• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دورۂ پاکستان، شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کیلئے کیسے مددگار ثابت ہوا؟

برطانوی شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے لیے دورۂ پاکستان بہت مددگار ثابت ہوا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق،  دورۂ پاکستان نے شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے میڈیا کے ساتھ خراب تعلقات کو بہتر کرنے میں بہت مدد کی۔

شاہی مبصر رابرٹ جانسن نے دعویٰ کیا کہ ڈیوک اور ڈچز آف کیمبرج کے دورۂ پاکستان اور اس دوران ان کی میڈیا کے ساتھ گفتگو کے دوران اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کا تعلقات خوشگوار رہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہی مبصر نے بتایا کہ ’شاہی دورے کے لیے جس طرح کے انتظامات کیے تھے وہ معمول سے بالکل مختلف تھے اور ان کے لیے پاکستان کے پیشہ ورانہ انداز کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ دورۂ پاکستان کے دوران وہ سرکاری طیارے میں سفر پر تھے جو کہ ملکہ کا طیارہ تھا جسے شاہی تخت کے وارث اور وزیر اعظم استعمال کرتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’وہ ہر طرح کے مسائل پر گفتگو کر رہے تھے کہ پاکستان کیوں جا رہے ہیں؟ لیکن تمام چیزیں آف دی ریکارڈ رہیں‘۔

دوسری جانب شہزادہ ولیم نے بھی ایک دستاویزی فلم میں دورۂ پاکستان کے بارے میں کہا کہ’ہم ایک اچھے مقصد کے لیے پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں، اور یہ مقصد برطانیہ میں ہمیشہ محفوظ رہے گا‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں (پاکستان)میں جو کچھ ہوا اس کا براہ راست تعلق اس سے ہے جو برطانیہ میں ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ 14 اکتوبر 2019 ء کو برطانوی شاہی جوڑی پانچ روزہ دورے  پر پاکستان آئی تھی۔

برطانوی شہزادہ ولیم اور انکی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نےپاکستان آکر دنیا کو مثبت پیغام دیا کہ پاکستان ایک پُر امن اور خوبصورت ملک ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید