• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیٹھی تو نوحہ لکھنے تھی، مگر قلم سے پہلے آنسو کاغذ پر آن گرا… نوحہ تو لکھنا تھا مجھے عورتوں اور بچیوں کی عزت اور عصمت کا…کاندھا دینا تھا، عصمت، عفت اور غیرت کے جنازے کو مگر یہ آنسو…! شاید یہ آنسو وہ آنسو ہیں جو بدن کے زخمی ہوجانے روح کے گھائل ہوجانے یاپھر درد کی شدت سے دماغ کے شل ہوجانے پر نکل آتے ہیں۔ یا پھر یہ آنسو ہیں شرمندگی ، بے چارگی اور لاچارگی کے… اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر سانحہ مینار پاکستان کی خبر ہے اور اس کے ساتھ ہی وہی Victim blominam مظلوم پر الزام‘‘ کا سلسلہ کہ وہ لڑکی وہاں کیوں گئی تھی، اور یہ کہ یہ سازش ہے پاکستان کو بدنام کرنے کی، یا وہ اپنے بھائی، باپ یا شوہر کے ساتھ جاتی تو ایسا نہ ہوتا… اور یہ کہ اس نے خود ہی ان لوگوں کو وہاں بلایا تھا… سب کچھ درست مگر ان سب باتوں کے ساتھ کہ اگر کوئی لڑکی اگر برہنہ رقص بھی کررہی ہو تو اسے بھنبھوڑنے کا سرٹیکفکیٹ کس نے دیا۔ 

ہم تو یہ جانتے ہیں کہ اسلام مرد کو نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے۔ اور دنیا کے سارے مرد اندھے ہوجائیں تو بھی اسلام عورت کو حجاب وحیا کا حکم دیتا ہے…ایک سوال اس اسلامی جمہوریہ پاکستان سے جو ریاست مدینہ بننے جارہی ہےکہ جب چند ماہ قبل مینار ِپاکستان پر دو پاؤں والے درندوں نے ایک لڑکی کو گھیرا تو پارک کی انتظامیہ کہاں تھی۔ جب وہ بھوکے بھیڑئیے اسے نوچ رہے تھے تو گارڈز کہاں تھے ،جب اس کے کپڑے پھاڑے جارہے تھے تو پولیس کہاں تھی، جب اسے اچھالا جارہا تھا تو غیرت مند مرد کہاں تھے؟… 

کیا کوئی نہیں تھا، اتنے بڑے ہجوم میں، کوئی ایک بھائی، ایک باپ ایک بیٹا نہیں تھا…بس بھیڑیوں کا غول تھا اور ایک نہتی لڑکی…کسی نے ناسوچا کہ یہ اس ملک کی بیٹی ہے ،بہن ہے کاش کہ کوئی ایک جی دار اس عمل کو برا کہتا یا اس عمل کو روکنے کی کوشش کرتا تو پھر ہم سوچے کہ یہ معاشرہ زندہ ہے لیکن وہاں تمام مرد اس حیوانیت کے عمل میں حصہ دار تھے اور لطف اٹھارہے تھے ثابت ہوگیا کہ ہم اخلاق یافتہ قوم ہیں ۔

ہمیں بار بار انسانیت کو شرمندہ کرنے والے واقعات کا سامنا ہے… لاہور موٹر وے سانحہ ہو، نورمقدم کا لرزہ خیز قتل ہو یا عینی کا شوہر کے ہاتھوں قتل، قبرستان میں دفنائے جانے والی مردہ لڑکی کی بے حرمتی کا واقعہ ہو یا بچوں کے ساتھ زیادتی اور بدفعلی کے ناختم ہونے والے واقعات ان کی وجہ شاید معاشرے کی عمومی بے حسی ہے۔ کیا ہم ایک دوسرے کو ویران ہوتا دیکھتے رہیں گے۔ 

کیا ہم ایسے واقعات کا سبب دین سے دوری کو ٹھہرائیں گے۔ بچپن میں کہانیوں میں پڑھتے تھے کہ، رات کے اندھیرے میں جنگل سےبھوکا بھیڑیا بستی میں آتا اور شکار لے کر چل دیتا، مگر یہاں تو شہر شہر، بستی بستی گاؤں گاؤں ہر طرف بھرے پیٹ کے دوپاؤں والے بھوکے بھیڑئیے گھوم رہے ہیں۔ میں، میری بیٹیاں،میری بہنیں، میری مائیں،ہم کہاں محفوظ ہیں…گھر اسکول، مسجد،مدرسہ، کالج، اسپتال، دفتر، فیکٹری،بازار ، تفریح گاہیں پولیس اسٹیشن، جج کا چیمبر، موٹروے اور قبر …ہے کوئی پناہ گاہ…؟

کیا ہوگا۔ وہی بیانات، وہی میڈیا کا تماشہ مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لانے کا اعلان ،عبرت ناک سزاؤں کی نوید،پھر ضمانت اور آخر کارعدم ثبوت کی بناپر رہائی…سب بیان بازی میں لگے ہیں۔ سارافوکس کورونا ویکسن پر ہے۔ کوئی اس بیماری پر غور نہیں کررہا جس کا نام حیوانیت ہے، جوپدرسری معاشرے میں مردوں کے خون میں سرائیت کرتی جارہی ہے اور دن بہ دن دوپاؤں والے حیوانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ یہ وہ نام نہاد طاقتور مرد ہیں جنہیں اپنی بھوک پر قابو ہی نہیں… عورت کو دیکھتے ہی اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتے ہیں۔ 

کمزور غریب اور ناتواں کو دیکھتے ہی ان پر پاگل پن سوار ہوجاتا ہے۔ یہ وہ بدقسمت ہیں جن کی اپنی بیٹیاں اور بہنیں بھی ان سے محفوظ نہیں… ہرروز ایک نئی خبر وہ مائی مختاراں ہو ،شریفہ ہو زینب ہو یا قراۃالعین ، نورمقدم ہو یا عائشہ،اس سے کیا ہوتا ہے… بے شمار عورتیں اور بچیاں تو ایسی ہیں جو زمین کا رزق ہوگئیں اور کسی کو خبر ہی نہ ہوسکی… کیوںکہ پھر وہی سوال گھر سے کیوں نکلی، لباس ایسا کیوں پہنا تھا۔ خود ہی بلوایا ہوگا ،مگر ننھی فاطمہ، منی زینب، منوں مٹی تلے دفن،کفن میں لپٹی پامال ہونے والی مردہ بچیوں اور عورتوں کی بے حرمتی کا کیا جواز ہوگا…؟ کیا مردوں کو لائنس مل گیا ہے کہ وہ عورت کوتشدد کا نشانہ بنائیں ۔ ہیویمن رائٹس واچ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر دوگھنٹے میں ایک عورت/لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ایک دن میں تقریباً گیارہ ریپ کے واقعات ہوتے ہیں۔

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیی

پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی

ثنا، خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

ریاست کا حال بھی وہی ہے جو معاشرے کا ہے بے خبری اور بے حسی۔ ایسے کربناک روح فرسا واقعات پر متعلقہ اداروں کو اپنے لوگوں کی مذمت اور ملامت کرنی چاہیے ۔ پولیس اور حکام بالا کے ماتھے پر ندامت کا پسینہ آنا چاہیے …اور تو اور ریاست مدینہ کے دعوے داروں کی راتوں کی نیندیں اڑجانا چاہیں،مگر ایسا کچھ ہوتانظر نہیں آرہا… درست کہ ایسے واقعات کاسدباب یکدم ممکن نہیں…لیکن اس کی کوشش شروع کرنا ہوگی، جو کہیں نظر نہیں آرہی…سوچئے کیا ہم صرف حکومتی اداروں کی طرف منہ اٹھاکر دیکھتے رہیں گے اور روز ایک روح فرسا خبر کا سامنا کریں گے یا ذمہ دار انسان کی طرح اپنا کردار ادا کریں گے… ایسے حالات میں خصوصی طور پر عورتوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔

ایک مہذب، معتدل، پرامن ، غیر جانبدار انسانی، معاشرے کی تشکیل کے لیے سب سے پہلے نمبر پر ہے، تربیت ۔بچوں کی تربیت، لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت، تعلیم کے حصول میں مدد کے ساتھ ساتھ بیٹا یا بیٹی،بچوں کی نگرانی کریں…دیکھیں اور دھیان دیں گے ان کے دوست احباب کیسے ہیں۔ 

ان کے گھر والوں سے رابطہ رکھیں کہ ان کے گھر کا ماحول کیسا ہے۔ بچوں پرجائز پابندی بھی لگائیں اور روک ٹوک بھی کریں ،تاکہ بچے اپنی معاشرتی اقدار کو نہ بھولیں۔ بچے جوان ہوجائیں۔ تب بھی ان پر نظر رکھیں۔ دیر تک گھر سے باہر رہنے کی آزادی نہ دیں۔ بیٹا یا بیٹی کہیں جائیں تو والدین کی اجازت سے…دوستوں کے گھر رات رہنے کی بلاجواز اجازت نہ دیں۔ بچوں کی کردار سازی کے لیے والدین ، اساتذہ کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی۔ علماء دین اور نفسیات کے ماہرین سے مشاورت بھی ضروری ہے۔ 

بچوں میں تحمل اور برداشت پیدا کرنے کے لیےخود اس کا عملی نمونہ بننا ہوگا… سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظمیں صرف سڑکوں پر احتجاج نہ کریں بلکہ لوگوں میں شعور اور آگہی پیدا کریں’’عورتوں، بچوں اور بچیوں کے لیے سیلف ڈیفنس کی ٹرینگ لازمی ہونا چاہیے ،تاکہ ان کی طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو روکا جاسکے۔

زیادتی اور تشدد کے مجرموں کو کھلے عام سزا ہونا چاہیے، تاکہ قانون کا خوف بھی ہو اور لوگوں کو علم ہوکہ قانون کہیں موجود ہے… ہمارے یہاں تعلیم کی کمی ہے ،اس لئے بہت سے قوانین کا لوگوں کو علم ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف کسی کیس میں مجرم کو سزا ہوبھی جائے تو سرعام نہیں ہوسکتی، بلکہ سزا کے اعلان کے ساتھ ہی انسانی حقوق والوں کو مجرم سے شدید ہمدردی ہوجاتی ہے۔

ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ میڈیا ، سوشل میڈیا اور باقی ذرائع سے حاصل ہونے والےغیر اخلاقی مواد پر پابندی لگائی جائے۔ فوری انصاف بھی ضروری ہے،کیوںکہ ہمارے ہاں برسہا برس مقدمات چلتے ہیں، اس دوران ضمانت، عدم ثبوت اور رہائی جیسے فیصلے سامنے آتے ہیں…قوانین موجود ہیں، مگر ان کا اطلاق نہیں ہے۔ اور لوگوں کو زیادہ معلومات بھی نہیں ہیں۔ تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت جنسی ہراسگی، تشدد اور استحصال کے مرتکب افراد کو سخت سزادی جاسکتی ہے۔ 

اس کے علاوہ معنی خیز،فخش اور تضحیک آمیز جملے کسنا، آوازیں دینا اور پیچھا کرنا، جس سے خاتون خوف کا شکار ہوگی، سزا تین سال قید اور5لاکھ روپے تک جرمانہ ہے، مگر اکثریت ان معاملات کو پولیس تک لے جانے سے گھبراتی ہے۔ لاہور کی طرح پورے ملک میں ’’ وومن سیفٹی ایپ‘‘ ہونا چاہیے۔ آئیے اس یقین کے ساتھ کہ ہم کرسکتے ہیں آگے بڑھیں اور ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں، جہاں معصوم بچے بچیاں اور عورتیں بلاخوف وخطر سر اٹھاکر آزادی سے زندہ رہ سکیں۔