• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نسلہ ٹاور بارود سے اڑا دیں، فوج کی مدد سے کارروائی ایک ہفتے میں مکمل کریں، حکومت رہائشیوں کو مالک سے رقم واپس کرائے، سپریم کورٹ

حکومت رہائشیوں کو مالک سے رقم واپس کرائے، سپریم کورٹ


کراچی (اسٹاف رپورٹر، ایجنسیاں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور کو کنٹرولڈ ایمیونیشن بلاسٹ کے ذریعے گرانے کا حکم دیا ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ اگر آپکے مشینری نہیں تو جائیں پاکستان آرمی سے مدد لیں اور ٹاور گرانے کی کارروائی ایک ہفتے میں مکمل کریں۔

عدالت نے حکم دیا کہ کمشنر کراچی نسلہ ٹاورکے مالک سے رقم متاثرین کو واپس دلوائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں برسوں سے یہی کچھ ہورہا ہے، لوگ یہاں سے مال بنا کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں، اب کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

90فیصد کراچی گرے اسٹرکچر پر ہے، شہر تو کسی بھی وقت گر جائیگا، آپ لوگ دفتر میں صرف چائے پینے جاتے ہیں، دوران سماعت طلبی پر وزیر اعلیٰ سندھ پیش ہوئے، مراد علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس پیسے نہیں، وفاق پیسے دے رہا ہے نہ افسر، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہر بات میں فیڈرل حکومت کی بات کر رہے ہیں، اگر وفاق یہاں آکر بیٹھ گیا تو پھر آپ کیا کرینگے۔ 

دوران سماعت عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کو جھاڑ پلا دی، چیف جسٹس نے مرتضیٰ وہاب سے کہا لیکچر نہ دیں ، بتائیں تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا تھا، اس پرکتنا عملدرآمد کیا ہے؟شہر چلانا الگ اور ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرنا الگ بات ہے، جس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں صرف اپنا بولنے کا حق استعمال کررہا ہوں۔

عدالت عظمیٰ نے کے ڈی ایم کو رفاہی پلاٹوں سے فوری قبضہ ختم کرنے اور شہرکاماسٹر پلان پیش کرنے کاحکم دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں نسلہ ٹاور کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کا ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ ہو۔ا ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین مسیح نے کہا ہمارے پاس کوئی ایسی مشینری نہیں جس سے فوری طور پر بلڈنگ کو گرایا جائے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا آپکے پاس عدالتی حکم پر عملدر آمد کیلئے کچھ نہیں ہے کیونکہ اصل چیز عمل کیلئے نیت ہوتی ہے آپکے پاس ایسی مشینری نہیں تو جائیں پاکستان آرمی کے پاس مشینری موجود ہے ان سے مدد لیں۔

 عدالت نے کہا کہ ایک ہفتے میں نسلہ ٹاورکو کنٹرولڈ ایمیونیشن بلاسٹ سے گرائیں اور بلاسٹ سے قریب کی عمارتوں یا انسان کوکوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے کمشنر کراچی کو ایک ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔علاوہ ازیں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ کے روبرو ضیا الدین اسپتال ناتھ ناظم آباد کی جانب سے رفاہی پلاٹ پر پارکنگ بنانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ 

چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں سالہا سال سے یہی چلا آ رہا ہے کہ جو آتا ہے مال بناتا ہے اور چلا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے کلفٹن کے ضیا الدین اسپتال کلفٹن کی جانب سے رفاہی پلاٹ پر پارکنگ بنانے سے متعلق کے ڈی اے کو رفاہی پلاٹوں سے فوری قبضہ ختم کرانے اور سینئر ڈائریکٹر ماسٹر پلان وقار میمن کو کراچی کا ماسٹر پلان پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ 

انور منصور خان ایڈووکیٹ سلمان طالب الدین مسیح نے موقف دیا کہ اسپتال نے کوئی قبضہ نہیں کیا۔ جو لوگ اسپتال آتے ہیں وہ وہاں گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپکے اسپتال کے اطراف تو سب قبضے ہو چکے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ سب تیس سال کے اندر اندر ہوا۔ گلستان جوہر چلے جائیں۔ 

90 فیصد کراچی گرے اسٹرکچر پر ہے۔ کراچی تو کسی بھی وقت گر جائیگا۔ آپ لوگ دفتر میں صرف چائے پینے جاتے ہیں۔ یہ ہے میٹروپولیٹن سٹی؟ جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیئے پھر آپ کر کیا رہے ہیں۔ ڈی جی کے ڈی اے نے بتایا کہ مسئلہ یہ ہے کہ عہدوں پر کوئی رہتا نہیں۔محمد علی شاہ او پی ایس افسر کو ڈی جی بنا دیا تھا۔ 

لوگ سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لے کر آجاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے مسئلہ یہ ہے سوک اتھارٹیز کام کرنا نہیں چاہتیں۔ اسپتال کے وکیل نے موقف دیا کہ جوائنٹ سروے کرالیا جائے تو مسئلہ حل ہوجائے۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ آپ لوگوں کا شہر ہے خود ہی کچھ کریں۔ ڈسٹ کا حال دیکھیں اس شہر میں سانس لینا مشکل ہے یہاں،سہراب گوٹھ پر اتنے ٹرک کھڑے ہیں راستے بند ہوجاتے ہیں،کراچی کو لاوارث چھوڑ دیا ہے کوئی کام نہیں کرنا چاہتا۔ 

یہ لوگ یہاں سے کماتے ہیں اور امریکا، کینیڈا اور یورپ میں لے کرجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں پیر کوچیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل بینچ کے روبرو گجر نالہ کیس سے متعلق سماعت ہوئی۔ 

سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ سے گجر و دیگر نالوں سمیت تجاوزات سے عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین مسیح عدالت میں پیش ہوئے۔ 

چیف جسٹس نے استفسار کیا جی بتائیں، کیا پیش رفت ہوئی؟ عملی طور پر گراؤنڈ پر کیا ہوا رہا ہے۔ 

ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے رپورٹ جمع کرا دی۔ کچھ مالی ایشوز آرہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید