• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان قیادت میں اندرونی تصادم: ’کابل بمقابلہ قندھار‘ طاقت کی جنگ سامنے آگئی

افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت میں سخت اندرونی اختلافات منظر عام پر آئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اب عملی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کی ایک لیک ہونے والی آڈیو کلپ میں انہیں متنبہ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اندرونی تقسیم کے نتیجے میں اسلامی امارت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق طالبان قیادت دو واضح دھڑوں میں منقسم ہے۔ قندھار میں موجود گروہ کی قیادت ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کے ہاتھ میں ہے جو ایک سخت گیر اسلامی امارت کے قائل ہیں۔

ان کا تصور ایک ایسے نظام کا ہے جو جدید دنیا سے کٹا ہوا ہو، جہاں مذہبی شخصیات کے ذریعے معاشرے پر مکمل کنٹرول قائم رکھا جائے۔ اس دھڑے میں خواتین کی تعلیم اور ملازمت کی سخت مخالفت کی جاتی ہے اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ کو اسلامی اقدار کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اخوندزادہ نے قندھار کو طاقت کا مرکز بنا کر سکیورٹی فورسز اور اسلحے کی تقسیم جیسے اہم فیصلے بھی کابل سے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔

 قندھار کا دھڑا ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کا حامی اور کابل میں طالبان کا دوسرا دھڑا ان کا مخالف ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان میں ’’قندھار بمقابلہ کابل ‘‘ کی طاقت کی جنگ بے نقاب ہوگئی ہے، کابل دھڑا تعلیم اور عالمی روابط کا حامی جبکہ قندھار دھڑا سخت گیر مؤقف پر قائم ہے۔

اس کے برعکس کابل میں موجود دھڑا نسبتاً عملیت پسند سمجھا جاتا ہے جس میں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر دفاع ملا یعقوب اور نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر جیسے طاقتور رہنما شامل ہیں۔

یہ گروہ افغانستان کےلیے خلیجی ریاستوں جیسا ماڈل چاہتا ہے جو اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر فعال ہو اور عالمی برادری سے تعلقات رکھتا ہو۔

ان رہنماؤں کا ماننا ہے کہ تجارت، سفارت کاری اور ریاستی نظم و نسق کے بغیر ملک چلانا ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ جدید ٹیکنالوجی اور محدود دائرے میں لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت بھی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے اندرونی اختلافات امارت اسلامی کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید