• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لوگ لاک ڈاؤن میں خرید کردہ پالتو کتے آوارہ قرار دے کر چھوڑ رہے ہیں

لندن (پی اے) کورونا وائرس کوویڈ 19 لاک ڈائون کے دوران برطانیہ کے ہائوس ہولڈز نے پالتو کتوں کی خریداری پر 3.2 ملین پونڈ سے زائد رقم خرچ کی تھی لیکن ایک چیرٹی نے اب متنبہ کیا ہے کہ لوگوں نے پہلے ان کتوں کو گمٹری پر فروخت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بددل ہونے کے بعد ان کو آوارہ چھوڑ دیا، جن کو بعد میں ریسکیو سینٹرز میں لے جایا گیا۔ رونڈا کینن ٹاف میں ہوپ ریسکیو چیرٹی نے کہا کہ پونٹی کلون میں اس کے ریسکیو سینٹر میں خاصی تعداد میں کتوں کو چھوڑا گیا تھا، جن کی تعداد اس کی 15 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ تھی۔ چیرٹی کو توقع ہے کہ یہ رجحان اگلے دو سال تک جاری رہے گا۔ چیرٹی سٹاف نے کہا کہ کچھ ڈاگ اونرز نے ایک ڈاگ وارڈن کو بلایا اور دکھایا کہ ان کے اپنے پالتو جانور ہیں، کو آوارہ کے طور پر دکھایا یا کتوں کو براہ راست ایک ریسکیو سینٹر میں لے گئے اور وہاں یہ دعویٰ کیا کہ یہ کتے لاوارث پائے گئے تھے۔ انگلش شیپ ڈاگ ایک سالہ میگی کو آوارہ کے طور پر پایا گیا لیکن اگلے دن سٹاف نے دیکھا کہ گمٹری میں ایک حالیہ اشتہار میں اس کی بولی 500 پونڈ لگائی گئی تھی۔ ہوپرریسکیو سینٹر کی ہیلیفئر ہیڈ سارہ روسر نے کہا کہ ہم آوارہ کتوں کو لیتے ہیں لیکن حقیقی آوارہ کتوں کے بجائے اب جعلی آوارہ ظاہر کئے جانے والے کتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے، جن کو ان کے مالکان نے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعی ان کی تعداد بے مثال ہے۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے میں پانچ کتے سینٹر میں آئے تھے، جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ وہ جعلی آوارہ ظاہر کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ مرکز میں اس وقت 150 آوارہ کتے ہیں اور اتنی تعداد سینٹر میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ریسکیوز اب بھر گئے ہیں اور اب ویٹس ہمیں فون کرتے ہیں کہ مزید کتوں کو لینے کا کوئی چانس ہے کیونکہ ہمیں تشویش ہے کہ کتے کو مار دیا جائے گا۔ سینٹر کا کہنا ہے کہ یہ مایوس کن اور پریشان کن صورت حال ہے، ہماری طرح دوسرے بھی بحرانی کیفیت میں ہیں۔ سینٹرز میں گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ مس روسر کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون کے دوران لوگوں کے پاس کتوں کی تعداد بڑھ گئی تھی اوراب انہیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ زندگی معمول پر آنے کی وجہ سے وہ ان کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ہم تمام ریسکیو سینٹرز سے ایسی باتیں سن رہے ہیں کہ وہ بھی ہماری طرح بھر چکے ہیں اور ان کو شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یورپ سے سے مزید