امریکا کی سماجی رہنما اور خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی رائلی گینز نے قتل کی دھمکیاں ملنے کے بعد اپنی 3 ماہ کی بیٹی کو بلٹ پروف کمبل میں لپیٹ لیا۔
خواتین کے کھیلوں کے حقوق کی معروف حامی اور سابق تیراک رائلی گینز نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ملنے والی جان سے مارنے کی دھمکیاں اس حد تک سنگین ہو چکی ہیں کہ وہ اپنی نومولود بیٹی کو بلٹ پروف کمبل میں لپیٹ کر ساتھ رکھنے پر مجبور ہیں۔
25 سالہ رائلی گینز، جن کی بیٹی مارگوٹ گزشتہ ستمبر میں پیدا ہوئی، منگل کے روز امریکی سپریم کورٹ میں ٹرانس جینڈر خواتین کے خواتین کے کھیلوں میں مقابلہ کرنے سے متعلق ہونے والی کیس کی سماعت میں شریک ہوئیں۔
انہوں نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اپنی نومولود بیٹی کو ساتھ لے جانا انہیں اس بات کا شدت سے احساس دلاتا ہے کہ قومی سطح پر نمایاں ہونے کے بعد ان کی زندگی کس قدر بدل چکی ہے اور ان کی نمایاں سرگرمیوں کے ساتھ کس نوعیت کے خطرات جڑے ہوئے ہیں۔
رائلی گینز نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیشی کے وقت مجھے خطرات کی وجہ سے اپنی بیٹی کو بلٹ پروف کمبل میں لپیٹ کر لے جانا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق بچوں کے لیے بنائے جانے والے بلٹ پروف کمبلز کی قیمت عموماً 500 سے 2,000 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے، جو حفاظتی معیار اور استعمال شدہ مواد پر منحصر ہے۔
حالیہ برسوں میں، خاص طور پر بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات کے بعد، اس نوعیت کی حفاظتی اشیاء کی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رائلی گینز کے مطابق ان کی بیٹی مارگوٹ ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتی ہے، اب تک 16 امریکی ریاستوں کا سفر کر چکی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کر چکی ہے۔