• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

آزاد کشمیر حکومت کو قانون سازی کیلئے حزبِ اختلاف کے تعاون کی ضرورت

وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان نیازی کی زیر صدارت آزاد جموںو کشمیر کابینہ کے اجلاس میں آزاد کشمیر میں بھی اوورسیز کشمیریوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جسکا تارکین وطن بڑے پیمانے پر خیر مقدم کر رہے ہیں ۔ تارکین وطن ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو بیرون ملک مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے ، وطن عزیز کی ہر مشکل وقت میں مدد کے علاوہ پاکستانی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ 

انھیں ووٹ کا حق دینے کیلئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قراداد کی منظوری ایک آئینی تقاضہ ہے۔ جو PTIکی برسر اقتدار حکومت کو 2تہائی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث اپوزیشن جماعتوںکے تعاون کی ضرورت ہوگی ۔ اگر حکومت آزاد کشمیر اور اپوزیشن کے مابین اس معاملے پر اتفاق رائے ہوگیا تو اوورسیز کشمیریوں کو قانون سازی کرکے انھیں ،حق رائے دہی دینا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 

جبکہ ’’کابینہ ترقیاتی کمیٹی ‘‘ نے رواں مالی سال کے پہلے اجلاس میں محکمہ برقیات /ہائیڈرل پاور ، مواصلات ، فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ ، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 6ارب روپے سے زائد مالیت کے 11منصوبے زیر غور لائے گئے ہیں جن میں سے 9منصوبہ جات کو منظور کر لیا گیا ۔وزیراعظم آزا دکشمیر کا کہنا ہے کہ جو منصوبے منظور ہوگئے ہیں ان پر جلدی کام شروع کیا جائیگا۔ 

منصوبوں کے معیار اور رفتار پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔ مقررہ مدت میں ہر صورت منصوبوں کی تکمیل کی جائے۔ اس سلسلہ میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سے میرپور کا ایک منصوبہ بھی شامل نہ ہونا ممبران اسمبلی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ میرپور میں 500بستروں کا ہسپتال پیپلز پارٹی کی حکومت کا تحفہ ہے۔ میرے منصوبے کو کیش کروانے والے بھول جاتے ہیں کہ تاریخ بدلی نہیں جا سکتی ۔ سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کا مزید کہنا ہے کہ رٹھوعہ/ہریام پل پر گاڑی چلا کر جانے کا دعوی کرنیوالا وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کہاں گم ہے۔ 

لمبی باتیں کرنے سے قد اونچے نہیں ہوتے ۔جوحکومتی حلقوں کی صورتحال ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوامی مفاد کا یہ منصوبہ آئیندہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہی پایہ تکمیل تک پہنچائے گی ۔ کابینہ ترقیاتی کمیٹی اپنے آئندہ اجلاس اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے 500ارب کے پیکج کے اعلان میں اگر رٹھوعہ /ہریام پل، متاثرین زلزلہ 24ستمبر 2019 اور متاثرین منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے ذیلی کنبہ جات جیسے ایشوز کو بھی شامل کر لیا جائے ، تو اہلیان میرپور اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کے حکومت کے حوالے سے تحفظات اور خدشات دور ہو سکتے ہیں۔

 آزا دکشمیر کی سیاسی صورتحال کا اگر مختصر جائیزہ لیں تو وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان نیازی نے اپنے ابتدائی چند ماہ میں بڑی کامیاب حکمت عملی سے وزیراعظم پاکستان عمران خان ، صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ، سینئر وزیر سردار تنویر الیاس خان اور اپوزیشن جماعتوں کیساتھ موثر لیزان قائم کر رکھا ہے۔ 

دھیمے انداز میں استقامت کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ تاہم آزاد کشمیر میں حالیہ عام انتخابات کے دوران سردار تنویر الیاس خان اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے مابین استقبالیہ تقریبات اور جلسوں کے انعقاد کی ایک میرا تھن ریس جاری تھی جس سے PTI کشمیر کے اندر گروپ بندی اور ان دونوں شخصیات میں شخصی اختلاف کا تاثر ابھرا۔ لیکن حکومت سازی کے بعد بھی صدر ریاست اور موسٹ سینئر وزیر کے نیلم اور باغ اضلاع کے اوپر تلے حالیہ دوروں سے دونوں شخصیات میں ایک غیر اعلانیہ مقابلے کی فضا جنم لے رہی ہے۔ 

 پاکستان میں سال 2022 انتخابی مہم کا سال ہوگا اور 2023 میں انتقال اقتدار متوقع ہے۔ ایسی صورتحال میں بعض سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ’’PTI کشمیر ‘‘ میں گروپ بندی اور جاری مہم جوئی ختم نہ ہوئی تو سال 2006 کی اسمبلی کی طرح آزا دکشمیر کی موجودہ اسمبلی کو بھی سیاسی عدم استحکام کے سائے اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں ۔جسکا سیاسی طور پر PPP آزاد کشمیر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 

آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے دوران ضلع باغ میں جماعت اسلامی کے امیدوار اسمبلی سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی کی PTIکے امیدوا ر اسمبلی سردار تنویر الیاس کے حق میں دستبرداری پر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے عبدالرشید ترابی سمیت 100کے قریب پارٹی اراکین کی بنیادی رکنیت معطل کر دی تھی۔ عبدالرشید ترابی ایک اجلے کردار کی حامل شخصیت اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے روح رواں ہیں ۔ 

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے عبدالرشید ترابی سمیت متعدد اراکین کی رکنیت بحال کر دی ہے۔ جس پر جماعت اسلامی کے کارکنان و اراکین نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ صدر PPPآزاد کشمیر و ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری محمد یاسین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شکایات پوری کرنے کیلئے ایک مرتبہ پھر بجلی ، پٹرولیم مصنوعات و گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری کر رہی ہے۔ 

اور آزاد کشمیر کے عوام کو 500ارب روپے کے پیکج کے سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں ۔ آٹا اور دیگر اشیائے خوردونوش غریب کی قوت خرید سے باہر جا چکے ہیں ۔ پیپلز پارٹی ہی اقتدار میں آکر ملک کو اس بحران سے باہر نکال سکتی ہے۔ صدر PPP آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین کا مہنگائی کے حوالے سے موقف ہر شہری کا درد ہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید