• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 یہ گزشتہ برس ستمبر کے مہینے کی بات ہے۔ کابینہ ڈویژن نے منتخب اشرافیہ کےلیے ایک خط جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا : ’’یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ میں موجود کئی اشیاء وفاقی حکومت کے افسران اور مسلح افواج کے افسران میں فروخت کےلیے پیش کی جا رہی ہیں، اس کےلیےسر بہ مہر بولیاں طلب کی جائیں گی اور نیلامی ہوگی۔‘‘

جب یہ معاملہ ذرایع ابلاغ تک پہنچا تو اسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ نیلامی روکی جائے۔اپنی درخواست میں درخواست گزار نے ان تحائف کی تفصیلات پیش کی تھیں جو صدر مملکت، وزیر اعظم اور دیگر وزراء کو مختلف سربراہانِ مملکت نے دیےتھے اور انہیں توشہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ ان تحائف کو کسی قانونی طریقہ کار کے بغیر سرکاری افسران کو فروخت کیا جا ر ہا تھا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ نیلامی کا عمل آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔

معاملہ عدالت تک پہنچا

عدالت نے اس درخواست کی سماعت کے دوران نو ستمبر 2020کو سماعت 13جنوری 2021 تک ملتوی کر دی تھی۔اس سماعت پر عدالت نے وفاقی حکومت سے پانچ برسوں کا ریکارڈ طلب کرلیاتھا اور وفاق کے وکیل کو ہدایت کی تھی کہ اب تک اس طرح کی کتنی نیلامیاں ہوئیں اور کن کن نے اس میں حصہ لیا،عدالت کو بتایا جائے۔عدالت نے پچیس نومبر کو ہونےوالی نیلامی روکنے کے اپنے حکم امتناع میں بھی توسیع کر دی تھی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔ اس سے قبل ہونے والی سماعت پر وفاق کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کی تھی ۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد نیلامی ہو رہی ہے ۔

نو ستمبر کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ، محمد قاسم خان نے،شہری عدنان احمد پراچہ کی درخواست پر سماعت کی تھی۔اس موقعے پر سرکاری وکیل کا موقف تھاکہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے نوٹی فکیشن جاری کیا گیاہے، اجازت دیں تو پڑھ دیتا ہوں۔ سرکاری وکیل نے نیلامی کی شرائط اور قانون پڑھ کر سنایا۔درخواست گزار نےکہاکہ صدرمملکت، وزیراعظم، وزراء اوراعلی حکام کو سرکاری دوروں پر ملنے والےتحائف توشہ خانے میں جمع ہوتے ہیں۔

توشہ خانے کے سرکاری تحائف کوقانونی جواز کےبغیر خفیہ طورپرنیلام کیا جارہا ہے۔ خفیہ نیلامی میں شمولیت کے لیے عوام الناس کے بجائے صرف سرکاری افسروں کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ عدالت پچیس نومبرکو ہونے والی خفیہ نیلامی کوروکنے کا حکم دے۔نیلامی میں خواص کو شامل کرنا اور عوام الناس کو نظر انداز کرنا آئین کے آرٹیکل پچّیس کی خلاف ورزی ہے ۔عدالت نیلامی کےعمل میں عوام الناس کو شامل کرنے اور نیلامی عام کرنے کا حکم دے۔

خفیہ نیلامی غیر آئینی قرار پائی

اس مقدمے میں درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور عدالت میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے موقف کی وجہ سے یہ معاملہ بہت عوامی بن گیااور پھر اسے سیاست دانوں نے بھی اچھالا۔ رواں برس پچّیس مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی روکنےکےلیےدائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے خفیہ نیلامی کی پالیسی غیر آئینی قرار دے دی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا تھاکہ حکومت اس پر قانون سازی کرے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ توشہ خانے کی چیزیں پبلک پراپرٹی ہیں۔چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ کیا آئین اس پروسیجر کو سپورٹ کرتا ہے؟ کیا اس میں پیپرا رولز پر عمل ہو جاتا ہے؟اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پالیسی بتا سکتا ہوں۔چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ کیا پالیسی بنیادی حقوق اور پیپرا رولز کے خلاف جا سکتی ہے؟ 

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو ریاستوں کی اہم شخصیات کے مابین تحائف کے تبادلے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ شخصیات کا نہیں بلکہ ریاست کا ریاست کو تحفہ ہوتا ہے۔ وہ ریاستِ پاکستان کےلیے گفٹ لیتے ہیں، اگر یہ لوگ (حکم راں) عہدوں پر نہ ہوں تو کیا گفٹ لے سکتے ہیں؟ وہ تمام افرادقابلِ عزت ہیں جنہیں ریاستِ پاکستان کےلیے گفٹ ملتے ہیں، تشویش اس بات پر ہے کہ کروڑوں کی چیز کو کوڑیوں کے بھاؤ کیوں بیچتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان چیزوں کا عجائب گھر بنا دیں، عوام کو بولی میں شامل نہ کرنا دھتکارنے کے مترادف ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام کو حق دیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اچھی چیزیں لینے کے بعدچار چیزیں عوام کو دے دیتے ہیں۔

ملکی مفاد اور دوستوں کی ناراضی کاخدشہ

نواز شریف کے آخری دور میں حکم راں مذکورہ تحفوں کا صرف پندرہ فی صد ادا کرکے اُسے اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔یہ قانون 2018میں تبدیل ہوا اور اب اس قانون کے تحت مجازافرادتحفے کی کل مالیت کاپچاس فی صد ادا کر کے تحفہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے ملک کی اعلیٰ شخصیات خصوصاً حکم رانوں کے غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے بیش قیمت تحائف کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔اس معاملے کو اس وقت زیادہ عوامی توجہ ملی جب سابق دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے غیر ملکی دوروں سے ملنے والے تحائف کی تفصیل منظر عام پر لانے کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا۔اس کے ردعمل میں اس وقت کی حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے راہ نماعمران خان نے الزام عاید کیا تھا کہ ان تفصیلات کو چھپانے کی وجہ اسٹیٹ گیسٹ کے طور پر ملنے والے بیش قیمت تحفے مقررہ قیمت سے کم پر لیا جاناہے۔ 

ان الزامات کے بعد نواز شریف کو یہ تفصیلات منظر عام پر لاناپڑی تھیں جنہیں پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) میں جمع کرایا گیاتھا۔پھر وقت کا پہیہ گھوما ۔اب موجودہ حکومت نے توشہ خانے میں رکھے غیر ملکی تحائف کی نیلامی کرائی تو ایک شہری کی درخواست پر پی آئی سی کی جانب سے حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ملنے والے تمام تحفے، خاص طور پر وہ تحائف جو وزیر اعظم اور وزرا نےرکھے ہیں، ان کی تفصیل فراہم کی جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق حکومت یہ تفصیل جمع کرانے کی پابند ہے، مگر حکومت نے پی آئی سی میں یہ جواب جمع کرا دیا کہ غیر ملکی تحائف کی تفصیل سے ان ممالک کے درمیان تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، اس لیے انہیں ملکی مفاد میں جاری نہیں کیا سکتا۔یعنی وہ ہی جواب جو کل میاں نواز شریف کی حکومت میں دیا گیا تھا،یعنی ’’ ملکی مفاد کے خلاف‘‘۔بس تھوڑا الفاظ کا ہیر پھیر تھا۔

اب سے چند ہفتے قبل کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر وزرا کو ملنے والے 170سے زاید تحائف کو کچھ عرصہ قبل بولی کے تحت نیلام کیا گیا تھا۔ ان تحائف میں رولیکس گھڑیاں، سونے کے زیورات، مختلف ڈیکوریشن پیسز، سوینیئرز، ہیرےجڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل تھے۔ اسی معاملے پر ایک شہری نے پی آئی سی میں موجودہ حکومت، بہ شمول وزیر اعظم کو ملنے والے تحائف کی تفصیل مانگی تھی ۔

اس پر حکومت نے ملکی مفاد میں نہ ہونے کا جواز بنا کر وضاحت جمع کرائی تھی جسے عوامی حلقوں میں زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کے تین سابق حکم راںان دنوں توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر تحائف حاصل کرنے پر مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی شامل ہیں اور توشہ خانے سے قیمتی کاروں کی خلاف ضابطہ خریداری پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ریفرنس بنایا گیا، جس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر اثر ورسوخ استعمال کرکے غیر ملکی تحائف کم قیمت پر حاصل کرنے پر ملزم نام زد کیا گیا ہے تو موجودہ حکومت میں شامل افراد اس ضمن میں تلاشی دینے سے انکاری کیوں ہیں؟

توشہ خانےسے پیشیاں بھگتنے تک

پاکستان کے تین سابق حکم رانوں کو اس وقت توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر تحائف حاصل کرنے پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری شامل ہیں۔ توشہ خانے سے قیمتی کاروں سے متعلق خلاف ضابطہ خریداری نیب کا وہ خاص ریفرنس بن گیا ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر ملی بھگت، گٹھ جوڑ اور پارٹنرشپ کے الزامات عاید کرتے ہوئے انہیں ایک ہی ریفرنس میں ملزم نام زد کر دیا گیا ہے۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو انہوں نے قوانین میں نرمی کر کے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانے سے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی تھی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانے سے گاڑیوں کی غیر قانونی طریقےسے خریداری کے مقدمے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے بہ حیثیت صدر، متحدہ عرب امارات سے تحفے میں ملنے والی آرمڈ کار بی ایم ڈبلیو 750 'Li' 2005، لیکسس جیپ 2007 اور لیبیا سے تحفے ملنے والی بی ایم ڈبلیو 760 Li 2008 توشہ خانے سے خریدی ہیں۔ نیب کا دعویٰ ہے کہ آصف زرداری نے ان قیمتی گاڑیوں کی قیمت منی لانڈرنگ والے جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کی تھی۔ 

ریفرنس میں ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جن سے مبینہ طور پر آصف زرداری نے ادائیگیاں کی ہیں۔ ریفرنس کے مطابق آصف زرداری گاڑیاں توشہ خانےمیں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کر رہے ہیں اورانہوں نے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔میاں نواز شریف کی جائیداد نیلام کرنے اور انہیں اشتہاری قرار دینے کے احکامات ایسے ہی مقدمات میں جاری ہوئے۔

سیاست کا ایک عنوان

حکم رانوں کو غیر ممالک سےملنے والےتحائف بھی ہماری سیاست کا ایک عنوان بن چکے ہیں، کوئی تفصیلات بتانے سے انکاری ہے توکوئی اس معاملے میں اشتہاری بنا اور کسی کی جائیدا دکی نیلامی کا حکم ہوا، لیکن یہ معاملہ ختم نہیں ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم پاکستان اور صدر مملکت سمیت وفاقی وزیروں کو دوست ممالک کی جانب سے ملنے والے تحائف کی نیلامی کی تفصیلات کو 'قومی مفاد سے متعلق حساس معلومات قرار دے کر کے یہ معلومات جاری کرنے سے انکار کر دیا اورکابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری شدہ مراسلے کے مطابق ان اشیا کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین اور فوج کے ملازمین نے حصہ لیا۔

حکومت نےپاکستان انفارمیشن کمیشن کے سامنے یہ موقف اپنایا کہ یہ معلومات 'حساس اور 'قومی مفاد سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحائف سربراہان ممالک کو ذاتی حیثیت میں دیے گئے اور میڈیا غیر ضروری طور پر اس بات کا بتنگڑ بنا سکتا ہے جس سے پاکستان کے دوست ممالک سے تعلقات پرمنفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پھر وزیر اعظم کے معاون، شہباز گل نے ٹوئٹر پر پہلے ایسے صارفین کی خبر لی جو اس معاملے میں معلومات تک رسائی کا مطالبہ کر رہے تھے اور پھر یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ اگر کسی کو یہ تحفہ اپنے گھر رکھنا ہوتا ہے تو اس کی آدھی قیمت ادا کر کے وہ اسے لے جا سکتا ہے۔ تاہم جب ایک غیرملکی نشریاتی ادارے نے ان سے ایسے کسی ثبوت اور پالیسی سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیاتھا۔

خیال رہے کہ حکومت کے کابینہ ڈویژن نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس میں عمران خان کو وصول ہونے والے تحائف کی تفصیلات مانگی گئی تھیں اور حکومتی اپیل پر اب اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلہ کرے گا۔

نیلامی کے راز سرکاری فائلز تک محدود

وزیر اعظم عمران خان جب حزب اختلاف میں تھے تو وہ حکم رانوں کی جانب سے کم قیمت پر توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کو ہدف تنقید بنایا کرتے تھے۔مگر گزشتہ برس تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ہونے والی نیلامی میں کیا ہوا اور وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو ان تحائف کے حق دار قرار پائے، یہ راز ابھی صرف ان سرکاری فائلزتک محدود ہے جنہیں حکومت کھولنےسے ہچکچا رہی ہے، کیوں کہ موجودہ حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ معاملہ 'قومی مفادسے منسلک ہے۔حالاں کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ماضی میں معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ایسی معلومات عام کرنے کے احکامات دیے تھے جن پر باقاعدہ عمل بھی ہوا اور مقامی ذرایع ابلاغ میں یہ تفصیلات شائع اور نشربھی ہوئیں۔

نیلامی کا طریقۂ کار

حکم رانوں کی جانب سے توشہ خانے میں جمع کرائے گئے تحائف حکومت کے بنائے ہوئے قواعد کے تحت ہی فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی سربراہ مملکت چاہے تو وہ ملنے والے کسی تحفے کو مخصوص رقم ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتاہے، مگر پاکستان اوربھارت میں ایسے تحائف کی نیلامی بھی کی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا پیسہ ریاست کے خزانے میں جاتا ہے۔کابینہ ڈویژن کے حکام کے مطابق یہ نیلامی ہر سال ہونا ہوتی ہے، لیکن چوں کہ ایک برس کے دوران سربراہان مملکت اور وزرا کے دوروں کے دوران اتنے تحائف اکٹھے نہیں ہو پاتے کہ ہر برس نیلامی کا انعقاد کیا جا سکے،لہذا ہر برس ایسا نہیں ہوتا۔

کسی بھی بیرون ملک کے دورے کے دوران وزرات خارجہ کے اہل کارملنے والے تحائف کا اندراج کرتےہیں اور ملک واپسی پر انہیں توشہ خانے میں جمع کرایا جاتاہے جس کے بعدا سٹیٹ بینک سے باقاعدہ ان کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کرایا جاتا ہے۔حکام کے مطابق اگر ان تحائف کی مالیت تیس ہزار روپے سے کم ہو تو وزیر اعظم، صدر یا وزیر، جنہیں یہ تحفہ ملا ہوتا ہے انہیں توشہ خانے کے قوانین کے مطابق یہ مفت لینے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ تاہم اگر تحفے کی مالیت تیس ہزار سے زیادہ ہو تو اس تحفے کی مالیت کا کچھ پچاس فی صد حصہ ادا کر کے اسے رکھا جا سکتا ہے۔لیکن دونوں صورتوں میں یہ ضروری ہے کہ وہ کوئی تاریخی یا نادر شئے نہ ہو۔

اگر سربراہان مملکت یا وزرا یہ تحائف نہیں رکھتے تو پھر ان کی فہرستیں تیار کر کے انہیں توشہ خانےکے قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین اور فوج کے افسران کو نیلامی کےلیے پیش کیا جاتا ہے۔ نیلامی کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آر اورا سٹیٹ بینک سے کرایا جاتا ہے اور ان میں سے چند اشیا کی قیمت کو مارکیٹ ویلیو سے کچھ کم رکھا جاتا ہے۔ چند ایسے تحائف جو کسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہوں ان کی اہمیت اور اعزازی مالیت کے تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔

توشہ خانے کے قواعد کے مطابق ان تحائف پرپہلا حق اس کا ہے جس کو یہ تحفہ ملا ہوتاہے، اگر وہ اسے نہیں لیتے تو پھر سرکاری ملازمین اور فوج کے اہل کاروں کےلیے نیلامی کی جاتی ہے۔ اس نیلامی سے جو اشیا بچ جائیں انہیں عوام کے لیے نیلامی میں رکھ دیا جاتا ہے۔جو بھی فوجی یا سرکاری ملازم یہ بیش قیمت اشیا خریدتے ہیں انہیں اپنی ذرایع آمدن ظاہر کرنے کے ساتھ اس پر لاگو ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔

معلومات تک رسائی سے متعلق قوانین پرگہری نظر رکھنے والےماہرین کے مطابق تحائف سے متعلق درست خبر نہ دے کر بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اصل ایشوز سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ایک طرف جھوٹی خبروں سے متعلق قانون سازی پر بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف حکومت درست اور مصدقہ معلومات کے دروازے خود بند کر رہی ہے۔ان کے خیال میں یہ عمومی نوعیت کی معلومات تھیں جنہیں قومی مفاد اور خارجہ پالیسی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ماضی میں وزیر اعظم عمران خان خود ٹرانسپیرنسی کے نہ صرف حامی تھے بلکہ انہوں نے معلومات تک رسائی سے متعلق قانون سازی میں اہم کردار ادا کیاتھا۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان بھی شفافیت کو یقینی بنانے پر آمادہ نظر نہیں آرہے۔