• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ میں فلو اور دیگر موسم سرما کے وائرس پھر تیزی سے پھیلنے لگے

کرسمس کے موقع پر آپس کی میل ملاقاتوں کے سبب انگلینڈ میں فلو اور دیگر موسم سرما کے وائرس پھر تیزی سے پھیل رہے ہیں، این ایچ ایس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتہ اسپتالوں میں داخل مریضوں کی اوسط تعداد 2,924 تھی۔

یہ تعداد اس سے گزشتہ ہفتہ کی نسبت 9 فیصد زائد تھی، کیسز میں موجودہ اضافہ مسلسل دو ہفتے متاثرین کی تعداد کم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

این ایچ ایس انگلینڈ کی میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میگھنا پنڈت کا کہنا ہے کہ شدید سردی کی لہر اور موسم سرما کے مختلف وائرس کے سبب دباؤ بڑھ رہا ہے، برف جمنے کے سبب پھسل کر گرنے والے افراد اور سانس لینے میں مشکلات کا شکار افراد کی بڑی تعداد اسپتالوں کا رخ کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دباؤ کے باوجود گزشتہ سالوں کے موسم سرما کی نسبت این ایچ ایس کی کارکردگی بہتر ہے، مریضوں کو ایمبولینس سے ایمرجنسی کے عملے کے حوالے کرنے کے وقت میں بھی گزشتہ برس کی نسبت کمی واقع ہوئی ہے۔

ہیلتھ سیکریٹری ویس اسٹریٹنگ کا کہنا ہے کہ تازہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہم ابھی مشکل سے باہر نہیں آئے ہیں اور عملے کی انتھک محنت کے سبب این ایچ ایس گزشتہ برس کی نسبت زیادہ تیار تھا۔

سردی کی موجودہ لہر کے باعث بھی فرنٹ لائن سروسز پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اسپتالوں میں فلو کے ساتھ کوویڈ الٹیوں کا سبب بننے والے نورو وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب کہ ہیلتھ سروس سیفٹی انویسٹی گیشن باڈی کے مطابق ملک بھر میں اسپتالوں کی راہداریوں میں علاج معمول بن رہا ہے۔

واچ ڈاگ کے مطابق ایمرجنسی میں لائے جانے والے مریضوں کا علاج بیڈز کی کمی کے سبب ویٹنگ رومز، کوریڈور یا ایمبولینس میں ہی کیا جا رہا ہے۔

سوسائٹی آف ایکیوٹ میڈیسن کی صدر ڈاکٹر وکی پرائس کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کیئر گہرے بحران کا شکار ہے۔

انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کے سبب لوگ مر رہے ہیں اور اس کے تدارک کیلئے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

صحت سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید