• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حق پر کھڑے شخص کی طاقت کو کبھی کم مت سمجھیں، ایک ایماندار SP پورا ضلع ٹھیک کرسکتا ہے، عمران خان

ایک ایماندار SP پورا ضلع ٹھیک کرسکتا ہے، عمران خان


اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو شخص حق پر کھڑا ہو اس کی طاقت کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہئے‘ایک ایماندار تھانیدار پورے تھانے اور ایک ایماندار ایس پی پورے ضلع کو ٹھیک کر سکتا ہے‘ ایمان انسان کی سب سے بڑی قوت ہوتی ہے۔آزمائش میں ہی پتہ چلتا ہے کہ ایمان کتنا مضبوط ہے۔

بڑا انسان وہی ہوتا ہے جس کا خواب بڑا ہو۔آئیڈیل ازم کہتی ہے کوئی چیز ناممکن نہیں ۔ زندگی میں دوراستے ہونگے ‘ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ملک میں پہلے اخلاقیات پھر معیشت نیچے گئی ۔ برائی وزیراعظم اوروزراءسے شروع ہوکر نیچے تک جاتی ہے۔ 

پاکستان میں ماضی میں چوری اور کرپشن کو برائی سمجھا ہی نہیں گیا۔حق کا راستہ ہمیشہ مشکل ہوتاہے۔انسان پوزیشن کو بناتاہے ‘پوزیشن انسان کو نہیں بناتی ۔آپ طاقتورکو قانون سے اوپررکھتے ہیں تو انصاف نہیں کرسکتے ‘ جب آپ سچ پرکھڑے ہوتے ہیں تو ﷲ کی قوت حاصل ہوتی ہے ‘ایک انسان راہ حق پر کھڑا ہوتو اس کا بہت بڑااثر ہوتاہے۔

چین کے سابق صدر ماؤزے تنگ نے پاکستانیوں میں ﷲ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے پاکستان کو ایک عظیم ملک قرار دیا تھا اور ان کا کہنا تھا جو قوم شدید گرمی میں رمضان میں روزہ کی حالت میں پانی نہیں پیتی ،وہ ﷲ کے خوف سے سچ بھی بول سکتی ہے اور وہ چوری بھی نہیں کرے گی۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایڈمنسٹریٹو سروس کے 44ویں خصوصی تربیتی پروگرام کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب اور ایک بیان میں کیا ۔ دریں اثناءعمران خان سے وزیر دفاع پرویز خٹک اورخیبر پختونخوا کے وزیر آئی ٹی و خوراک عاطف خان نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں ۔ 

تفصیلات کے مطابق اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اپنے منصب کا اگر صحیح اور انصاف سے استعمال کیا جائے گا تو پھر مشکل راستہ بھی آسان ہو جائے گا‘انصاف نہ کرنے والی قومیں مٹ جایا کرتی ہیں‘جو انسان اخلاقی طور پر کمزور ہو گا وہ انصاف بھی نہیں کر سکتا اور وہ پھر این آر او دیتا ہے اور چوروں سے ڈیل کرتا ہے۔

انسان کو اپنی زندگی میں دو راستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ، ایک راستہ کامیابی اور دوسرا راستہ تباہی کا ہوتا ہے، ایک راستہ بظاہر مشکل لگتا ہے لیکن وہی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ مختصر اور شارٹ کٹ کا راستہ ہوتا ہے۔ 

تمام غریب ممالک میں بدعنوانی ایک مشترکہ مسئلہ ہے کیونکہ وہاں پر اخلاقی اقدار کمزور ہوتی ہیں‘انہوں نے کہا کہ 80ء کی دہائی میں پاکستان ہندوستان سے امیر ملک تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ ہم سے آگے نکل گیا، بنگلہ دیش بھی ترقی کی دوڑ میں پاکستان سے آگے نکل گیا۔

جب اشرافیہ کی اخلاقیات گرتی ہے تو پھر سارے ملک کی اخلاقیات تنزلی کا شکار ہو جاتی ہے پھر صرف پٹواری اور تھانیدار کو ہی کرپشن کا الزام نہیں دینا چاہئے، وزیراعظم اور وزیروں سے جب کرپشن شروع ہو تو وہ نیچے تک جاتی ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے کہا ہے کہ افغان عوام کو انسانی بحران سے بچانا ہر ایک کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ 

منگل کو اپنے بیان میں عمران خان نے برطانوی نشریاتی ادارے کی افغان عوام کو درپیش غذائی قلت کے خطرے سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے افغانستان میں انسانی بحران سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا، اب عالمی ادارہ خوراک کے سربراہ نے الرٹ جاری کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہے گا لیکن عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید