے تعلقات بہت اچھےتھےاور ہیں۔ اب ان ملکوں کو اسکینڈےنیوین ممالک کہا جاتا ہے۔ ان چاروں ممالک کے معاشرے دنیا کے سب سے پر امن، مہذب اور صاف ستھرے گردانے جاتے ہیں۔

آخری وصیت

الفریڈ نوبل نے اپنی زندگی میں بہت سی وصیتیں لکھیں۔ مگر انتقال سے ایک سال قبل جو آخری وصیت لکھی اسے اپنے قانونی مشیر کے حوالے کیا جس کے مطابق نوبل پرائز کا اجراہوا۔ ابتدا میں انعامات کے لیے پانچ شعبے رکھے گئے تھے، یعنی فزکس، کیمسٹری، میڈیسن / فزیا لوجی ،ادب اور امن۔ پھر ایک عرصے بعد ایوارڈ کمیٹی نے معاشیات کو بھی اس میں شامل کر لیا۔ اس طرح نوبل انعام چھ شعبوں میں دیا جاتا ہے۔ الفریڈ نے اپنی وصیت میں نارویجین نوبل کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔لہذا نارویجین کمیٹی قائم کی گئی جو پانچ اراکین پر مشتمل ہوتی ہے۔ان پانچ اراکین کا انتخاب ناروے کی پارلیمان کرتی ہے۔ 

نوبل انعام کا حقدار وہ فرد ہوتا ہے جس نے مذکورہ شعبوں میں سے کسی ایک میں نمایاں کردار ادا کیاہو اورکوئی کارنامہ انجام دیا ہو، ایجاد کی ہو، علم اور تحقیق کو آگے بڑھایا ہو، کوئی نیا نظریہ قائم کیا ہو یا نئی راہ دکھائی ہو۔ جواس معیار پر پورا اترتاہے کمیٹی اسے ایوارڈ کے لئے نام زد کرتی ہے۔ اگر ایک ہی شعبے میں ایک سے زائد شخصیات نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہو تو پھر اس شعبے کا انعام زیادہ سے زیادہ تین شخصیات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ انعام پانے والے ہر فردکوانعام کے ساتھ ڈپلومہ اور نقد گیارہ لاکھ پچاس ہزار ڈالرزدیے جاتے ہیں۔ نوبل پرائز سونےکا بھاری تمغہ ہوتا ے جس پر الفریڈ نوبل کی تصویر کندہ ہوتی ہے ۔

الفریڈ نوبل کو یہ احساس تھا کہ اس نے جو ڈائنامائٹ ایجاد کیاہے اسے پر امن سے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ سائنس داں کا مشن اپنی تحقیق کو آگے بڑھانا اور ایجادات میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔یہ کام وہ ریاستوں، معاشروں اور ذمے دار افراد پر چھوڑتا ہے کہ انہیں کس طرح استعمال کرنا ہے۔ مثلاً عظیم سائنس داں آئن اسٹائن نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ایٹم کا فارمولا دریافت کر لیا تھا اور اس کے ذریعے بیش تر چیزیں تیار کرنے کی بھی آگہی حاصل کر لی تھی جس میں جوہری بم کی تیاری بھی شامل تھی، مگر اس دور میں جرمنی کے حالات مخدوش تھے اورجرمن فسطائیت کا نظریہ پروان چڑھ چکا تھا۔ ایسے میں آئن اسٹائن نے امریکا ہجرت کی اور اپنا کام پورا کیا۔اسی طرح الفریڈ نوبل نے اپنی کچھ ایجادات اور فارمولے بعض یورپی ملکوں کو فروخت کیے۔

انعامات پانے والےافراد اور ادارے

انیس سو ایک سے دو ہزار اکیس تک مجموعی طور پر 939نوبل انعامات مختلف شخصیات کو دیے جاچکے ہیں۔ اس عرصےمیں 28 اداروں کو بھی نوبل پرائز دیے گئے، مثلا 2020 کا امن کا نوبل پرائز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کو دیا گیا تھا۔ اداروں کو امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ تمام عرصے میں 107شخصیات نے امن کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ ادب کا نوبل پرائزمن جملہ 118 شخصیات کو دیا گیا۔ ان میں ہندوستان کے بنگالی زبان کے نمایاں شاعر رابندر ناتھ ٹیگور بھی شامل ہیں۔ انہیں ان کی نظموں کے مجموعہ کلام’’ گیتا انجلی‘‘پرانعام دیا گیا تھا۔ 

لیکن کہا جاتا ہے کہ ٹیگور نے وہ انعام یہ کہہ کر بہ طور احتجاج سوئیڈش اکیڈمی کو واپس کر دیاتھا کہ ہندوستان برطانیہ کے تسلط سے آزاد ہونے کی جدوجہد کر رہاہے اور میں یورپی استحصال پسندوں کے خلاف احتجاج کرتا ہوں۔ مگر کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے انعام اور توصیف نامہ واپس کیا البتہ نقد رقم جو آٹھ ہزار پونڈ تھی وہ لے کر وشوا بھارتی یونیورسٹی کی تعمیرپر خرچ کی تھی۔ بعض حلقوں کا استدلال ہے کہ ٹیگور پہلے غیر یورپی اور رنگ دار نسل سے تعلق رکھنے والے فرد تھے جنہیں نوبل پرائز دیا گیا تھا لہذا انہیں اسے واپس نہیں کرنا چاہیے تھا۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو 1913سے 2014تک فزکس، کیمسٹری، میڈیسن، اکنامکس، ادب اور امن کے شعبوں میں نوبل پرائز دیے گئے۔1979 اور 2014 میں دو پاکستانیوں کو نوبل پرائز سے نوازا گیا جو ڈاکٹر عبدالسلام کو فزکس اور ملالہ یوسف زئی کو امن کے شعبے میں دیا گیا۔1901میں فزکس کاپہلا نوبل انعام جرمن سائنس داں ویلہام رونگٹن، کیمسٹری کا انعام جرمن نژاد جیکب ہاف ، میڈیسن کا پہلا انعام پولینڈ کے ایمل وان ، ادب کا پہلا انعام فزانس کے موبے بیردہام اور امن کا پہلا نوبل انعام سوئٹزرلینڈ کے ہنری ڈونیسٹ نے حاصل کیا تھا۔ 1901سے 2021تک سوئیڈش اکیڈمی کل نو سو چونسٹھ نوبل انعامات تقسیم کر چکی ہے جنہیں وصول کرنے والوں میں نو سو انتالیس افراد اور پچیس ادارے شامل ہیں۔ اس عرصے میں پچپن خواتین نے نوبل انعام حاصل کیا۔ خواتین نے زیادہ ترانعام امن اور ادب کے شعبوں میں حاصل کیے ہیں۔

دنیا میں نوبل انعام کا اس کی ابتداہی سے چرچا رہا ہے۔ اگر سچ پوچھا جائے تو آج کی دنیا کا انحصار ہتھیاروں کے انبارپر نہیں ہے بلکہ علم، سائنس اور تحقیق پر ہے۔ امریکا نے تاحال تین سوپچھہتّر نوبل انعامات، برطانیہ نے ایک سو اکتیس، جرمنی نے ایک سو چھ، فرانس نے ستّر، سوئیڈن اور روس نے اکتیس، اکتیس، جاپان نے ستائیس کینیڈانے چھبیس، سوٹزر لینڈنے چھبیس اور ہالینڈنے اکیس نوبل انعامات حاصل کیے ہیں۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ اعداد و شمار بہت دل چسپ ہیں۔ 

مثلاً سوٹزر لینڈ کی مجموعی آبادی 86لاکھ کے قریب ہے اور اس نے تاحال 24نوبل انعامات حاصل کیے،جب کہ دنیا میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی ایک ارب تیس کروڑ کے قریب ہے لیکن انہوں نے صرف بارہ انعامات حاصل کیے ہیں (ڈاکٹر عبدالسلام ان بارہ کے علاوہ ہیں)۔ اسی طرح مجموعی آبادی کے تناسب سے عیسائیوں نے 66 فیصد ، یہودیوں نے 22 فیصد، لا مذہبوں نے 7.2 فیصد، ہندو وں نے 1.0فیصد ، بودھ مت کے ماننے والوں نے1.6 فیصد، مسلمانوں نے (تقریبا) 0.8 فیصد اور متفرق مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں نے 3.4 فیصد نے نوبل انعامات حاصل کیے ہیں۔

خواتین نے اب تک جو 55نوبل انعامات حاصل کیے ہیں ان کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے: فزکس میں 4،کیمسٹری میں7،میڈیسن میں 11، ادب میں 16اور امن کے شعبے میں 17انعامات حاصل کیے۔ 2021کے لیے فزکس کے شعبے میں جاپان کے سیکوروناب اور جرمنی کے کلاس ہیمان کو اور جاپان کے گرگو یرس کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔ کیمسٹری میں برطانیہ کے ڈاکٹر میکمین کو دیا گیا۔ ادب کا نوبل انعام زنجبار تنزانیہ کے عبدالرزاق گرفا کو دیا گیا۔ امن کا نوبل انعام فلپائن کی ماریہ ریسا اور روس کے ڈیمرین مارٹوف کو دیا گیا۔معاشیات کے شعبے میں نوبل انعام کینیڈا کے ڈیوڈ کارڈ اور ہالینڈ کے گیڈوایمن کو دیا گیا۔

ادب کانوبل انعام اب تک118 اور امن کا نوبل انعام 135 شخصیات کو دیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں28 ایسے ادارے بھی ہیں جن کی خدمات کو سراہتے ہوئے امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نےاپنی ایک حالیہ اشاعت میں نوبل انعام برائے امن 2021، حاصل کرنے والے صحافیوں فلپائن کی مایہ ریسا اور روس کے ڈیمرین مارٹوف کی جرات مندانہ صحافت کو سراہتے ہوئے لکھا کہ آمرانہ سیاسی ماحول اور دیگر رکاوٹوں کے باوجود ماریہ اور مار ٹوف نے بہت جرات اور حوصلے کےساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں پوری کی ہیں۔

تنقید اور تحسین

نوبل انعام کے اعلان کے ساتھ ہی اکثر امن، ادب اور معاشیات کے شعبوں کے انعامات پر تنقید یا بحث کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ کچھ حلقے نوبل انعام کو قابلیت یا تحقیق کا معیار تسلیم نہیں کرتے ہیں، ہرچند کہ ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے مگر ان کی آواز دور تک جاتی ہے۔مگر نوبل انعام کو سراہنے والوں کی تعداد زائد ہے ۔ 1903ءکا فزکس کا انعام پھر 1916ء کا کیمسٹری کا نوبل انعام ،دونوں معروف سائنس داں مادام میری کیوری کو دیا گیا اور پھر 1921ء میں معروف سائنس داں آئن اسٹائن کو فزکس کا نوبل ایوارڈ دیا تو اسےبہت سراہا گیا تھا۔ 

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں سائنس دانوں کی شہرت پہلے ہی دور تک پھیل چکی تھی ، لہذا انہیں نوبل انعام نہ بھی ملتا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

مگر سچ یہ ہے کہ ان دو شخصیات نے نوبل انعام وصول کرکے اس کی اہمیت میں اصافہ کیا ہے۔ بعض شخصیات بڑا انعام حاصل کرکے اپنا قد بڑا کرلیتی ہیں اور بعض شخصیات کو بڑا انعام دیا جائے تو ان کی شخصیت اور کام کی اہمیت کی وجہ سے انعام کو مزید توقیر مل جاتی ہے۔ 

اب نوبل انعام بہت اہمیت اختیار کرچکا ہے ا ور بیش تر سائنس دانوں اور اسکالرز کی تمنا ہوتی ہے کہ انہیں بھی نوبل انعام مل جائے۔ اصل اہمیت کام اور اس کی نوعیت کی ہوتی ہے، اگر کام انسانیت کی فلاح اور فروغ کے لیےہے تو اس کی بہت اہمیت اور دیرپا افادیت ہوتی ہے۔ ایوارڈ، انعام محض اس کام کی اہمیت کی نشان دہی کی ایک کوشش اورعلامت ہوتے ہیں۔

بہت سے مواقع پر نوبل پرائز کمیٹی پربھی تنقید ہوتی رہی ہے کہ کمیٹی نے ان شخصیات کو بھی نوبل پرائز دیا جو جنگ و جدل، نسلی، لسانی یا مذہبی تعصبات میں لتھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے امن کا کوئی کام نہیں کیا،جو کیا اس کے برعکس کیا۔ مثلاً اسرائیل کے وزراء اعظم میناخم بیگن اور شمعون پیرز نے فلسطینی عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے مگر ان دونوں کو امن کا نوبل پرائز دیا گیا۔

سابق صدر ڈونلڈٹرمپ کا کوئی کارنامہ ایسا نہ تھا،مگر انہیں امن کا نوبل پرائز دینے کی سفارش کی گئی۔ اسی طرح امریکی صدر براک اوباما اپنی پہلی مدت میں چاہتے تھے کہ افغانستان سے امریکی افواج کو بلوالیں مگر پنٹاگون کے جرنیلوں کے دباؤ پر ایسا نہ کرسکے، لیکن انہیں امن کا نوبل پرائز دیا گیا۔2012ء میں یورپی یونین کو امن کا نوبل انعام دیا گیا جس پر ہر طرف سے تنقید کی گئی۔ اس کی وجہ یورپی یونین کی مشرق وسطی میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت تھی جس سے وہاں جنگ و جدل میں تیزی آئی تھی۔1973ء امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر کو نوبل انعام برائے امن دیا گیا اس پر بھی شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔

1918ء میں جرمن سائنس داں فیز ہربر کو کیمسٹری میں نوبل انعام دیا گیاتھا۔ اس پر بھی بہت تنقید ہوئی کہ اس سائنس داں نے نائٹروجن اور ہائیڈرون گیسوں کو ملا کر کیمیاوی ہتھیار تیار کیا تھا جس سے بڑا جانی نقصان ہوا وہ مزید کیمیاوی ہتھیاروں پر تجربات کررہا تھا۔ ایسے میں اس نوبل انعام سے نوازنا بنیادی طور پر نوبل پرائز کے منشور کے برعکس عمل تھا۔نوبل پرائز کمیٹیوں پر اس حوالے سے بھی شدید تنقید ہوتی رہی کہ مہاتما گاندھی کو سات بارنام زد توکیا گیامگر انعام نہیں دیا گیا۔ 

پھر ان کے انتقال کے فوری بعد انہیں نوبل انعام دینے کا اعلان کیاگیا۔فرانس کے معروف مصنف اوردانشور سارتر، ویتنام کے لی ڈک نے نوبل انعام لینے سےانکار کردیا تھا۔ روس کے معروف مصنف بورس پیٹرنک کو سوویت یونین کی اس وقت کی حکومت نے انعام لینے کے لیے جانے سے روک دیاتھا۔ان کی موت کے بعد 1973ء میں نوبل انعام ان کے لواحقین کو دیا گیاتھا۔

دراصل امن اور ادب کے نوبل انعام پر اکثر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ادب کا نوبل انعام دیے جانے میں اس لیے پیچیدگی کا سامنا رہتاہے کہ دنیا میں بے شمار زبانوں میں تخلیق کیےجانے والے ادب کاایک سال میں مطالعہ کرنا اور معیارکو پرکھنا دشوار کام ہے پھر بھی سوئیڈش نوبل کمیٹی اس کام کو حتی الامکان غیر جانب داری سے انجام دیتی ہے۔ پھر ادیبوں اور شاعروں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ طبقہ زیادہ حساس ہوتا ہے۔ پھر اکثر سیاسی جوڑ توڑ بھی ہوتی ہے اور بعض مصلحتیں بھی آڑے آتی ہیں، مگر یہ کٹھن کام ایک سو اکیس برسوں سے ہورہاہے جو بڑی بات ہے۔ بادسموم میں نوبل پرائز ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف ہے۔

سربراہانِ مملکت جنہیں نوبل انعام برائے امن دیا گیا

٭1906ء۔ تھیوڈرو روز ویلٹ، صدر امریکا، امن کانوبل انعام دیا گیا۔

٭ 1919ء۔ وڈروولسن، صدر امریکا، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭ 1921ء ۔ہیمر برنٹنگ، سوئیڈن کے وزیراعظم، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭ 1953ء۔ ونسٹن چرچل، برطانوی وزیراعظم، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭ 1971ء۔ویٹی برانڈ، جرمنی، چانسلر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭1978ء ۔انوارالسادات، مصر، صدر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭ 1978ء۔میناخم بیگن، اسرائیل، وزیراعظم ، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭1987ء۔ آسکرایڈیا، کوسٹاریکا، صدر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭1990ء ۔میخائل گوربا چوف، روس، صدر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭1993ء ۔ولیم ڈی کلارک، جنوبی افریقا، صدر،امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭1994ء۔نیکرف رابن، اسرائیل، وزیراعظم ، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭1994ء۔یاسر عرفات، فلسطین، عبوری سربراہ ،امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭2000ء ۔کم ڈی جونگ، جنوبی کوریا، صدر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭2009ء۔ براک اوباما، امریکا، صدر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭2011ء ۔ایلسن جانسن، لائبریا، صدر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭2016ء ۔مینوئل سافتوس، کولمبیا، صدر، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

٭2019ء۔ ابی احمد، ایتھوپیا، وزیراعظم، امن کا نوبل انعام دیا گیا۔

سابق سربراہان مملکت جنہیں نوبل انعام برائے امن دیا گیا

٭1909ء ۔آگسٹابیمر،بیلجئم، سابق وزیراعظم۔

٭1920ء۔لیون بورگس،فرانس،سابق وزیر اعظم۔

٭1926ء۔گوسٹا اسٹرسمان، جرمنی، سابق چانسلر۔

٭1957ء۔ لیئرپیرسن، کینیڈا، سابق وزیراعظم ۔

٭1974ءارسکوساتو، جاپان، سابق وزیراعظم۔

٭ 1983ء ۔لیخ ویلسا، پولینڈ، سابق صدر۔

٭1993ء۔ نیلسن منڈیلا، جنوبی افریقا، سابق صدر۔

٭1994ء۔شمعون پیرز،اسرائیل،سابق وزیر اعظم۔

٭ 1996ء۔ جوشے راموس، تیمونسا، سابق صدر۔

٭ 2002ء ۔جمی کارٹر، امریکا، سابق صدر۔

٭2008ء۔مریتی احتیراری، فن لینڈ، سابق صدر۔

اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والےنوبل انعام یافتہ سائنس داں، اسکالرز اور ادبی شخصیات

 &٭ 1999ء … احمد زبیوال،مصر، کیمسٹری

٭ 2015ء…عزیز سنکار، ترکی، کیمسٹری

٭ 1988ء… نجیب محفوظ، مصر، ادب

٭2006ء… درخان پانک، ترکی، ادب

٭ 2021ء… عبدالرزاق گرونا، تنزانیہ، ادب

٭1978ء… انوارالسادات، مصر، امن

٭ 1994ء… یاسر عرفات، فلسطین، امن

٭ 2003ء… شیریں عبادی، ایران، امن

٭2005ء… محمود البرادی، مصر، امن

٭ 2006ء… محمد یونس، بنگلادیش،معاشیات

٭ 2011ء… توکل کرمان، یمن، امن

٭ 1978ء… ڈاکٹر محمد عبدالسلام، پاکستان، فزکس

٭ 2014ء… ملالہ یوسف زئی، پاکستان، امن

 انعام یافتگان کے دس نمایاں ممالک

٭ امریکا نے 375؍ انعام حاصل کیے

٭برطانیہ نے 131؍ انعام حاصل کیے

٭جرمنی نے 105؍ انعام حاصل کیے

٭ فرانس نے 69؍ انعام حاصل کیے

٭سوئیڈن نے 32؍ انعام حاصل کیے

٭ روس نے 31؍ انعام حاصل کیے

٭ جاپان نے 27؍ انعام حاصل کیے

٭ کینیڈا نے 26؍ انعام حاصل کیے

٭ سوئٹزرلینڈ نے 26؍ انعام حاصل کیے

٭ہالینڈ نے 21؍ انعام حاصل کیے