• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یونیورسٹیاں غریب طلبہ کی گریجویشن کے بعد اعلیٰ ملازمتیں دلوائیں گی

لندن (پی اے) حکومت کے نئے پلان کے مطابق یونیورسٹیوں کو اپنے غریب طلبہ کی گریجویشن کے بعد انھیں اعلیٰ ملازمتیں دلوانا ہوں گی۔ یونیورسٹیوں سے متعلق امور کے وزیر مائیکل ڈونیلن وائس چانسلرز کو اپنے 5 سالہ اہداف کو دوبارہ مرتب کرنے کی ہدایت کریں گے اور جو یونیورسٹیاں اپنے اہداف پورے نہیں کرسکیں گی انھیں طلبہ سے پوری فیس وصول کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ ایک سٹڈی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس کے مطابق بعض یونیورسٹیاں اپنے غریب طلبہ کی زیادہ کمائی کے حوالے سے مدد نہیں کر رہی ہیں۔ فسکل اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ اور سٹن ٹرسٹ ایجوکیشن ٹرسٹ نے اپنی اسٹڈی میں اس بات کا تجزیہ کیا کہ ہر یونیورسٹی میں مفت کھانے والے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے کتنے طلبہ ہیں اور ان میں سے کتنے آمدنی کے اعتبار سے 20 اعلیٰ ترین عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور کتنے تعلیم چھوڑ گئے۔ سٹڈی رپورٹ سے انکشاف ہوا کہ داخلوں کیلئے نرم شرائط والی نسبتاً نئی یونیورسٹیوں میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے غریب طلبہ کو دوسری یونیورسٹیوں کے مقابلے میں دگنے یعنی 2 فیصد طلبہ کو اعلیٰ ملازمتوں تک پہنچایا جبکہ مشہور یونیورسٹیوں نے اپنے صرف ایک فیصد طلبہ کو اعلیٰ ملازمتوں تک پہنچایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کا سبب یہ ہے کہ نئی یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرائط نرم ہونے کی وجہ سے زیادہ تعداد میں غریب گھرانوں کے بچے داخلے لیتے ہیں، اس لئے ان کے اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے غریب بچوں کو 25 فیصد داخلے دینے کا اعلان کیا تھا۔ 1992 یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی بڑی تعداد اب بھی اعلیٰ عہدوں پر کام کررہی ہے جبکہ کم آمدنی والی فیملیز، جو رسل گروپ کے اداروں میں لیبر مارکیٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، یہ یونیورسٹیاں ماضی میں مفت کھانے والے اسکولوں کے بہت کم بچوں کو داخلہ دیتی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے متحرک ہونے کی شرح کم تھی۔ یونیورسٹیوں سے متعلق امور کے وزیر کا کہنا ہے کہ اب وہ دن گئے جب یونیورسٹیاں ایسے کورسز کیلئے طلبہ کا انتخاب کرتی تھیں، جو وہ چھوڑ کر چلے جاتے تھے، جس سے نوجوانوں میں مایوسی پھیلتی تھی اور بیروزگاری ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم کے بعد طلبہ کی کارکردگی بھی یونیورسٹی کیلئے اتنی اہم ہونی چاہئے جتنا ان کو گریڈ دینا ہوتا ہے۔ 2017 میں پبلک اکائونٹس کمیٹی نے طلبہ کو فیس ادا کرنے کیلئے قرضے دینے کی تجویز دی تھی جس سے طلبہ مقروض ہوجاتے تھے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتے تھے کہ ان کی ڈگری کیا اس کے حصول کیلئے ان کے خرچ سے مطابق رکھتی ہے۔ سکولوں کی معاونت سے اکیڈمی چین Ark کے ڈائریکٹر جون بلیک نے، جنھیں منصفانہ رسائی اور شرکت سے متعلق امور کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے، اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ یہ نئے اہداف ان کی اولین ترجیح ہوگا۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس کا اطلاق ستمبر 2023 سے ہوگا۔ یونیورسٹیوں سے متعلق وزیر اب اداروں سے کہہ رہے ہیں کہ غریب گھرانوں کے انڈرگریجویٹ طلبہ کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ہی وہ مزید ذمہ داریاں بھی پوری کریں، تاہم ابھی اس کی پوری تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔
یورپ سے سے مزید