• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مایا علی کا وکلاء کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ

پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مایاعلی نےحکومت پاکستان سے ملیر کورٹ کے احاطے میں خاتون کارکن سے بدسلوکی کرنے والے وکلاء کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مایا علی نے اپنی انسٹا اسٹوری پر لکھا کہ’ ابھی سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک ویڈیو دیکھی ہے، جس میں کچھ ذہنی مریض، ان پڑھ یا پھر انہیں تعلیم یافتہ جانور کہنا چاہیے جوکہ خود کو وکیل کہتے ہیں، ایک خاتون کو بری طرح مار رہے تھے‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ’ان کے پاس اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اپنے جذبات کااظہار کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں‘۔

انہوں نے لکھا کہ’ کیا یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو انصاف کے لیے لڑنے والے ہیں اور لوگوں کو انصاف فراہم کرتے ہیں‘۔

مایا علی نے حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ’ ان وکلاء کے خلاف سخت ایکشن لیاجائےاور ان کے لائسینس معطل کیے جائیں اور انہیں سخت سزا دی جائے تاکہ دوبارہ ایسا کرنے کے بارے میں اپنے خوابوں میں بھی نا سوچیں‘۔

خیال رہے کہ کراچی میں ملیر کورٹ کے احاطے میں ایک خاتون کارکن کی پٹائی کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

خاتون کارکن لیلی پروین کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ہےاور انہوں نے اس معاملے کی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کروادی ہے۔

خاتون کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہےکہ’ملیر کورٹ کے احاطے میں ان کے سابق شوہر ایڈوکیٹ حسنین اور ان کے ساتھی وکلاء نےانہیں گالیاں دیں اور مار پیٹ بھی کی‘۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید