• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیملی ڈاکٹرز کی مریضوں سے ملاقات قابل قبول نہیں، ساجد جاوید

راچڈیل (ہارون مرزا)سیکرٹری صحت ساجد جاوید نے کورونا بحران کا زور ٹوٹ جانے کے بعد ملک میں فیملی ڈاکٹرز کی مریضوں سے رو برو ملاقات کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جنوبی انگلینڈ ، سرے ، سسیکس، جنوب مغربی لندن میں جی پی کی نمائندگی کرنے والی مقامی میڈیکل کمپنی (ایل سی ایم ) کے سربراہ کی طرف سے ایک خط کے ذریعے متنبہ کیا گیا ہے کہ حالیہ تجاویز کے کسی بھی پہلو میں حصہ نہ لیا جائے ،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بغاوت ملک کے دیگر حصوں میں جی پی سرجریوں تک پھیل سکتی ہے جس کی وجہ سے ذاتی طو رپر ڈاکٹرز سے ملاقات کیلئے لاکھوں افراد کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (بی ایم اے ) کی طرف سے حکومتی تجاویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ حالیہ تجویز سے انتہائی ناخوش ہے اور مستقبل کیلئے اقدامات سے متعلق لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے قبل 80فیصد مشاورت ذاتی طور پر ہوتی تھی جو بحران کے دوران کم ہو کر صرف 57فیصد پر آ چکی ہے، گزشتہ ہفتے حکومت نے 9نکاتی ایک منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا تھا کہ تمام مریضوں کو ڈاکٹرز آمنے سامنے دیکھ سکیں ۔جی پیز کو بتایا گیا ہے کہ اگر مریض کی طبی وجوہات اچھی ہوں تو ذاتی طو رپر مشاورت سے انکار کیا جا سکتا ہے، موجودہ حالات کے پیش نظر مزید عملے کی خدمات لینے کیلئے 250ملین پائونڈ اضافی رقم درکار ہے، نئے شفافیت کے قواعد کے تحت ، انفرادی جی پی طریقوں سے پیش کردہ تقرریوں کی سطح کو ظاہر کرنے والا ڈیٹا بھی شائع کیا جائے گا،وہ مشقیں جو مریضوں تک رسائی کو بہتر بنانے میں ناکام ہو جائیں گی انہیں (نیم اینڈ شیم)دیا جائے گا اور براہ راست مداخلت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن منصوبوں کو ڈاکٹرز کی یونینز کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایسٹ سسیکس ، سرے ، ویسٹ سسیکس ، کنگسٹن ، رچمنڈ اور کرائیڈن میں 33سو جی پیز کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم نے اشارہ دیا ہے کہ ڈاکٹرز سے متعلق صرف نئی رہنمائی کو نظر انداز کرنا چاہیے، وہ این ایچ ایس انگلینڈ کے تباہ کن منصوبے کے ساتھ مشغول نہ ہوں، اس وقت ایل ایم سی اس اقدام سے منسلک طریقوں کی سفارش نہیں کرتی ہے اور نہ ہی اس کا جواب دیتی ہے ۔اس کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس خط کا جواب دیتے ہوئے مہم کے گروپ سلور وائسز سے تعلق رکھنے والے ڈینس ریڈ نے کہاحکومت کو اس کلیے میں ڈالنے کی ضرورت ہے یہ اس قسم کی انارکی کو غالب آنے کی اجازت نہیں دے سکتاجن ڈاکٹرز نے غیر ضروری طور پر کام میں اضافہ کیا ہے انہیں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ رضاکارانہ طور پر اقدامات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو پھر ہمیں آمنے سامنے کی ملاقاتوں کیلئے قانونی حق کا مطالبہ کرنا پڑے گا۔
یورپ سے سے مزید