• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موبائل بینکاری کے صارفین کی تعداد 29 فیصد بڑھ گئی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)بینک دولت پاکستان نے نظامِ ادائیگی کا سالانہ جائزہ (پی ایس آر)برائے مالی سال 21-2020 جمعہ کو جاری کر دیا جس سے ملک میں ڈیجیٹل مالی لین دین کے شعبے میں مستحکم نمو کا اظہار ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں ایک وسیع اور کارگر نظامِ ادائیگی کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ نظامِ ادائیگی کے سالانہ جائزے کے مطابق اسٹیٹ بینک کے بڑی مالیت کی (تھوک)ادائیگی کے زمرے سے، جسے ریئل ٹائم انٹربینک سٹیلمنٹ میکنزم (پرزم)کہا جاتا ہے، نمٹائے گئے لین دین کی تعداد (حجم )میں سال بسال 60.0 فیصد نمو ہوئی جبکہ مالیت کے لحاظ سے 12.8 فیصد نمو دیکھی گئی۔ اسی طرح، برقی بینکاری سے مجموعی لین دین سال بسال 31.1 فیصد بڑھ گیا جس سے ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل ذرائع اختیار کرنے میں خاصے اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس نمو کو موبائل بینکاری اور انٹرنیٹ بینکاری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ملی۔ موبائل بینکاری کے صارفین کی تعداد 29 فیصد بڑھ گئی جبکہ لین دین کے حجم میں 133.6فیصد اور مالیت میں 178.7فیصد اضافہ ہوا۔ انٹرنیٹ بینکاری کے صارفین کی تعداد 32 فیصد بڑھی جبکہ لین دین کے حجم میں 65.1فیصد اور مالیت میں 91.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ حوصلہ افزا نمو دراصل 27 بینکوں کی طرف سے ایپ کے ذریعے بینکاری سہولت فراہم کیے جانے اور دیگر اداروں کی جانب سے ڈیجیٹل لین دین کی قبولیت کے لیے ادائیگی کے جدت طراز طریقوں کی پیشکش سے ممکن ہوئی۔مالی سال 21 کے دوران خردہ تجارت میں لین دین کے لیے ڈجیٹل ادائیگی اپنانے کا رجحان بڑھتا رہا۔ اسٹیٹ بینک کی فعال کوششوں کی بنا پر، کارڈ قبول کرنے والی پی او ایس مشینوں کی تعداد 47 فیصد بڑھ گئی۔ ان مشینوں سے ہونے والے لین دین کی تعداد 88.8ن تک اور مجموعی مالیت 453.1 ارب روپے تک جا پہنچی، جس سے لین دین میں بلحاظ حجم سال بسال 26.3 فیصد اور بلحاظ مالیت 24.4 فیصد نمو ظاہر ہوتی ہے۔ اسی رجحان کی عکاسی ای کامرس لین دین سے بھی ہوتی ہے۔ ای کامرس تاجروں کی تعداد76فیصد کی دوہندسی نمو کے ساتھ بڑھ کر3,003 تک پہنچ گئی۔ مالی سال21 میں صارفین نے ان مقامی رجسٹرڈ ای کامرس تاجروں کے ذریعے60.6ارب روپے مالیت کے 21.9ملین آن لائن لین دین انجام دیے جو حجم کے لحاظ سے114.8فیصد اور مالیت کے لحاظ سے74.1فیصد کی معقول نمو ظاہر کرتا ہے۔ یہ رجحانات ڈیجیٹل طور پر ایک زیادہ مربوط معیشت کو فروغ دینے کی کوششوں کے ضمن میں صحت مند نمو کے عکاس ہیں۔ اسی طرح کارڈ جاری کرنے کے لحاظ سے آخر جون2021 تک ملک میں مجموعی طور پر45.9ملین کارڈ زیر استعمال تھے جو بیشتر ڈیبٹ کارڈ 65فیصد، سماجی بہبود کارڈ 18.4فیصد، صرف اے ٹی ایم کارڈ12.6فیصد، کریڈٹ کارڈ 3.7فیصد اور پری پیڈ کارڈز 0.3فیصدپر مشتمل تھے۔ مالی سال2021میں ان کارڈوں کے ذریعے مجموعی طور پر 8.4ٹریلین پاکستانی روپے مالیت کے708.7ملین لین دین انجام دیے گئے۔ مالی سال2021 کے اختتام تک ڈیبٹ کارڈ کی مجموعی تعداد29.8ملین رہی جو 11.8فیصد سال بسال نمو اور گذشتہ چار برسوں میں13.8فیصد کی سالانہ نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ اے ٹی ایم کے ذریعے پراسیس ہونے والا لین دین بھی بڑھ کر598.7ملین تک پہنچ گیا، جس کی مجموعی مالیت8.1ٹریلین روپے رہی۔ یہ سال بسال بنیادوں پر حجم کے لحاظ سے16.9فیصد اور مالیت کے لحاظ سے25.6فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔

بزنس سے مزید