• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لوٹن میں چاقو زنی اور گینگ کرائم کی روک تھام کیلئے سیمینار

لوٹن (احتشام الحق قریشی) چاقو زنی اور گینگ کرائم کی روک تھام کے لئے والدین کےساتھ حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار چاقو زنی اورمثبت رول ماڈلنگ کے نام سےسیمینار میں شرکاء نے کیا۔ لوٹن اینڈ ڈنسٹیبل اسپتال کے ڈاکٹر طاہر محمود لون سیمینارکے میزبان تھے،واضح رہے کہ ہاؤس آف کامنز میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مارچ 2021 تک 41000 ہزار چاقو زنی کے واقعات پیش آئے جب کہ اس میں گریٹر مانچسٹر پولیس کا ریکارڈ شامل نہیں، لوٹن میں چاقو زنی کے واقعات کی تعدادپہلے سے دو گنا ہو چکی ہے گزشتہ تین ماہ کے دوران لوٹن میں مقیم ایشین اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ چاقو زنی کےکئی واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں 16 سالہ حمزہ علی کو اسکول کے باہر اس کے ہم عمرنوجوان نے چاقو کے وار سے قتل کر دیا تھا جب کہ حال ہی میں راجہ غلام رسول بھی اسی طرح اپنے ہی بھانجے کے ہاتھوں چاقو کے وار سے قتل ہوئے ۔ اس طرح کے واقعات جن میں نو جوان خاص طور پر ملوث پائے جاتے ہیں، کی روک تھام اور آگاہی کے لئے لوٹن کے چولینڈ کمیونٹی سنٹر میں ڈاکٹر طاہر محمود لون نےلوٹن بارو کونسل کی مدد سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں پولیس سمیت دیگر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی جو چاکو زنی اور اس سے منسلک دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر لون کا کہنا تھا کہ ہماری کمیونٹی کا نام ڈرگ اور چاقوزنی میں سرفہرست ہے جس کی وجہ سے کمیونٹی میں برا اثر پڑ رہاہے جب کہ ایسے نوجوان جو زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں ان کی خدمات کو سراہا نہیں جاتا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے بچوں کو ایسے افراد کی مثال دینا چاہیے جو مختلف شعبوں میں نمایاں کارنامے سرانجام دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پولیس ، تعلیم ،سائنس ،ٹیکنالوجی اور وکالت کھیل سمیت ہر شعبےمیں ہمارے نوجوان موجود ہیں جو اپنا نام اور مقام رکھتے ہیں ہمیں اپنی اولادوں کو ان کی مثالیں دینا چاہیے، نہ کہ کسی کی بڑی مہنگی گاڑی اور مکان سے متاثر ہوکرہمارے بچے کسی غلط کام میں لگ جائیں ۔ میئر لوٹن محمود حسین کا کہنا تھا کہ والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، والدین کوچاہیے کہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اگر بچہ گھر میں اتنی رقم لاتا ہے جس کا آپ کو معلوم نہ ہو کہ کہاں سے آئی ہے تو ضرور پوچھیں اور بچوں کا کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے اس پر نظر رکھیں۔ ڈپٹی لیڈر آف کونسل راجہ اعظم خان نے کہا کہ مجھے اچھی کار ،مکان اور نوکری دو چار روز میں نہیں ملی بلکہ اس کے لیے مجھے ایک لمبا عرصہ محنت کرنا پڑی ہے تب جا کر یہ مقام ملاہے، اس لیے بچوں کو شارٹ کٹ کے بجائے محنت کی ترغیب دی جائے ۔ کرائم ایکسپالائٹیشن کی سربراہ کمبلی لینب نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنا کردار ادا کرناچاہتا ہے اور اسے کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ نوجوان خاص کر بچوں کو ان جرائم سےبچانے کے لیے ہمارے رضاکار دن رات کام میں مشغول ہیں، والدین بچوں کو غلط اور درست کا درس دیں تو معاشرہ بہتری کی طرف جائے گا۔ یوتھ آفنڈر کے سربراہ ڈیوڈ کولن نےشرکا کو بتایا کہ بچے کیسے ان غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں اور ان کاادارہ اس حوالے سے کس طرح کام کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم پولیس اور دیگر سرکاری اداروں سے مل کر ان جرائم کی روک تھام کے لیے کام کر رہے ہیں، ڈپٹی پولیس سپرٹنڈنٹ محمد عزیز نے والدین اور تقریب میں آئے ہوئے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں لوٹن میں پیدا ہوا ہوں اور یہاں ہی تعلیم حاصل کی ہے، میں آپ ہی میں سے ہوں آپ بھی پولیس و دیگر شعبوں میں اپنا نام بتا سکتے ہیں مگر اس کے لئے محنت اور لگن سےکام کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ پیسہ انسان کی ضرورت ہے مگر پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا، عزت اور مقام انسان کو اعلیٰ بناتا ہے۔ سال کے بہترین وکیل کا اعزاز حاصل کرنےوالے معروف سالیسٹر عتیق ملک نے کہا کہ ڈرگ ،نائف کرائم اور گینگ کرائم اس سوسائٹی اور معاشرے میں زیادہ ہوتے ہیں جہاں غربت زیادہ ہو، حکومت کو ایسے علاقوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی جہاں غربت زیادہ ہے اگر عوام خوشحال ہوں گے تو جرائم کی شرح خود بخود کم ہو جائے گی۔ ایم بی ای ایوارڈ یافتہ اور ڈ پٹی لیفٹیننٹ جون بیلی نے سلائیڈ شو کی مدد سے چاقو زنی اور دیگر واقعات سے بچنے اور ایمرجنسی سروس میں دیگر حفاظتی اقدامات کے حوالے سےحاضرین کو آگاہ کیا۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں کونسلر خدیجہ ملک ،کونسلرجاوید حسین ،کونسلر عباس حسین ،کونسلر آصف اور دیگر کونسلرز شامل تھےجنہوں نے عوام سے ان جرائم کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو کہا ۔تقریب میں سابق میئر ریاض بٹ ، سابق میئر طاہر ملک ،پروفیسر ممتاز ،شبیر ملک، سردار سرورحسین کے علاوہ والدین اپنےخاندان اور بچوں کے ساتھ شریک تھے، تقریب میں رول ماڈل گولڈ میڈلسٹ باکسر حمزہ محمود ان کے کوچ اور والدین بھی شریک ہوئے اورنوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف توجہ دینے کا کہا، تقریب کے اختتام پر شرکاء اور مقررین نے ڈاکٹر طاہر محمود لون کے اس اقدام کو سراہا اور ایسی تقاریب کو جاری رکھنے کا کہا جس سے کمیونٹی کو فائدہ پہنچیں۔ 

یورپ سے سے مزید