• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’ٹھٹہ‘ یہاں کبھی ادب اور علم کے دیپ جلتے تھے

ٹھٹھہ خوبصورت شہر تھا، جہاں سرسبز فصلیں ، کشادہ باغ، ہرن، اور دل کش جنگل تھے۔زمانۂ قدیم میں یہاں کے باغات بہت مشہور تھے، جن میں کئی اقسام کے پھل ہوتے تھے، خاص طور پر کھجور اور انار اپنے رنگ اور شیرینی کی وجہ سےمشہور تھے۔ '

تاریخِ طاہری کے مصنف میر طاہر محمد کے مطابق ’’یہ صوبے کا مشہور شہر ہے، سارے ہندوستان کے اکثر بیوپاری، یہاں بننے والی مختلف اشیاء خریدنےآتے تھے۔ یہ ملک کی بڑی مارکیٹ ہے، تین میل لمبائی اور ڈیڑھ میل چوڑائی میں پھیلا ہواشہر، علم لغت، اور علم سیاست کے لیے مشہور ہے۔ شہر میں چار سو سے بھی زائد مدرسے ہیں۔ ‘‘اگر ماضی میں جھانکیں، تو ٹھٹھہ کی تاریخ بھول بھلیوں کی طرح ہے، ایسی بھول بھلیاں جہاں ہر موڑ پر ایک حیرت کدہ ہے۔ کبھی مسکراتی تو کبھی رلاتی، لیکن پھر بھی یہاں دیکھنے، سننے اور سوچنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ 

سیاست کی خونی چالبازیاں، حاکموں کا ہر وقت جنگی جنون میں رہنا، انا کی تسکین کے لیے ہوتی ہوئی جنگیں ، لیکن یہاںصرف جنگ و جدل ہی نہیں ہوتا تھا، بلکہ درس گاہیں، مصنف ، شاعر ، موسیقار اور سنگتراش بھی تھے، جن کے علم و تخلیقات، الفاظ کی رنگینی اور شیرینی، تراش و خراش اور مثبت کارناموں نے 'ٹھٹھہ کو 'عظمت و پہچان بخشی۔ ایک ایسا شہر جہاں عالم، اکابراور علم کے پیاسے کھنچے چلے آتےتھے۔دور حاضر کی حقیقت یہ ہے کہ ٹھٹھہ کی یہ ساری خوبصورتیاں اور عظمتیں اب فقط تاریخ کے صفحات پر حروف کی شکل میں رہ گئی ہیں۔ 

اب تیز دھوپ میں باغات کی ٹھنڈی چھاؤں کے سائے، چشموں کے ٹھنڈے پانی کی شیرینی، پھلوں کے ذائقے، پھولوں کے رنگ، مدارس میں معلموں کے لیکچر، کپڑے بننے والی کھڈیوں کا ردھم اب فقط تاریخ کی تحریروں میں ہی پڑھا جا سکتا ہے، اور اگر چاہیں تو، 'ماضی بنے ہوئے ان پلوں کو اپنے ذہن و دل کے آسمان پر، تخلیق کے برش سے تصویروں میں ڈھال کر کچھ پلوں کے لیے خوش ہو لیں۔موجودہ 'ٹھٹھہ گزرے ہوئے زمانے کے بالکل برعکس ہے۔ ٹوٹے راستے، ذہن کا سکون چھیننے والا گاڑیوں کا شور اور دھواں، گنجان، دماغ چکرا دینے والی گلیاں اور بازار، مدارس ہیں کہ کب کے ویرانی اور بے قدری کی دھوپ بر داشت کر چکےہیں۔ 

لمبی جستجو کے بعد بھی آپ کو، کپڑے بننے کی 'کھڈی کے آثار مشکل سے ہی ملیں گے۔ٹھٹھہ کے اس کمال اور زوال کے بیچ والے عرصے کی کہانی سننے اور پڑھنے سےتعلق رکھتی ہے، تفصیل سے نہ سہی مختصر ہی سہی، لیکن اس میں سوچنے اور سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ادب، تخلیق، اور زندگی کی مسکراہٹوں کے دیپ کب کے بجھ چکے۔ ان گلیوں سے گزر کر آپ تھوڑا آگے جنوب کی طرف جائیں گے تو 'جامع مسجد شا ہ جہاںہے۔ ایرانی فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ، اینٹوں اور رنگوں کے میلاپ کا ایک سحر انگیز مظہر، میناکاری کا ایسا ہنر جسے دیکھ کر روح کو تسکین سی آجائے، گنبدوں پر رنگوں کی ایسی خوب صورتی جو صدیوں تک زندہ و جاوید رہےگی۔

جامع مسجد سے آگے جنوب کی طرف 'دابگیر مسجدکے قدیم آثار ہیں، ایک زمانہ تھا جب یہ 'دابگروںکے محلے کی آباد اور نہایت خوبصورت مسجد تھی، لیکن اب نہ یہاں کوئی محلہ ہے اور نہ کوئی وعظ کرنے والا، یہ مسجد 997 ھ میں 'خسرو خان چرکس نے بنوائی تھی۔ خسرو خان ایک علم دوست انسان تھے، انہوں نے ٹھٹھہ کے قرب و جوار میں مسجدیں، تالاب، کنویں اور پل تعمیر کروائے تھے۔ 

ٹھٹھہ شہر کے ماضی کے متعلق اور بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی شہر کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اس کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی جائے، یہاں کے آثار قدیمہ کو محفوظ کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اپنی ثقافت اور ماضی کی عظمت رفتہ کو دیکھ سکیں۔