• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہنگائی نے لنڈے بازار کو بھی گھیرے میں لے لیا


مہنگائی کے طوفان نے لنڈے بازار کو بھی گھیرے میں لے لیا، لنڈا بازار اب سستے رہے نہ ہی سستے بازار بچے ہیں، ہر طرف مہنگائی کا دور دورا ہے۔

ہفتہ بازار میں بھی خریداری دشوار ہو کر رہ گئی، مہنگی سبزی منہ چڑارہی ہے اور پھلوں کے دام ہوش اڑا رہے ہیں۔

دگنے دام سن کر شہری پریشان ہیں جبکہ دکاندار بھی خریدار کم ہونے پر مایوسی کا شکار ہیں، ٹماٹر خود لال نہیں ہیں مگر دام سن کر شہری لال پیلے ہوگئے ہیں۔

ٹماٹر اسلام آباد میں 150 روپے، پشاور میں 160 روپے کلو میں فروخت ہونے لگے جبکہ پشاور میں آلو 120 روپے مٹر 400 روپے کلو تک پہنچ گئے۔

کوئٹہ میں ڈبل روٹی یکدم 20 روپے مہنگی، خوردنی تیل اور گھی کی قیمت میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا، قیمتیں 46 روپے تک بڑھادی گئیں۔

مہنگائی کے ستائے لوگ گرم کپڑوں کی خریداری کے لیے لاہور کے لنڈا بازار پہنچ گئے لیکن مہنگائی کا سن کر مایوس لوٹ گئے۔

سویٹر، جیکٹس، کوٹ، جرابیں، مفلر اور جوتوں سمیت ہر چیز کی قیمت اتنی کہ خریدار حیران رہ گئے۔

دکاندار کہتے ہیں کہ انہیں مال ملا ہی مہنگا ہے تو وہ سستے داموں کیسے بیچ دیں، گاہک کم ہونے پر خود بھی پریشان ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے استعمال شدہ کپڑے بھی غریب کی پہنچ سے دور کر دیے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید