• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق چیف جج GB رانا شمیم غیر حاضر، بیٹا عدالت میں پیش


سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم کے بیانِ حلفی پر خبر شائع کرنے کے معاملے میں عدالتی نوٹس کے باوجود سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم آج غیر حاضر رہے جبکہ ان کے صاحبزادے احمد حسن رانا ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری، دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللّٰہ نیازی بھی عدالت میں پہنچ گئے۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے صاحبزادے احمد حسن رانا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ والد صاحب رات اسلام آباد پہنچے ہیں، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔

‏رانا شمیم کے بیٹے نے عدالتی عملے سے کمرۂ عدالت میں ویڈیو چلانے کی اجازت مانگ لی اور کہا کہ ہم ایک ویڈیو عدالت میں چلانا چاہتے ہیں، اس کے لیے لیپ ٹاپ لا سکتے ہیں؟

عدالتی عملے نے جواب دیا کہ سماعت شروع ہو گی تو جج صاحب سے پوچھ لیجیئے گا۔

دورانِ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو روسٹرم پر بلا لیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن سے مخاطب ہو کر کہا کہ بہت بھاری دل کے ساتھ آپ کو سمن کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا اور نیوز پیپر میں فرق ہوتا ہے، اخبار کی ایڈیٹوریل پالیسی اور ایڈیٹوریل کنٹرول ہوتا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اس ہائی کورٹ کے جج سے متعلق بات کی گئی جو بلاخوف و خطر کام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں اپنے ججز کے بارے میں پر اعتماد نہ ہوتا تو یہ پروسیڈنگ شروع نہ کرتا، اس عدالت کے ججز جوابدہ ہیں اور انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اگر عوام کا عدلیہ پر اعتماد نہ ہو تو پھر معاشرے میں انتشار ہو گا، میرے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم چلائی گئی کہ یوکے میں فلیٹ لیا ہے، اگر ایک سابق چیف جج نے کوئی بیانِ حلفی دیا تو آپ وہ فرنٹ پیج پر چھاپیں گے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ پٹیشنرز کی اپیلوں پر ملک کے مایہ ناز وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے، ان کے ساتھ بیرسٹر عائشہ حامد اور امجد پرویز سمیت دیگر وکلاء 17 جولائی کو پیش ہوئے، وکلاء کی درخواست پر چھٹیوں کے باوجود اپیلوں کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کا اس کورٹ پر اعتماد تباہ کرنے کیلئے حقائق کو نظر انداز کر کے اسیکنڈل چھاپا گیا، میرے سامنے اگر کوئی چیف جسٹس ایسی کوئی بات کرے تو میں تحریری طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کو آگاہ کروں گا، چیف جسٹس کے سامنے کوئی جرم کرے اور وہ 3 سال خاموش رہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، کیا آپ نے ہمارے رجسٹرار سے پتہ کیا کہ کون سے ڈویژن بینچز کام کر رہے تھے؟ کیا آپ نے یہ ریکارڈ نکالا؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ میرا احتساب ہے، آپ نے خبر سے جج کا نام نکال کر تمام ججز کو مشکوک کر دیا، مہربانی کر کے ہمارا احتساب کیجیئے لیکن ہمیں متنازع نہ بنائیے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ تمام لوگ 26 نومبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رانا شمیم خود کیوں پیش نہیں ہوئے؟

رانا شمیم کے وکیل نے بتایا کہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کل رات ہی عارف والہ سے پہنچے ہیں، ان کی طبیعت خراب ہے، ان کے بھائی کی وفات ہوئی ہے، ایک اور نوٹس بھی جاری ہونا چاہیئے، فیصل واؤڈا نے رانا شمیم کے بارے میں اول فُول کہا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں ہدایت کی کہ آپ اس حوالے سے الگ درخواست دے سکتے ہیں، اس کیس کے ساتھ اسے مکس نہیں کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اگر بیانِ حلفی جھوٹا ثابت ہو تو اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ رانا شمیم کے بھائی کی وفات 6 نومبر کو ہوئی اور لندن جا کر 10 نومبر کو انہوں نے یہ بیانِ حلفی دیا، بیانِ حلفی کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے، صبح سے شام تک ٹی وی چینلز پر ایک ہی موضوع ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن سے مخاطب ہو کر کہا کہ انصار عباسی صاحب! سزا معطل کرنے والا بینچ کس کے کہنے پر بنا، کتنی سماعتیں ہوئیں؟ آپ کو چیلنج ہے کہ میری عدالت کے کسی جج نے کسی کو اپنے گھر بھی آنے کی اجازت دی تو میں جواب دہ ہوں۔

انصار عباسی نے جواب دیا کہ میں نے بیانِ حلفی رپورٹ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں آپ سب کو شوکاز نوٹس جاری کر رہا ہوں، تمام لوگ 26 نومبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ میں آئندہ سماعت پر یہاں نہیں ہوں گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے انہیں ہدایت کی کہ آپ اپنی جگہ کسی نمائندے کو مقرر کر دیجیئے گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ انصارعباسی صاحب! آپ پیغام رساں نہیں، میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ ہماری عدالت سائلین کے سامنے اکاؤنٹ ایبل ہے، پلیز ہیڈ لائن پڑھیں۔

انصار عباسی نے دی نیوز میں اپنی اسٹوری کی ہیڈ لائن پڑھ کر سنائی۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا ہماری کورٹ کے ججز کسی سے ہدایات لیتے ہیں؟ یہ بیانِ حلفی کسی جوڈیشل ریکارڈ کا حصہ نہیں، آپ نے اس بات کی تحقیق کی کہ بیانِ حلفی لندن میں نوٹرائزڈ کیوں کرایا گیا؟ آپ نے پتہ کیا کہ ایون فیلڈ کا فیصلہ کب آیا؟ میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر بیرونِ ملک تھے، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ابتدائی سماعت کی۔

انصار عباسی نے عدالتِ عالیہ سے درخواست کی کہ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں؟

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے جواب دیا کہ آپ کیا کہہ سکتے ہیں، آپ نے جو نقصان پہنچانا تھا پہنچا دیا، اس عدالت کی آزادی و غیر جانبداری کا ریکارڈ خود گواہ ہے، ایک خدشہ ہے کہ یہ بیانِ حلفی جعلی ہے۔

انصار عباسی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کوئی ایک ثبوت دکھائیں کہ اس کیس کے ججز کسی اور سے ہدایات لیتے ہیں، میں اس کی ذمے داری قبول کروں گا، سوشل میڈیا کی حد تک ٹھیک ہے، ان کی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں ہوتی۔

انصار عباسی نے جواب دیا کہ بیانِ حلفی کی اسٹوری میں نے کی اور پیشہ ورانہ تقاضے پورے کیئے، یہ بیانِ حلفی میرا نہیں، سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کا ہے، میں صحافی ہوں، میرا کام پیغام پہنچانا ہے، میں نے بیانِ حلفی دینے والے رانا شمیم سے اس بات کی تصدیق بھی کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے انہیں ہدایت کی کہ آپ فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہینِ عدالت کیس کا فیصلہ پڑھیں۔

انصار عباسی نے کہا کہ یہ میری اسٹوری ہے، اگر آپ نے کوئی کارروائی کرنی ہے تو میرے خلاف کریں، ایڈیٹر اور ایڈیٹر انچیف کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں، میں نے یہ کورٹ کی عزت کے لیے کیا ہے، میں نے تو اپنی اسٹوری میں ہائی کورٹ کے جج کا نام بھی نہیں لکھا، سابق چیف جج نے سابق چیف جسٹس پاکستان پر ایک الزام لگایا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ یہ الزم اس کورٹ کے خلاف لگایا گیا ہے، الزام لگایا گیا ہے کہ یہ ہائی کورٹ ہدایات لیتی ہے، اس عدالت کے وقار پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جیسا آپ سوچ رہے ہیں، مسلسل یہ بات کی جا رہی ہے کہ کہا گیا، انہیں الیکشن سے پہلے نہ چھوڑیں، کم از کم آپ ہمارے رجسٹرار سے پوچھ لیتے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو 7 روز میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی۔

قومی خبریں سے مزید