• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو نواز شریف کیس کے لیے غیر متعلقہ ہے، فواد چوہدری


وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو نواز شریف کیس کے لیے غیر متعلقہ ہے،نواز شریف کا کیس سولہ ججوں نے سُنا، ثاقب نثار تو ان میں شامل ہی نہیں تھے۔

جیو نیوز کے پروگرام  نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ  مریم اور صفدر اتنی اچھی فلمیں بنالیتے ہیں، وہ یہی کام کریں، سوچی سمجھی سازش کے تحت اس طرح کی لیکس کی جاتی ہیں، ان کا مقصد ہے لوگ اصل سے ہٹ جائیں اور دوسرے سوالوں کی طرف جائیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ دو ججوں کے سامنے کیس چل رہا ہے تو اختیار ججز کے پاس ہے وہ کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں، ایسے وڈیوز آنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ میرٹ پر کیس کا فیصلہ نہ ہو۔

 فواد چوہدری نے کہا کہ پاناما پیپرز میں ان کی چار پراپرٹیز آئیں، جب پوچھتے ہیں کہ ذرائع کیا ہیں تو لیک آگئی، جب پوچھتےہیں رسیدیں دے دیں تو کہتے ہیں جج  نےکہا تھا، اس بات پر فوکس ہونا چاہیے کہ مریم نواز کے کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہو، نواز شریف اور مریم نواز ریکارڈ کو عدالت میں پیش کریں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر مریم نواز سمجھتی کہ اس سے مدد مل سکتی ہے تو ریکارڈ بنچ میں پیش کرے، عدالت ہمیں جو گائیڈلائن دے گی اس کے مطابق آگے جانا ہے۔

 فواد چوہدری نے کہا کہ پاناما کیس میں 3 چیف جسٹس، 16 کےقریب ججز، ٹرائل کورٹ، اتنے بڑے پیمانے پر ڈیل ہوا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ قوم میرٹ پر جواب چاہتی ہے، آپ نے اربوں کی جائیدادیں خریدیں، اس کے ذرائع کیا ہیں؟ نواز شریف کو سزا ثاقب نثار نے نہیں ٹرائل کورٹ نے دی، اگر آڈیو صحیح بھی ہے تو اس کا تجزیہ کرنا بینچ کا کام ہے، آڈیو کا تجزیہ کرنا ججز کا کام ہے جو مریم نواز کا کیس سن رہے ہیں۔

 فوادچوہدری نے کہا کہ فیک نیوز، اس طرح کی آڈیوز، ویڈیوز پوری دنیا میں مسئلہ ہے، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کیا کہتے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اربوں کی جائیدادیں لیں پیسے آپ کے پاس کہاں سے آئے، یہ ہمارا سوال ہے، اگر آپ کے پاس جواب نہیں ہے تو نیب آرڈیننس کے تحت سزا ہونی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ان اپارٹمنٹس میں رہ رہے ہیں، پنڈورا پیپرز، مریم نواز کی آڈیو کا کیس عدالت میں نہیں ہے، جب عدالت میں کیس ہو تو ایگزیکٹو کے اختیارات عدالت کو شفٹ ہوجاتے ہیں، کیس عدالت میں نہ ہو تو صورت حال مختلف ہوتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید