• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا نعمان نعیم

اسلام وہ عظیم دین ہے، جس نے حصولِ علم یعنی علم طلب کرنے کو ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ اس کی اہمیت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمدﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی، وہ اقرأ یعنی پڑھیے پر مشتمل ہے۔ جس سے اسلام میں علم کی عظمت و اہمیت کا پتا چلتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلّم بنا کرمبعوث فرمایا۔ اس سے واضح ہوا کہ علم کی عظمت و اہمیت اپنی جگہ ،تاہم معلّم کا مقام و مرتبہ سب سے بلند ہے۔

معلم یعنی استاذ بلاشبہ عظیم ہستی اور انسانیت کی محسن ذات ہے، استاد کی بڑی شان اور عظمت ہے، دنیا نے چاہے استاد کی حقیقی قدر ومنزلت کا احساس کیا ہو یا نہ ہو، لیکن اسلام نے بہت پہلے ہی اس کی عظمت کو اجاگر کیا، اس کے مقام ِ بلند سے انسانوں کو آشنا کیا اور خود اس کائنات کے عظیم محسن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے طبقہ ٔ اساتذہ کو یہ کہہ کر شرف بخشا کہ میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ آپﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی اس میں علم اور تعلیم ہی کا ذکر تھا۔”اے پیغمبر! آپ اپنے اس رب کا نام لے کر قرآن پڑھیے جس نے پیدا کیا،انسان کو خون کے لوتھڑے سے، آپ قرآن پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، اس نے انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا۔(سورۂ علق)

آپ ﷺ میں وہ تمام صفاتِ عالیہ موجود تھیں جو ایک معلم کامل میں مطلوب ہیں، آپﷺ کمالِ علم، خلقِ عظیم، اُسوہٴ حسنہ اور کمالِ شفقت اور رحمت جیسی صفات کے ساتھ موصوف تھے۔ اسی بناءپرجو عالم دین، قرآنِ کریم یا کسی شرعی علم کی تدریس کا کام انجام دے رہا ہے، وہ اِس صفت میں نبی کریمﷺ کی نیابت کررہا ہے، لہٰذا اسے یہ جاننا چاہیے کہ وہ ایک سعادت مند انسان ہے اور اسے یہ سعادت مندی مبارک ہو۔ ان شرعی علوم میں سے ایک علم عربی لغت بھی ہے جو قرآنِ کریم کی زبان،نبی کریم ﷺ کی زبان اور شریعت اِسلامیہ کی زبان ہے۔ 

چوں کہ تعلیم وتربیت کے ذریعے استاذ کے اثرات شاگردوں پر پڑتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکو اُمت کے لیے معلم اور مربی بناکر بھیجا اور آپﷺ کی تعلیم وتربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔اس لیے آپ ﷺ ایک اعلیٰ اور کامل معلم تھے، ایسا باکمال معلم نہ آپ سے پہلے کسی نے دیکھا اور نہ آپ کے بعد۔ آپ ﷺکی اعلیٰ صفات میں کمالِ علم،عظیم حکمت، اعلیٰ اخلاق، شاگردوں کے ساتھ شفقت ورحمت، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے نہایت عمدہ اور مفیداسالیب کا استعمال اور ان کی خبرگیری جیسی صفات اپنے کمال کی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھیں، اس لیے جو معلم اور استاذ آپ ﷺ کا نائب بننا چاہے اور فنِ تدریس میں کمال تک پہنچنے کا خواہش مند ہو تو اُسے چاہیے کہ پہلے نبی کریمﷺ کی صفات وکمالات جو اِس میدان سے متعلق ہیں۔ ان کے بارے میں آگاہی حاصل کرے اور اس حوالے سے معلم انسانیت حضرت محمدﷺ کی اتباع کرے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مذہب اور ہر معاشرے میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے، کیوںکہ معاشرے میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمتِ خلق کا جو سر و سامان موجود ہے، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اور درس گاہیں ان کا اصل سرچشمہ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے۔

اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فقہائےصحابہؓ میں ممتاز مقام کے حامل ہیں، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں، لیکن اس مقام و مرتبے کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔(مستدرک حاکم :۳؍۳۲۴)

خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں، امام احمدؒ ان کے تلامذہ میں ہیں، لیکن علومِ اسلامی میں مہارت اور زہد و تقویٰ کی وجہ سے امام صاحب کو اپنے استاذ سے بھی زیادہ عزت ملی، اس کے باوجود امام احمدؒ کبھی ان کے برابر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتے اور کہتے کہ آپ کے سامنے بیٹھوں گا، کیوںکہ ہمیں اپنے اساتذہ کے ساتھ تواضع اختیار کرنے کا حکم ہے۔ (تذکرۃ السامع و ا لمتکلم، ص: ۷۸)امام شافعیؒ امام مالکؒ کے شاگردوں میں ہیں، کہتے ہیں کہ جب میں امام مالکؒ کے سامنے ورق پلٹتا تو بہت نرمی سے کہ کہیں آپ کو بارِ خاطر نہ ہو۔ (حوالہ سابق، ص: ۸۸)

خود قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کے واقعے کو تفصیل سے بیان کیا ہے، باوجودیہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مقامِ نبوت پر فائز تھے، لیکن انہوں نے نہایت صبر اور تحمل کے ساتھ حضرت خضر کی باتوں کو برداشت کیا اور بار بار معذرت خواہی فرمائی۔ امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں منقول ہے کہ اپنے استاذ حمادؒ کے مکان کی طرف پاؤں کرنے میں بھی لحاظ ہوتا تھا، امام صاحبؒ نے خود اپنے صاحب زادےکا نام اپنے استاذ کے نام پر رکھا، قاضی ابو یوسفؒ کو اپنے استاذ امام ابوحنیفہؒ سے ایسا تعلق تھا کہ جس روز بیٹے کا انتقال ہوا ،اس روز بھی اپنے استاذ کی مجلس میں حاضری سے محرومی کو گوارا نہیں فرمایا۔

جو شخص جتنے بلند مقام و مرتبہ کا حامل ہو ، اسی نسبت سے اس کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں، استاذ باپ کا درجہ رکھتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو وہی محبت اور پیار بھی دے، جو ایک باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اپنے طلبہ کی نسبت سے فرماتے تھے کہ اگر ان پر ایک مکھی بھی بیٹھ جاتی ہے تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ (تذکرۃ السامع،ص: ۹۴)

سلف صالحین کو اپنے شاگردوں سے ایسی محبت ہوتی کہ ان کی نجی دشواریوں کو بھی حل کرتے، امام شافعیؒ بڑے اعلیٰ درجے کے فقیہ و محدث ہیں، یہ حصولِ علم کے لیے مدینہ پہنچے، غریب آدمی تھے، امام مالکؒ نے اپنے اس ہونہار شاگرد کو خود اپنا مہمان بنایا اورجب تک مدینے میں رہے، ان کی کفالت کرتے رہے، پھر جب امام شافعیؒ نے مزید کسب ِعلم کے لیے کوفہ کا سفر کرنا چاہا تو سواری کا انتظام بھی کیا اور اخراجاتِ سفر کا بھی اور شہر سے باہر آکر نہایت محبت سے آپ کو رخصت کیا، امام شافعیؒ کوفہ آئے اور امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد رشید امام محمدؒ کی درس گاہ میں بحیثیت طالب علم شریک ہوگئے، یہاں امام محمدؒ نے ذاتی طور پر امام شافعیؒ کی کفالت فرمائی، بلکہ بھر پور تعاون فرمایا، امام شافعیؒ اس حال میں کوفہ پہنچے کہ نہایت ہی معمولی کپڑا آپ کے جسم پر تھا، امام محمدؒ نے اسی وقت ایک قیمتی جوڑے کا انتظام فرمایا، جو ایک ہزار درہم قیمت کا تھا،پھر جب امام شافعیؒ کو رُخصت کیا تو اپنی پوری نقدی جمع کر کے تین ہزار درہم انہیں حوالے کیے۔ (جامع بیان العلم لابن عبد البر، ص:۸۶۲)

امام ابو یوسفؒ کے والد دھوبی یعنی کپڑے دھونے کا کام کرتے تھے اور بڑی عسرت کے ساتھ گزر اوقات ہوتی تھی، بلکہ اس افلاس و مجبوری کی وجہ سے ان کے والدین کو امام ابو یوسفؒ کا پڑھنا پسند نہیں تھا، وہ چاہتے تھے کہ آپ کسب ِمعاش میں مصروف ہوں اور گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹائیں، امام ابوحنیفہؒ ان کی ذہانت اور طلب علم کے شوق سے بہت متأثر تھے، اس لیے آپ نے بنفس نفیس ان کے اخراجات برداشت کیے۔

حماد بن سلمہؒ ایک مشہور محدث گزرے ہیں، ان کے ایک شاگرد نے چین کا تجارتی سفر کیا اور کچھ قیمتی تحائف اپنے استاذ کی خدمت میں پیش کیے، استاذ نے فرمایا کہ اگر یہ تحفے قبول کروں گا تو آئندہ پڑھاؤں گا نہیں اور پڑھاؤں گا تو یہ تحفے قبول نہیں کرسکتا۔ (الکفایۃ للخطیب، ص: ۳۵۱)

استاذ کو اپنے شاگر د سے بے حد محبت ہونی چاہیے اور اسے ہر وقت اس کا خیر خواہ ہونا چاہیے، جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کی ترقی پر خوش ہوتا ہے اور اس کی ناکامی پر کبیدہ خاطر، یہی تعلق ایک استاذ کو اپنے شاگردوں کے ساتھ ہونا چاہیے، یہ تعلق بے غرض اور بے لوث ہو اور پاکیزگی پر مبنی ہو، اگر اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ طلبہ میں ان کے تئیں وہی احترام نہ پیدا ہو جن کا ذکر ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تدریس کے لیے کسی شخص کا انتخاب اہلیت اور لیاقت کی بناء پر ہونا چاہیے، نہ کہ تعلقات اور دوسری بنیادوں پر، اس لیے کہ تدریس نہایت ہی اہم اور نازک کام ہے، مشہور بزرگ ابو بکر شبلیؒ سے منقول ہے کہ جو شخص قبل از وقت کسی منصب پر فائز ہوجائے وہ در اصل اپنی رسوائی کے درپے ہے۔ (تذکرۃ السامع و المتکلم:۵۴)

اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ جس مضمون کی تدریس اس کے حوالے کی جارہی ہے، وہ واقعی اس مضمون پر عبور رکھتا ہو اور اپنے اخلاق و عادات کے اعتبار سے بھی انگشت نمائی سے محفوظ ہو۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مضمون پر مناسب محنت کرتا ہو اور اس کے مطالعہ و تحقیق میں ارتقاء اور تسلسل ہو کہ اس کے بغیر وہ اپنے طلبہ کو کما حقہ فیض یاب نہیں کرسکتا، وہ اوقاتِ درس کا پابند ہو اور اپنے وقت کو طلبہ کی امانت تصور کرتا ہو، قرآن مجید نے کم ناپنے کم تولنے کی بڑی مذمت فرمائی ہے اور اہل علم نے لکھا ہے کہ ناپ تول کی کمی میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ وہ ملازمت کے اوقات میں سے کوئی حصہ اپنی ضرورت میں اور مفوضہ کام کے علاوہ کسی اورکام میں خرچ کرے، یہ بھی ایک طرح کی چوری ہے اور ان اوقات کی اجرت اس کے لیے حلال نہیں۔

اساتذہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ طلبہ کی نفسیات کا شعور رکھتے ہوں اور عملی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوں، طالب علم کے ساتھ اہانت آمیز سلوک کرنا اور اس کی تذلیل کے درپے ہونا نہایت اوچھی بات ہے اور کسی بھی طرح استاذ کے شایان شان نہیں،رسول اللہ ﷺکا معمولِ مبارک تھا کہ اگر کسی کی غلطی پر ٹوکنا ہوتا تو تنہائی میں توجہ دلاتے اور اگر متعدد افراد کو اس غلطی میں مبتلا دیکھتے تو مجمع عام میں کسی کا نام لیے بغیر مبہم انداز میں توجہ دلاتے، چوںکہ مقصد اصلاح ہے نہ کہ انتقام، ایسا بھی ہوا کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں بعض لوگوں نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ 

آپﷺ نے اس پر پانی بہانے کا حکم دیا اور کسی ناگواری کا اظہار کیے بغیر محبت کے ساتھ سمجھانے پر اکتفا ءفرمایا، بعض طلبہ بظاہر شر پسند ہوتے ہیں، لیکن اگر تنہائی میں بلا کر ان کی تفہیم کی جائے اور ان کی ذہانت کو تخریبی کاموں کے بجائے تعمیری کاموں کی طرف موڑ دیاجائے تو بآسانی ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور وہ قوم کے لیے ایک مخلص عنصر ثابت ہوسکتے ہیں۔