• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعمیراتی صنعت میں 3D پرنٹنگ کا بڑھتا استعمال

دنیا بھر میں کئی اسٹارٹ- اَپ کمپنیاں پائیدار، مؤثر اور کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ کو پرکشش ترین انتخاب کے طور پر پیش کررہی ہیں۔ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں مزید اختراع برق رفتاری سے جاری ہے، جس کے بعد امریکا کی کئی بڑی تعمیرساز کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہیں۔

حال ہی میں کیلی فورنیا میں کام کرنے والی ایک تھری ڈی پرنٹنگ تعمیراتی کمپنی نے جدید سیمنٹ تیار کرنے والی ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ ا س کمپنی کی جانب سے تیار کیے جانے والے سیمنٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ روایتی سیمنٹ کے مقابلے میں 60 فی صد کم کاربن خارج کرتا ہے۔ یہ معاہدہ کیلی فورنیا کی اس تعمیرساز کمپنی کو ناصرف امریکا میں ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا بلکہ اس معاہدے کے باعث یہ کمپنی 2028ء تک کاربن نیوٹرل بننے کا ہدف بھی حاصل کرلے گی۔ اس طرح امریکا بھر میں پائیدار تعمیراتی صنعت کو فروغ حاصل ہوگا۔

کیلی فورنیا کی یہ تعمیراتی کمپنی پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر15گھروں پر مشتمل ایک کمیونٹی ہاؤسنگ اسکیم کی تعمیر میں پائیداررجحانات کا فروغ یقینی بنارہی ہے۔ تمام تعمیراتی عمل کے دوران، صفر فی صد ضیاع کو یقینی بنانے کے علاوہ، تعمیر ہونے والے گھر توانائی کے حصول اور استعمال میں خود کفیل ہوں گے۔

’’دنیا کو تعمیراتی عمل میں ایسے پائیدار رجحانات کو اپنانے کی ضرورت ہے، جس سے ناصرف اس کی اثر پذیری میں اضافہ ہو بلکہ پیداواریت بھی بڑھے تاکہ گھروں کی کمی کے بحران سے نمٹا جاسکے۔ تاہم، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک ایسا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جس سے ماحولیاتی تبدیلی کے بحران میں اضافہ نہ ہو‘‘، ایسا کہنا ہے کیلی فورنیا میں تھری ڈی پرنٹڈ ہاؤسنگ کمیونٹی تعمیر کرنے والی کمپنی کے چیف سسٹین ایبلٹی آفیسر سام روبن کا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ، ’’میرا خیال ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی اگر واحد انتخاب نہ ہو تو بھی یہ چند بہترین انتخاب میں سے ایک ضرورت ہے، جس میں ’نان-کنکریٹ بیسڈ سسٹم ‘کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، جیسا کہ ہمارے پاس ہے‘‘۔

اس کمیونٹی ہاؤسنگ کی نمایاں پائیدار خصوصیات میں سولر پاور، بیٹری اسٹوریج، کلائمیٹ کنٹرول کا جدید ترین نظام اور واٹر فلٹریشن سسٹمز، شامل ہیں۔ پائیدار ترقی کے جن اصولوں کے مطابق یہ کمیونٹی ہاؤسنگ منصوبہ مکمل کیا جارہا ہے وہ کیلی فورنیا کے متعین کردہ ریاستی اہداف سے بھی بڑھ کر ہے۔ اسی معیار کے روایتی گھروں کے مقابلے میں ان کی تعمیر پر40فی صد کم لاگت آئے گی۔

1450مربع فٹ تعمیراتی رقبے پر مبنی 3بیڈ روم اور 2باتھ روم پر مشتمل یہ گھر 5لاکھ 95ہزار ڈالر میں تعمیر ہوگا، جب کہ اس میں ایک سوئمنگ پول اور ڈیک بھی شامل ہوگا۔ منصوبے کے ڈیویلپرز اس کے لیے پائیداری اور ٹیکنالوجی سے شغف رکھنے والے ملینئلز کو اپنی ٹارگٹ مارکیٹ سمجھتے ہیں، جو اپنے لیے یا تو ویکیشن ہوم تلاش کررہے ہیں یا پھر کوئی ایسا گھر چاہتے ہیں، جہاں سے بیٹھ کر وہ اپنا کام بھی جاری رکھ سکیں۔ ڈیویلپرز کے مطابق، اس منصوبے میں ریٹائرڈ طبقہ بھی دلچسپی ظاہر کررہا ہے، جو اب نسبتاً چھوٹے اور کم توانائی خرچ گھروں میں رہنا چاہتا ہے۔

ٹارگٹ مارکیٹ کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈیویلپرز دلچسپی رکھنے والے خریداروں کے لیے سِرکیڈین لائٹنگ (لائٹنگ کا ایسا نظام جو دن کے مختلف اوقات میں سورج کی روشنی کی بدلتی نوعیت کے مطابق اپنی روشنی اور رنگ بدلتے ہوئے انسانی صحت اور مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے)، ہائی ٹیک ڈاروِن وئیل نیس سسٹم(یہ ایک ایسا نظام ہے جو روزانہ کی بنیاد پر آپ کو بہتر نیند لینے، بہتر سانس لینے اور بہتر محسوس کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جو دوسرے الفاظ میں ایک اسمارٹ ہوم اِنٹیگریشن اور کنٹرول سسٹم کہلاتا ہے)۔

ڈاروِن میں ایک ’’اِنہانسڈ سلیپ فیچر‘‘ بھی ہے، جو رات میں سونے کے وقت سے پہلے بیڈروم کے ماحول میں بیرونی دخل اندازی اور نیلی روشنی کو ختم کرکے روشنی کی آلودگی کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، دلچسپی رکھنے والے خریدار وں کے لیے ’’پرگولا گارڈن‘‘، ہاٹ ٹب، چمنی اور آؤٹ ڈور شاور جیسی اَپ گریڈ کی سہولتیں بھی موجود ہیں، جن کے لیے انھیں اضافی ادائیگی کرنا ہوگی۔

دنیا بھر میں زہریلی گیسوں کے اخراج میں 40فی صد کے لگ بھگ حصہ تعمیرشدہ عمارتوں کا ہے اور تعمیراتی صنعت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران کوشش کی ہے کہ اس شعبہ کے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جائے اور ماہرین کا خیال ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

دیگر تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی تعمیراتی کمپنیاں بھی ماحول دوست بننے پر کام کررہی ہیں۔ جمہوریہ چیک میں کام کرنے والی ایک کنسٹرکشن ٹیکنالوجی کمپنی، تھری ڈی پرنٹنگ کے خام مال میں کچرے کو بھی شامل کرنے پر کام کررہی ہے، تاکہ دنیا کو ماحولیاتی بحران سے محفوظ رکھا جاسکے۔

تعمیرات کی صنعت میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سپلائی چین کے مسائل بھی حل کررہی ہے۔ مثال کے طور پر ایک دیوار کی روایتی تعمیر اور سجاوٹ میں جہاں کئی طرح کا مختلف تعمیراتی مواد استعمال ہوتا ہے، وہاں تھری ڈی پرنٹنگ کا ایک ہی فارمولا رہتا ہے۔