• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد کشمیر کابینہ اجلاس سے مسلسل غیرحاضر وزراء کو برطرف کرنیکا حکم

مظفرآباد(سید عباس گردیزی) تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے آزاد کشمیر کے ان وزراء کیخلاف کارروائی اور ان کی برطرفی کاحکم دیا ہے جنہوں نے کابینہ کے مسلسل تینوں اجلاسوں میں شرکت نہیں کی اور قیادت کے احکامات سے رو گردانی کی ہے،ان وزراء سے قلمدان واپس لے کر دیگر ممبران اسمبلی کو وزیر بنانے اور محکموں کے قلمدان سونپنے کی ہدایات بھی کر دی گئی ہیں،ان وزراء کو 28اکتوبر کے اجلاس میں شرکت کی ڈیڈلائن دی گئی ہے ،وزیراعظم نیازی کو مکمل بااختیار اور باوقار فیصلے کرنے کامکمل اختیار مل گیا۔ جگ ہنسائی اور منہ زور وزراء کو سبق سکھانے کے لئے ترمیم کے بعدکابینہ میں توسیع اوران سے محکمے لینے کا بھی اصولی فیصلہ ہوگیا ہے۔انتہائی ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے آزادکشمیر میں نئی بننے والی حکومت میں شامل وزراء کے ایک مخصوص دھڑے کے خلاف فیصلہ کن کارورائی کا عندیہ دیتے ہوئے وزیرسردار عبدالقیوم خان نیازی سے کہا ہے کہ اگر مذکورہ گروپ 28اکتوبر کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کرتا تو انہیں بیک جنبش قلم فارغ کردیاجائے۔ بعدازاں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یاد رہے کہ وزراء کا ایک مخصوص گروپ من پسند وزارتوں،محکموں میں سیکرٹریز سمیت سربراہان محکمہ جات کے حصول کے باوجود بھی کابینہ اجلاس میں شریک نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے پارٹی اور حکومت کو سخت خفت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔نئی ترامیم سمیت ابھی تک موجودہ حکومت جسے قائم ہوئے 4ماہ ہونے کو ہیں کوئی فیصلہ کن کارکردگی سامنے نہیں آئی۔ عبدالقیوم نیازی کو مرکزی قیادت نے صاف صاف بتادیا ہے کہ اب بلیک میلنگ نہیں چلے گی جووزیر بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوگا وہ برطرف سمجھا جائے۔ذرائع کے مطابق 28اکتوبر کے اجلاس میں بہت اہم فیصلہ جات متوقع ہیں۔ جس میں چیئرمین احتساب بیورو کو سوموٹوایکشن،مکمل بااختیار بنانا،ایڈھاک ملازمین کی مستقلی، این ٹی ایس کے بجائے کے ٹی ایس سمیت کابینہ میں اضافے اور ضرورت ترامیم کی منظوری بھی شامل ہے۔ کابینہ اجلاس سے قبل اتحادیوں سے غیر رسمی میٹنگ بھی کی جائے گی اور متوقع فیصلہ جات کے حوالے سے اعتما د میں لیاجائے گا۔ جبکہ رواں ہفتے مزید تبادلے بھی متوقع ہیں۔

اہم خبریں سے مزید