• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب میں حال ہی میں سرمایہ کاری اور مشرق وسطیٰ کو شاداب بنائیں کے موضوغ پرا کانفرنس کا انعقاد جس میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے سرمایہ کاری کے موضوع کےعلاوہ ماحولیات اور موسمی تغیرات کے حوالے سے بھی خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے خطاب میں کہا کہ دس فیصد ممالک دنیا میں 80فیصد آلودگی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ 

ماحولیات اور موسمی تغیرات کے مسائل کو فوری سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو اس کے خطر ناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وزیر اعظم نے ماحولیات کے مسئلے اور آلودگی کم کرنے کے معاملے پر پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو بیان کرتے ہوئے کہا، ہم 2023تک ایک ارب مینگروز کے درخت لگانے کا ہدف پورا کریں گے۔ 

پاکستان 2030تک ساٹھ فیصد سے زائد کابد تجدید انرجی پر منتقل ہو جائے گا۔ جلدی تیس ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک وہیکل پر منتقل کرنےکی کوششیں کر رہے ہیں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان قدرتی کوئلہ سے بجلی کا کوئی نیا کارخانہ نہیں تعمیر کرے گا۔ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ اس عالمی مسئلہ میں ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری حکومت پہلے ہی ایک ارب درخت لگانے کا ہدف پورا کر چکی ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سالگرہ کے موقع پر اپنی اہم تقریر ماحولیات کے مسئلے اور آلودگی پر قابو پانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے پاس وقت کم ہے۔ فوری طورپر پوری دنیا کو کرہ ارض کے تحفظ اور موسمی تغیرات پر قابو پانے کے لئے بھر پور جدوجہد شروع کر دینی چاہیے۔ انہوں نے تمام ملکوں اور تمام غیر سرکاری تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرلز جن میں بطرس غال، کوفی عنان، جان کی مون اور حالیہ سیکرٹری جنرل انتھونی گیٹرس لگ بھگ تیس برسوں سے دنیا کو ماحولیات میں بگاڑ اور آلودگی میں اضافہ کے مسلے پر خبر دار کرتے رہے ہیں مگر افسوسناک سچائی یہ ہے کہ دنیا خاص طور پر دنیا کے بڑے بڑے صنعتی اور ذیلی ادارے اپنی صنعتی پیداوار میں اضافہ کے لئے ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہیں ۔ 

دوسری طرف زراعت میں زرعی پیداوار کے لئے جو کھاد اورکیمیکل استعمال ہو رہے ہیں وہ مضر صحت ہیں۔ گویاایک طرف صنعتی ادارے دوسری طرف زرعی پیداوار میں اضافہ کے لئے جو کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے یہ دونوں زمین اور سمندری آلودگی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ کارخانوں کا آلودہ پانی سمندروں میں شامل ہو رہا ہے۔ سمندری حیاتیات شدید متاثرہو رہی ہیں۔ سمندر کے ساحلی علاقوں میں مینگروز کے درختوں کے سلسلے کو بھی زبردست نقصان پہنچ رہا ہے،یہ مینگروز سمندر کی پروٹیکشن کا کام کرتے ہیں۔ مینگروز کو نقصان پہنچنےسے دریائوں اور سمندر کے پانیوں میں ملاپ ہو رہا ہے، جن سے دریائوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

کرۂ ارض پر موجود جنگلی حیایات ، سمندری حیاتیات، انسانی معاشرت اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقہ میں مینگروز کے درختوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے سمندر کا پانی دریا کے ساحلی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے۔ اس سے ڈیلٹا کا علاقہ زبردست متاثر ہو رہا ہے۔ سمندروں کے حوالے سے جو حالیہ رپورٹ مرتب ہوئی ہے اس میں بتایا گیا ہے تیس فیصد سے زائد سمندری حیاتیات کی اقسام محروم ہو چکی ہیں۔ سمندر کا پانی نہ صرف کارخانوں کے آلودہ پانیوں سے ہو رہا ہے ،بلکہ ہزاروں کی تعداد میں سمندر میں دوڑتے پھرتے بحری جہازوں کے تیل ، کوڑا کرکٹ کے سمندر میں پھینکے جانے سے بھی سمندر آلودہ اور سمندری حیاتیات متاثر ہو رہی ہیں۔

دنیا کے تقریباً 80فیصد سائنس دان اور ماحولیات کے ماہرین اس نکتہ پر کلی طور پر متفق ہیں کہ کرہ ارض کے قدرتی ماحول اور موسمیات کو بگاڑنے میں ہم سب ذمہ دار ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد اس کلیہ کو تسلیم کرنے پر بالکل تیار نہیں ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر موسمیات کی قدرتی تبدیلیوں کے اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں۔ اس کرۂ ارض پر زلزلے ، سیلاب، طوفان،آندھیاں، بارشیں ، اور ایسی دیگر قدرتی آفات رونما ہوتی رہیں ہیں اور یہ فطرت کا حصہ ہے۔ 

اس گروپ کو یہ بھی شکایت ہے کہ یہ گروہ دنیا کو خوفزدہ کر کے اپنی دوکان چلا رہا ہے اور دنیا کا خوف میں مبتلا کر رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانی ضروریات، خواہشات، حرص و ہوس کی بدولت کرۂ ارض کا قدرتی ماحول اور فطرت کی ترتیب منتشر ہو رہی ہے۔ اس میں دنیا کی آبادی میں بے ہنگم اضافہ ایک بڑا مسئلہ ہے مگر حقائق کو تسلیم نہ کرنے والے اپنی اپنی منطق جھاڑتے ہیں ۔ آبادی میں اضافہ قدرتی عمل ہے، اس سے انسانیت کو کوئی نقصان نہیں اور نہ یہ بوجھ ہے۔

اس طرح کی دلیلیں تراشنے والوں کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ گلوبل وارمنگ کا واویلا کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ گلوبل وارمنگ بھی فطری قانون کا ایک حصہ ہے۔ کبھی سرد کبھی گرم یہ سلسلہ صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ سالانہ اجلاس میں ایتھوپیا کے نمائندے نے تجویز دی کہ اقوام متحدہ کی جانب سے تمام سربراہوں کو کھلاخط ارسال کیا جائے جس میں ماحولیات اور موسمی تغیرات کے حوالے سے اہم نکات اور کرۂ ارض کے تحفظ اور انسانیت کی بقا کے سلسلے میں ایک آسان نصاب ترتیب دیں۔ 

اس نصاب کو دنیا بھر کے اسکولوں میں لازمی پڑھایا جائے جس سے اس اہم معاملہ کی آگہی عام ہوسکے۔ اجلاس میں زیادہ تر ارکین نے ماحولیات اور موسمی تغیرات کے حوالے سے بات کی تھی۔ افریقی نمائندگان کا کہنا تھا کہ افریقہ کے سب صحرا ممالک میں خشک سال کی وجہ سے کروڑوں لوگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ خشک سالی نے بارہ سے زائد ممالک میں قحط کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ اس آفت کی وجہ سے بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان نمائندوں نے عالمی برداری سے اپیل کی کہ اس جانب توجہ دے۔

اجنرل اسمبلی کے اجلاس میں کورونا وائرس پر بہت کچھ کہا گیا۔ سیکرٹری جنرل انتھونی گیئریس نے اپنے خطاب میں بھی کورونا وائرس پر بات کی ،ان کا کہنا تھا، اس سے مزید مضر وائرس رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ کورونا نے عالمی معیشت ، معاشرت اور سیاست کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ اس پر سب ہی کو خدشات ہیں کہ دنیا واپس کورونا وائرس سے قبل دنیا میں واپس جا سکے گی یا نہیں۔ زیادہ تر ماہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسے ہی ماحول میں زندگی گزارنا ہو گی دنیا کورونا سے قبل کی دنیا میں واپس نہیں جائے گی، تاہم اس طرح کے خدشات دنیا کی بڑی آبادی کے دامن گیر ہیں۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے صدارات کا منصب سنبھالنے کے بعد پوری سنجیدگی اور تندہی سے ماحولیات کا مسئلہ اٹھایا تھا، اس ضمن میں وہ پوپ فرانسیس کو اپنی خصوصی قیادت میں شمالی بحراوقیانوس، گرین لینڈ اور قطب شمالی کا دورہ کرایا تھا جس میں انہوں نے پوپ کو پہاڑوں پر صدیوں جمی برف اور دیوہیکل قدرتی گلیشئر دکھائے جن پر سے برف پگھل چکی تھی اور یہ گلیشئر محض پتھریلے پہاڑ نظر آرہے تھے۔ 

پوپ فرانسیس بھی منظر دیکھ کر سکتے میں آگئے تھے جس کا اظہار انہوں نے ویٹی کن سے اپنے کھلے خط میں تمام رہنمائوں سے کیا۔ یہ کھلا خط ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جو دنیا کے تمام سربراہوں کو ارسال کیا گیا تھا جس میں کرۂ ارض کے قدرتی ماحول کے تباہ ہونے اور موسمی تغیرات کے مضر اثرات سے دنیا کے شدید متاثرہونے اور آلودگی میں اضافہ کی وجہ کرہ ارض کو لاحق خطرات اور دیگر پہلوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

سائنس دانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق کرہ ٔاراض کے درجہ حرارت میں 1.3 ڈگری کا اضافہ ہو چکا ہے اور2050 تک اس میں 3ڈگری تک اضافہ ہو سکتا ہے جس سے گلو بل وارمنگ اور سمندروں کی سطح میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس طرح پاکستان میں گرما کے موسم میں درجہ حرارت 40 ڈگری تک جا چکا تھا اور گزشتہ دو تین برسوں سے درجہ حرارت 42ڈگری سے تجاوز کر رہا ہے۔ گزشتہ ہیٹ وے نے شہریوں کو شدید ہراساں کیا ۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں کراچی اور گرد و نواح کا درجہ حرات 50ڈگری تک جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال بہت اذیت ناک اور شائد ناقابل برداشت بھی ہو سکتی ہے۔ دراصل یہی موسمی تغیرات ہیں گزشتہ سال اور جاری سال بھی جو گرمی کی شدت محسوس کی گئی وہ بحرہند ،خاص کر خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں سمندر پر کم ہوا کے دبائو کے سبب تھی، ایسا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

چند ماہ قبل چین میں زبردست بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی تھی ۔ اسی طرح بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے اربوں روپیہ کی املاک کو زبردست نقصان پہنچا۔ تمام فصلیں تباہ ہو گئیں اور تین سو سے زائد افراد ہلاک اور لاپتہ ہو گئے۔ جب کہ امریکی سیاست کیلی فورنیا اور آسٹریلیا کے جنگلات میں بھیانک آگ بھڑکنے کی وجہ سے نقصانات اٹھانے پڑے۔ 

دوسری طرف گلوبل ورامنگ سے زمین خشک سالی کا شکار ہو رہی ہے، پانی کی قلت اور خوراک کی کمی نے لاکھوں افراد کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ نئے نئے وائرس انسانی زندگی کو مزید اجیرن بنا رہے ہیں ، ایسے میں یہ کرۂ ارض اور اس کا قدرتی ماحول جو بتدریج بگڑتا جا رہا ہے، ماحول دوست انسانوں کی راہ تک رہے ہیں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اتنے عرصے سے دنیا آگاہ ہے کہ زمینی ماحول بے ترتیب ہو رہا ہے۔ موسمی تغیرات تباہی مچا رہے ہیں۔ آلودگی میں اضافہ تمام قدرتی ماحول کو تباہ کر رہا ہے، مگر ہم اس زمین پر ایک بھی ایسا گوشہ نہ بنا سکے جو ماحول دوست ہو۔

واقعہ یہ ہے کہ ہماری زمین کی عمر ساڑھے چار ارب سال کے لگ بھگ ہے اور انسان کی عمر تقریباً ساٹھ لاکھ سال ہے، کیونکہ ماضی بعید کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ ہماری زمین نظام شمسی کا ایک چھوٹا سا سیارہ ہے۔ جب کہ نظام شمسی کائنات کی ہزاروں کہکشائوں میں محض ایک زرہ کے مترادف ہے۔

ماہرین ارضیات کہتے ہیں کہ گزرے لاکھوں برسوں میں زمین کو نہ جانےکتنے معرکوں، زلزلوں، طوفانوں اور پرتوں کی تبدیلیوں کے عمل سے گزرنا پڑا ہو گا۔ زمین کا موجودہ نقشہ ماضی بعید میں ایسا نہ تھا۔ زمین کی پرتوں کی تبدیلی، لاوے کے بہائو اور قدرتی آفات کے سلسلوں نےہمیشہ زمین کی ہیٔت میں تبدیلیوں کو جگہ دی اور گزرتے وقت اور زمین کے بدلتے نقشوں کے ساتھ آج زمین کا نقشہ ہمارے سامنے ہے۔ 

توقع ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ہزاروں برسوں بعد زمین کا نقشہ بھی تبدیل ہو جائے گا، ویسے سائنس دانوں اور ماہرین کے مطابق یہ عمل جاری و ساری ہے مگر ہم محسوس نہیں کر سکے۔ سائنس داں ہماری زمین جیسا کوئی اور سیارہ تلاش کرنے کی جستجو میں ہیں، مگر کائنات کی بے کراں وسعتوں میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ، تاہم حال ہی میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے۔ ہماری کہکشاں سے دور دوسری کہکشاں میں زمین سے ملتا جلتا سیارہ دیکھا گیا ہے۔ 

جو ہم سے ہزاروں نوری سال دور ہے۔معروف سائنس داں اسٹفین ہاکن نے خاص طور کہاتھا کہ انسان کو دوسرے سیارے پر جا کر آباد ہونے کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ انسان اس زمین کا حصہ ہے اور یہاں پیدا ہوا اگر کسی اور جگہ جا کر آباد ہونے کا سوچتا ہے تو وہاں پنپ نہیں سکتا۔ یہ بات ایک عظیم سائنس داں نے ہمیں خبردار کرنے کے لئے کہہ دی، مگر مسئلہ تو یہ درپیش ہے کہ ہم اپنی زمین، اس پر موجود تمام حیاتیات، نباتیات اور حیوانات کی بقا کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔

ایک طرف گلوبل وارمنگ، گلوبل کولنگ زبردست خطرہ بن کر ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے، دوسری طرف ہماری آبادی، ہماری ضروریات، خواہشات، طمع، حرص بڑھتی جارہی ہے۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ درخت قدرت کا عظیم تحفہ ہیں جو ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں مگر انہیں کاٹ کر پیسہ کما رہے ہیں، جنگلات تباہ کررہے ہیں۔ صنعتی کارخانوں کا زہریلا فضلہ سمندروں میں بہا رہے ہیں اور سمندری حیاتیات کو تباہ کررہے ہیں۔ قدرتی کوئلہ، تیل، گیس اور دیگر معدنیات نکال نکال کر زمین کو کھوکھلا کررہے ہیں۔ قدرتی کوئلہ گیس کے بے تحاشہ استعمال سے آلودگی میں زبردست اضافہ کررہے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ ہماری زمین، نظام شمسی اور دیگر ہزاروں کہکشائیں ایک قانون، ایک اصول اور طریقہ کار پہ عمل پیرا ہیں۔ اس طرح ہماری زمین پر چھپی ہوئی ہر قدرتی چیز ایک دوسرے کے ساتھ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ اگر ہم اس قدرتی طریقہ کار میں مداخلت کریں، اصولوں کی خلاف ورزی کریں اور قانون فطرت کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس سے کھلواڑ کریں تو ظاہر ہے اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ 

جوبتدریج آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں اور ہماری زندگی خدشات سے گزر کر خطرات کے دائروں میں سمٹتی جارہی ہے۔ ہم نے قدرتی اصولوں سے کھلواڑ تو بہت پہلے شروع کر رکھا تھا مگر گزری صدی سے کچھ پہلے ہماری صنعتی ترقی نے ہمیں فطری قوانین کو رد کرنے پر مائل کیا۔ اس ضمن میں قدرتی معدنیات اور دیگر قدرتی ذرائع کے بے تحاشہ استعمال نے قدرتی قوانین کو متاثر کیا اور قدرتی ماحول پر اس کے منفی اثرات غالب آئے، اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ 

انسان ترقی کی معراج تک جانا چاہتا ہے مگر ضروریات، خواہشات اور احتیاجات کے تعاقب میں بھاگتے بھاگتے اجارہ دار، منافع خوروں کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ اجارہ دار منافع خور دنیا کے غریب ممالک کے قدرتی وسائل کا بری طرح استعمال کرکے غریب ملکوں کے غریب عوام کو مزید مصائب و آلام اور غربت اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ 

اجارہ دار منافع خور اپنے کارخانوں کو ’’ماحول‘‘ دوست اس لئے نہیں بناتے کہ اس پر الگ پیسہ خرچ ہوگا اور ان کا منافع گھٹ جائے گا۔ اپنے منافع کو بچانے کے لئے وہ نہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر اپنے استعمال شدہ پانی کو کیمیکل اور دیگر مضر اشیاء سے پاک صاف کرتے ہیں وہ پانی سیدھے سیدھے کھیتوں، نالوں، دریائوں اور سمندر میں بہا دیتے ہیں۔ اسی طرح کارخانوں سے کثیف دھوئیں کے بادل نکلتے ہیں، اس دھوئیں کو بھی صاف کرنے، کم کرنے کے طریقہ کار اور آلات موجود ہیں ،مگر وہی بات کہ خرچہ کون کرے، دھواں فضا میں بکھر کر غائب ہوجائے گا۔ 

اس طرح ماحولیات کے بگاڑ میں بڑا حصہ کارخانوں، پبلک ٹرانسپورٹ، نجی گاڑیوں، بجلی اور تیل سے چلنے والے آلات اور مشین کا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبادی میں بے ہنگم اضافہ کی وجہ سے ضروریات زندگی کے لوازمات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ مزید برآں دیہی علاقوں میں قدرتی آفات، زرعی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت اور بے روزگاری میں اضافہ کے سبب دیہی آبادی کا شہروں کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ شہروں میں انسانوں کا اژدھام کندھے سے کندھا چھل رہا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے شہریوں میں طرح طرح کی نفسیاتی الجھنیں جنم لے رہی ہیں۔ وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں، کہیں پانی بھرنے پر جھگڑا، کہیں کوڑا کرکٹ پھینکنے پر جھگڑا، گلی کوچوں، ذیلی سڑکوں پر کوڑے کے ڈھیر، ٹوٹی سڑکیں، ٹھہرا ہوا گندا پانی، مچھروں اور مکھیوں کی پناہ گاہیں ہیں۔

دنیا کے تمام انسانوں کو نہ صرف اس کرہ ارض کے بچائو کی جدوجہد کرنی ہے بلکہ تمام پسماندہ معاشروں میں پھیلے طرح طرح کے تعصبات، جبر ، استحصال ، ناانصافی اور طبقاتی تفریق کے خلاف بھی آواز اٹھانا ہے۔

بڑی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے لگتا ہے کسی بھی حد سے گزرنے کو ہمہ وقت تیار بیٹھی ہیں۔ جوہری ہتھیار، مضر کیمیکل ہتھیار اور طرح طرح راکٹ مزائل، ان تمام خطرات میں الجھی انسانیت کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔ تمام انسان دوست اور ماحول دوست، رہنما، دانشور، صحافی، مصنف، شاعر اور فن کار اس گومگو کی صورت حال میں اپنی کوشش کررہے ہیں، مگر طاغوتی طاقتوں کے سامنے یہ محض مٹھی بھر لوگ ہیں، پھر ان کو بھی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، مگر ایسے ہی لوگ انسانیت کی رہبری کرتے ہیں۔ 

اس کے باوجود گزشتہ ایک صدی کے دوران معیشت اور سیاست پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والوں نے انسانی معاشروں کو غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور مایوسی کے سوا کیا دیا۔ اس وجہ سے عوام کی بڑی تعداد افراتفری، مایوسی، بیزاری اور بے یقینی کی کیفیات میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں، گویا ہر طرف نفسانفسی عام ہورہی ہے۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اجارہ دار منافع خور گروہ کو یہ قطعی ناپسند ہے کہ ماحولیاتی سائنس اور موسمی تغیرات کے حوالے سے آگہی کو فروغ دیا جائے ،وہ ایسے ہر عمل کو کسی نہ کسی طرح سبوتاژ کرتے ہیں اور اس کے لئے گاجر اور اسٹیک کے استعمال کو بھی قطعی جائز سمجھتے ہیں۔ گرین پیس نامی معروف غیرسرکاری تنظیم جو ایک وقت جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے خلاف آواز اٹھاتی رہی، گزشتہ تیس چالیس برسوں سے قدرتی ماحول میں بگاڑکے مسئلے پر آواز اٹھاتی رہی ہے۔ 

اس حوالے سے بعض حلقوں کی رائے یہ ہے کہ گرین پیس اجارہ دار سرمایہ داروں کے اولادوں کی تنظیم ہے، جن کو ماحولیات کے مسئلے پر میدان میں لایا گیا ان نوجوانوں کا رویہ تفریح بھی تھی اور خالی میدان میں جگہ بنانے میں آسانی بھی تھی۔ اجارہ دار نہیں چاہتے کہ اس مسئلے کو حقیقی لوگ اپنے ہاتھ میں نہ لیں، عوام کو اس معاملہ میں آگہی کو فروغ نہ دیں ،تاکہ عوام حقائق سے آگاہ نہ ہوپائیں۔ اس ضمن میں عوام دوست اور ماحول دوست حلقوں کی رائے ہے کہ اقوام متحدہ ایک واحد عالمی فورم ہے جہاں آواز بلند کی جاسکتی ہے۔ ہر چند کہ وہاں بڑی طاقتوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ 

ایسے حالات میں پاکستانی وزیر اعظم نے سعودی عرب میں ماحولیات کی کانفرنس میں اپنا دو ٹوک موقف بیان کرکے ماحول دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ ویسے پاکستان میں وزارت برائے ماحولیات اور موسمی تبدیلی موجود ہے ،جس کی وزیر مملکت محترمہ زرتاج گل سربراہ ہیں۔ وزرارت ماحولیات مکمل مشینری ہے۔ پورا سرکاری عملہ موجود ہے، بلکہ شاید زائد ہے اس کے علاوہ وزارت کے ذیلی ادارے موجود ہیں۔ قومی پروگرام برائے ماحولیات اور موسمی تبدیلی الگ ہے اس میں بھی عملہ اور پروگرام کے کرتا دھرتا موجود ہیں۔ پاکستان میں درست بات کو بھی شک کی نظر سے دیکھنے کی روایت مستحکم ہورہی ہے اس کی وجہ ظاہر ہے قوم کو اتنے صدمے اور دھوکے اٹھانے پڑے ہیں کہ دودھ کا جلا پانی بھی پھونک کر پیتا ہے۔

اس بحث سے قطع نظر کہ کیا درست ہے کیا غلط۔ وزیر اعظم کو اپنی پوری ٹیم سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں اور وہ ماحولیات کے مسئلے میں گہری دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔ پندرہ بیس برس قبل سابق صدر آصف علی زرداری، سابقہ وزیر جب محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں، زرداری صاحب کا کہنا تھا کہ بہت بڑی تعداد میں ملک میں شجرکاری کی گئی ہے۔ اس سے ملک ہرا بھرا ہوجائے گا۔ عمران خان کے دور میں ملک میں ایک ارب پودوں کی آبیاری کا دعویٰ ہے۔ انشاء اللہ ملک ضرور ہرا بھرا ہوجائے گا اور آلودگی کےبادل چھٹ جائیں گے۔