• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں متعدد پیٹرول پمپس سے ڈیزل کی فروخت ختم ہونے کا امکان

ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں آئندہ چار برس کے دوران متعدد پیٹرول پمپس ڈیزل کی فروخت بند کر سکتے ہیں، کیونکہ ڈیزل گاڑیوں کی مانگ میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ 

الیکٹرک وہیکل تھنک ٹینک نیو آٹو موٹیو (New AutoMotive) کی رپورٹ کے مطابق 2035 تک برطانیہ کی سڑکوں پر ڈیزل گاڑیوں کی تعداد 1 کروڑ 55 لاکھ سے کم ہو کر صرف ڈھائی لاکھ رہ جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لندن میں کئی پیٹرول اسٹیشنز اس دہائی کے اختتام سے پہلے ہی ڈیزل کی فروخت روک سکتے ہیں، جبکہ ملک بھر میں ڈیزل کی فروخت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ درست طور پر بتانا مشکل ہے کہ اکثریت پیٹرول پمپس کب ڈیزل فروخت کرنا بند کریں گے، تاہم 2030 کی دہائی میں ایسا ہونا خارج از امکان نہیں۔

سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز (SMMT) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں میں صرف 5.1 فیصد ڈیزل تھیں، جبکہ پیٹرول گاڑیوں کا حصہ 46.4 فیصد اور خالص بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 23.4 فیصد رہا۔

نیو آٹو موٹیو کے چیف ایگزیکٹو بین نیلمز کا کہنا ہے کہ ڈیزل ایندھن زیادہ عرصے تک محفوظ نہیں رہتا اور اگر ٹینکوں میں فروخت کے بغیر پڑا رہے تو اس کا معیار خراب ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے ڈیزل کی دستیابی کم ہو گی، زیادہ تر ڈرائیور مسائل سے بچنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف رخ کریں گے۔

دوسری جانب، برطانیہ کی کمپیٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی (CMA) نے خبر دار کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرول پمپس کے منافعے (مارجنز) اب بھی زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سپر مارکیٹ پیٹرول پمپس کا اوسط منافع 2022 میں 10.9 پینس فی لیٹر سے کم ہو کر 2025 میں 9.6 پینس فی لیٹر ہو گیا ہے، تاہم غیر سپر مارکیٹ پیٹرول پمپس کے منافع میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو 11.1 پینس فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈیزل کی فروخت میں کمی اور الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے برطانیہ میں ٹرانسپورٹ کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید