• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

جنوبی پنجاب کے عوام سیاسی نعروں سے مایوس ہونے لگے

پیپلزپارٹی جتنا زور لاہور کے قومی حلقہ 133کی نشست جیتنے کے لئے لگارہی ہے ،اتنا زور وہ خانیوال کے صوبائی حلقہ 206میں کیوں نہیں لگارہی ، یہ وہ سوالیہ نشان ہے ،جو پیپلزپارٹی کی سیاسی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے ،چونکہ لاہور میں تحریک انصاف کا امیدوار نہیں ہے ،اس لئے پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ وہاں وہ شاید قومی اسمبلی کی نشست جیت سکتی ہے ،لیکن خانیوال کے صوبائی حلقہ میں چونکہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدوار آمنے سامنے ہیں ،اس لئے یہاں پیپلزپارٹی یہاں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی ، پیپلز پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں یہاں سے سے چھ ہزار چھ سو سترہ ووٹ حاصل کئے تھے اور ان کے امیدوار واثق شرجیس حیدر ،جو اس بار بھی امیدوار ہیں ،تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

اب یہاں ایک نیا کھیل اس طرح شامل ہوگیا ہے کہ تحریک لبیک جس نے گزشتہ انتخابات میں پانچ ہزار سات سو چونسٹھ ووٹ حاصل کئے تھے ،نےامیدوار تبدیل کرکے اس حلقہ میں 2002ء کے انتخابات میں دس ہزار کے قریب ووٹ لینے والے ایم ایم اے کے امیدوار شیخ اکمل کو اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے اور اس وقت حلقہ کی پوزیشن یہ ہے کہ بعض یونین کونسلوں میں تحریک لبیک کا امیدوار دونوں جماعتوں سے خاصا آگے جارہا ہے ،خاص طور پر مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک اس حوالے سے شدید متاثر ہونے کے امکانات پید ا ہوگئے ہیں ،دوسری طرف تحریک انصاف نے مرحوم نشاط خان ڈاہا کی خالی ہونے والی نشست پر ان کی اہلیہ نورین نشاط کو ٹکٹ دیا ہے ،چونکہ نشاط خان ڈاہا مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی بنے تھے ،اس لئے ان کی اہلیہ کے تحریک انصاف کی طرف سے امیدوار ہونے کے باعث انہیں ہمدردی کے حوالے سے بھی مسلم لیگ ن کا ووٹ نہیں مل سکتا۔

جبکہ مسلم لیگ ن نےرانا محمد سلیم کو ٹکٹ دیا ہے ،جو گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار تھے ،اس طرح اس حلقہ میں ایک عجیب سے کھچڑی پکی ہوئی ہے اور ووٹر کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کس طرف جائے ،تحریک لبیک کی طرف سے مظبوط امیدوار سامنے آنے کے باعث اب صورتحال خاصی کانٹے دار ہوگئی ہے ،یہ موقع تھا کہ جس سے پیپلزپارٹی فائدہ اٹھا سکتی تھی ، مگر اس کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہاں اس کا امیدوار اب بھی شاید چوتھے نمبر پرآئے ،جبکہ یہ توقع کی جارہی تھی کہ سید یوسف رضا گیلانی مہم چلانے کے لئے خانیوال کے دورے کریں گے ،مگر وہ خانیوال جانے کی بجائے ملتان اور اسلام آباد میں بیٹھ کر جوڑ توڑ کی سیاست کررہے ہیں۔ 

حال ہی میں مسلم لیگ ق کے ضلعی صدر سردار وہاب سلطان نے یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کرکے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے ، یہ وہی حکمت عملی ہے ،جو بلاول بھٹو کے دورے کے موقع پر اختیار کی گئی تھی کہ غیر معروف اور غیر مقبول سیاسی لوگوں کو پیپلزپارٹی میں شامل کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے ، حالانکہ یہ معاملہ صفر جمع صفر جیسا ہے ، مسلم لیگ ق کی خانیوال میں کوئی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ، اگر اس کی وہاں تھوڑی بہت بھی مقبولیت ہوتی ،تو وہ اپنا وہاں امیدوار کھڑا کرتے ، حقیقت یہ ہے کہ پورے جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی ایک بددل جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کررہی ہے ،سوائے رحیم یارخان کے جہاں مخدوم احمد محمود کی وجہ سے پارٹی کی مقبولیت موجود ہے۔ 

پیپلزپارٹی ملتان میں بھی اپنی مقبولیت کو کھو چکی ہے اورگیلانی خاندان اپنا پورازور لگانے کے باوجود مقبولیت میں اضافہ نہیں کر پارہا ، یہ ساری صورتحال آنے والے دنوں میں مذید گھمبیر ہوجائے گی ، کیونکہ تحریک لبیک پاکستان ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے اور اگر اس نے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد نہ کیا اور علیحدہ اپنے امیدوار کھڑے کئے ،تو مسلم لیگ ن کو تو مشکلات پیش آئیں گی ،پیپلزپارٹی بھی نقصان میں رہے گی ،جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے ،تو اسے مہنگائی نے ویسے بھی مارڈالا ہے اور عوام کے اندر ایک واضح ناپسندیدگی موجود ہے۔ 

ہر جگہ اس کے اراکین عوام سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں ،خانیوال میں بھی اسی وجہ سے پی ٹی آئی کی امیدوار نورین نشاط ڈاہا کو مشکلات کا سامنا ہے، اگر وہاں تحریک انصاف کسی صورت تحریک لبیک سے اتحاد کرنے میں کامیاب ہوجاتی ،تواسے سیٹ جیتنے میں آسانی ہوتی ، لیکن ظاہر ہے کہ فی الوقت تحریک لبیک ابھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی ،تاہم قومی انتخابات میں اتحاد کی کوششیں ہوسکتی ہیں ۔ بہرحال اس وقت بھی جنوبی پنجاب سیاسی لحاظ سے ایک کھلا علاقہ ہے اور کوئی جماعت بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یہاں سے واضح اکثریت حاصل کرسکے گی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مختلف حوالوں سے عوام کا اعتماد کھوچکی ہیں ،مسلم لیگ ن نے ہمیشہ جنوبی پنجاب کو نظرانداز کیا ہے اور اپر پنجاب کو اہمیت دی ہے ،اگرچہ پچھلے دنوں شہبازشریف جنوبی پنجاب کا دورہ کرچکے ہیں ،مگر انہیں حمزہ شہباز کی طرح کچھ زیادہ پذیرائی نہیں ملی ،اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی بات نہیں کی ، جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے ،تو اس کے پاس ایسی قیادت ہی موجود نہیں ہے ،جو جنوبی پنجاب میں اسے ایک بڑا سہارا دے سکے،اب آئندہ عام انتخابات میں کوئی معجزہ ہی اسے کوئی بڑی کامیابی دلاسکتا ہے ،رہی بات تحریک انصاف کی تو وہ اپنے معاشی محاذ پر ناکامی کی وجہ سے ویسے ہی عوام کا اعتماد کھوچکی ہے۔

اگر یہی صورتحال رہی اور معیشت کا اسی طرح حال رہا ،تو تحریک انصاف کو عام انتخابات میں انہتائی مشکل صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے اوراب جبکہ منی بجٹ کا بھی شوروغل ہے ،تو فی الوقت مستقبل قریب میں ایسی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی کہ معیشت پلٹا کھائے اور حالات بہتر ہوجائیں۔ ادھر بلدیاتی انتخابات کو مرحلہ وار کرانے کے فیصلہ پر سیاسی جماعتوں اور بلدیاتی نمائندوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے ،ان کے خیال میں یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ،جس کے تحت تحریک انصاف اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید