• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

طویل انتظار کے بعد بلوچستان کابینہ کی تشکیل

سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کے اپنے خلاف تحریک عدم پر ووٹنگ سے قبل مستعٰفی ہونے اور میر عبدالقدوس بزنجو کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے دس دن کے انتظار کے بعدصوبائی کابینہ تشکیل دیدی گئی تھی ، 18 ترمیم کے تحت صوبے میں وزرا کی تعداد 14 اور مشیروں کی تعداد 5 تک محدود ہونے کی وجہ سے میر عبدالقدوس بزنجو کی 14 رکنی کابینہ نے 07 نومبر کوگورنر ہاوس میں حلف اٹھایا تھا جبکہ 5 مشیروں کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد وزرا اور مشیروں کو محکموں کے قلمدان تفویض کرنے کا مرحلہ بھی کابینہ کی تشکیل کی طرح طویل رہا اور وزرا کے حلف اٹھانے کے ایک ہفتہ کے بعد وزرا اور مشیروں کو ہفتہ رفتہ کے دوران محکموں کے قلمدان تفویض کردیئے گئے۔ 

وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی کابینہ میں نوابزادہ طارق مگسی ایس اینڈ جی اے ڈی ، سردار محمد صالح بھوتانی محکمہ بلدیات و دیہی ترقی ، ظہور احمد بلیدی محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، میر اسد بلوچ محکمہ زراعت و امداد باہمی ، حاجی محمد خان لہڑی آبپاشی ، میر سکندر علی عمرانی بورڈ آف ریونیو ، حاجی اکبر آسکانی ماہی گیری و امور حیوانات ، انجینئر زمرک خان اچکزئی محکمہ خوراک ، نور محمد دمڑ محکمہ خزانہ ، میر نصیب اللہ خان مری محکمہ تعلٰیم ہائیر اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، سردار عبدالرحمٰن کھیتران محکمہ مواصلات ، سید احسان شاہ محکمہ صحت ، عبدالخالق ہزارہ کھیل امور نوجوان ثقافت سیاحت و آثار قدیمہ مبین احمد خلجی سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر ہونگے۔

صوبائی مشیر نوبزادہ میر گہرام خان بگٹی لیبر اینڈ مین پاور ، عبدالرشید بلوچ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، سردار مسعود خان لونی ٹرانسپورٹ و بہبود آبادی ، میر نعمت اللہ زہری محکمہ توانائی اور میر ضیاء اللہ لانگو داخلہ ، جیل خانہ جات اور قبائلی امور کے مشیر ہونگے جبکہ پارلیمانی سیکریٹری بشری رند محکمہ سماجی بہبود غیر رسمی تعلیم و اطلاعات ،ماہ جبین شیران ترقی خواتین ، لیلیٰ ترین ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن ،مٹھا خان کا کڑ معدنیات و معدنی ترقی، خلیل جارج اقلیتی امور و انسانی حقوق اور حاجی طور اتمانخیل صنعت و تجارت کے پارلیمانی سیکریٹری ہونگے۔ 

صوبائی وزرا اور مشیروں کو محکموں کے قلمدان تفویض کرنے میں تاخیر کے باعث صوبے کے سیاسی حلقوں سمیت عوام میں بھی ایسی چہ مگوئیاں ہوتی رہیں کہ وزارتوں کی تقسیم کے حوالے سے کہیں اختلافات ہیں اور ایسی باتیں بھی ہوتی رہیں کہ بعض وزرا اپنی پسند کے محکمے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ایک سے زائد وزرا ایک محکمے کا قلمدان چاہتے ہیں اس دوران وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کے یکے بعد دیگرئے اسلام آباد کے دوروں سے ایسی افواہیں زور پکڑتی رہیں تاہم ہفتہ رفتہ کے دوران صوبائی وزرا ، مشیروں اور پارلیمانی سیکرٹریوں کو محکموں کے قلمدان تفویض کردیئے گئے ، یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ صوبائی کابینہ میں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کی کابینہ میں شامل 6 وزراء پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند ، میر عمر خان جمالی ، بلوچستان عوامی پارٹی کے میر عارف جان محمد حسنی ، میر سلیم کھوسہ ، مٹھا خان کاکڑ ، محمد خان طور اتما نخیل ، دو مشیر عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم بازئی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار سرفراز ڈومکی شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ 

نئی کابینہ میں پانچ نئے وزرا بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار صالح بھوتانی ، میر سکندرعلی عمرانی ، سید احسان شاہ ، پاکستان تحریک انصاف کے نصیب اللہ مری ، مبین خان خلجی اور تین نئے مشیر پی ٹی آئی کے میر نعمت اللہ زہری ، بی ائے پی کے عبدالرشید بلوچ اور سردار مسعود لونی شامل کیے گئے ہیں ، حیرت انگیز طور پر صوبائی کابینہ میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے سابق کابینہ میں شامل 4 وزرا بھی نئی کابینہ میں شامل نہیں ، پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند جنہوں نے صوبائی کابینہ کی تقریب حلف برداری میں بھی شرکت نہیں کی تھی نے پہلے بلوچستان اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اپنا موقف رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان کابینہ کی تشکیل میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا بلکہ بلوچستان میں ہماری پارٹی کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ، یہاں تک کے وزیراعظم عمران خان کو بھی صوبائی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا اور واضح کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلاکر حکومت میں رہنے ، اپوزیشن یا آزاد بینچوں پر جانیکا فیصلہ کریں گے۔ 

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رندنے ہفتہ رفتہ کے دوران ایک پریس کانفرنس میں واضح انداز میں وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو کی پارلیمان میں حمایت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر اس بات کا عندیہ دیا کہ نہ صرف جلد پارلیمانی ساتھیوں کا اجلاس بلائیں گے بلکہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے زریعے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بلوچستان اسمبلی میں سات ارکان ہیں اور پی ٹی آئی مخلوط صوبائی حکومت میں حکمران بلوچستان عوامی پارٹی کے بعد عددی اعتبار سے دوسری بڑی جماعت ہے،سنجیدہ سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کوکسی بھی ممکنہ سیاسی مشکلات سے بچنے کے لئے سردار یار محمد رند کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا ، سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نےبھی جب موجودہ کابینہ میں سینئر صوبائی وزیر سردار محمد صالح بھوتانی سے محکمہ بلدیات کا قلمدان واپس لیا تھا جبکہ سردار یار محمد رند نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیا جو اگرچہ منظور نہیں ہوا تھا تاہم اس دوران بھی سیاسی حلقوں کی رائے تھی کہ جام کمال خان کو سردار محمد صالح بھوتانی اور سردار یار محمد رند کو جلد از جلد منالینا چاہیے۔ 

سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر جام کمال خان قدرئے تاخیر سے سردار یار محمد کو منانے چلے گئے گئے تھے مگر سردار محمد صالح بھوتانی سے ان کی دوری کم نہ ہوسکی جس کی وجوہات دونوں رہنماوں کا ایک ہی ضلع سے تعلق ہونا اور بعض سیاسی معاملات بھی رہے ، تاہم وجوہات کچھ بھی ہوں بہرحال جام کمال خان کی جانب سے اپنے وزرا کو منانے میں تاخیر ان کے لئے مشکل کا باعث بنی، اب دیکھنا ہے کہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجوموجودہ سیاسی صورتحال کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں یہ بات تو طے ہے کہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو تمام ارکان کو ساتھ لیکر چلے تو ان کے لئے صوبے میں ڈلیور کرنا آسان ہوگا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید