• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلونجی کا تیل کتنا فائدہ مند ہے؟

کلونجی کی افادیت حدیث سے تصدیق شدہ ہے، چھوٹے کالے دانوں پر مشتمل گرم مسالے میں شمار کی جانے والی کلونجی کی افادیت سے تو ہر کوئی واقف ہے جبکہ اس سے حاصل کیے جانے والے تیل کے بھی بے شمار فوائد ہیں جنہیں جاننا اور اس کا استعمال کرنا صحت کے لیے ضروری ہے۔

ثابت کلونجی کھانوں میں استعمال کے ساتھ براہ راست نہار منہ بھی کھائی جاتی ہے جس کے بے شمار طبی فوائد ہیں جبکہ کلونجی کا تیل بھی اپنے اندر خوبصورتی کے راز  سموئے ہوئے ہے، بے رونق جِلد اور روکھے بالوں سے پریشان افراد کے لیے کلونجی کا تیل  بے حد مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

بال، ناخن و جِلدی امراض کے ماہرین کے مطابق بالوں کی جڑوں اور جلد کو نم رکھنے کے لیے کلونجی کا تیل بہترین آپشن ہے۔

جلد پر کسی قسم کا سیرم یا تیل کے استعمال نہ کرنے کے سبب جِلد خشک رہنے سے چہرے پر وقت سے پہلے جھریاں نمودار ہو جاتی ہیں اور جلد بے رونق لگنے لگتی ہے، بالکل اسی طرح بالوں کی اگر دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ عمر سے پہلے جھڑ سکتے ہیں اور آپ گنجے پن کا شکار ہو سکتے ہیں ، بالوں اور جلد کی خوبصورتی اور ان کے مسائل کا علاج کلونجی کے تیل میں ہی ہے۔

اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے سبب کلونجی کے تیل سے چہرے کی جلد پر مساج کرنے سے ایکنی کا خاتمہ ہوتا ہے اور کیل مہاسوں کی افزائش میں کمی آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کلونجی کے تیل کے استعمال سے جِلدی انفیکشن اور الرجی میں آرام آتا ہے، بالوں کی جڑوں سے سِروں تک کلونجی کے تیل کے استعمال سے خشکی ختم ہوتی ہے، بال جھڑنا بند ہو جاتے ہیں اور بے خوابی کی شکایت میں بھی آرام آتا ہے۔

بال، ناخن و جِلدی امراض کے ماہرین کے مطابق ہفتے میں دو سے تین بار کلونجی کے تیل کے استعمال کے نتیجے میں بالوں میں جان آجاتی ہے، بال لمبے، گھنے اور مضبوط ہوتے ہیں اور چہرے کی جِلد صاف شفاف ہو جاتی ہے۔

کلونجی کے تیل کے باقاعدہ استعمال سے جلد اور بالوں کے مسائل میں کمی آتی ہے۔

کلونجی کے تیل میں اینٹی آکسیڈنٹ جُز پائے جانے کے سبب جلد اور بالوں کی صفائی بہتر طریقے سے ہوتی ہے، روکھا پن ختم ہو جاتا ہے جبکہ بالوں اور جلد کی مجموعی صحت برقرار رہتی ہے جس کے نتیجے میں جلد اور بال خوبصورت اور جاندار نظر آتے ہیں۔

صحت سے مزید