• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اسلام

میرا نام جاوید ہے نعمان اور عرفان میرے ہم جماعت ہیں ہم تینوں پانچویں کلاس میں پڑھتے ہیں اسکول ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم تینوں اپنے گھروں سے نکل کرپیدل اسکول کی طرف روانہ ہوجاتے تھے۔

پیارے بچو! صبح ہم مختلف گلیوں سے گزرتے ہوئے اسکول جاتے ہوئے ایک ایسی گلی سے بھی گزرتے ،جہاں ایک کریانے کی دکان تھی، جسے ایک بہت ضیف بابا چلاتے تھے۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ دکان سے ذرا آگے ایک مکان کے پاس سے جب ہم گزرتے تو کسی بوڑھے شخص کے رونے کی آوازیں اکثر ہمیں سنائی دیتیں ہمیں بہت تجسس تھا کہ اس گھر میں بوڑھا شخص کیوںاکثر روتا رہتا ہے۔ لیکن ہم چوں کہ بچے تھے اس لئے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔

ایک دن کیا ہوا بچو! ہم اس مکان کے قریب سے گزر رہے تھے تواندر سےبوڑھے شخص کے رونے بلکہ چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ہم پریشان ہوگئے۔ ہم تینوں دوستوں میں عرفان زیادہ جرات مند تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ آج کچھ بھی ہوجائے ہم اس مکان کے دروازے سے جھانک کر دیکھیں گے کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ میں نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا، مگر جب نعمان بھی اس کا ہم خیال ہوگیا تو میں بھی راضی ہوگیا۔ 

ہم تینوں دبے قدموں دروازے تک پہنچے اور ایک جھری سے اندر کا منظر دیکھا تو حیرت اور پریشانی سے ہماری حالت بری ہو گئی ایک بیس، بائیس برس کا صحت مند نوجوان اپنے باپ کو بیلٹ سے مار رہا تھا اور اس کا باپ اس سے التجا کررہا تھا کہ بیٹا مجھے مت مارو میں بیمار ہوں اور بوڑھا بھی ہوں میں تمہاری ہر بات مانو گا، مگر وہ ظالم بیٹا اپنے باپ کی کوئی بات نہیں سن رہا تھا۔

آج اس مکان سے آنے والے رونے کی آوازوں کا راز ہم تینوں کو معلوم ہوچکا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکا ہمیں دیکھ لیتا ہم نے اسی میں خیرت جانی کہ وہاں سے ہٹ گئے ،پھر ہم اسکول تو پہنچ گئے تھے، مگر آج کلاس میں ہمارا بالکل دل نہیں لگ رہاتھا۔ بار بار ذہن اسی منظر کی طرف پلٹ جاتا تھا۔ میں بار بار اپنے آپ سے سوال کررہا تھا کہ آخر کوئی بیٹا اپنے بوڑھے باپ سے ایسا سلوک کیسے کرسکتا ہے؟ کیا اسے نہیں معلوم ماں باپ کا کیا مقام ہے۔ بوڑھے ماں باپ کو اُف بھی نہیں کہنا چاہیے۔ جو حال میراتھا وہی حال نعمان اور عرفان کا بھی تھا۔

بچو! سچ تو یہ ہے کہ اس دن ہم رات کو صحیح سے سو بھی نہیں سکے۔

اگلے دن ہم پھر اس گلی تک پہنچے تو عرفان نے کہا کہ پیارے دوستو! میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس واقعے کی حقیقت جان کر رہوں گا۔ میں نے اس سے کہا، لیکن تم کس سے پوچھو گے اور کون تمہیں بتائے گا۔ ہم بچے ہیں لوگ ہماری بات پرتوجہ بھی نہیں دیں گے۔ نعمان نے رائے دی کہ کریانے کی دکان پر جو بابا بیٹھے ہیں ہم ان سے معلوم کریں گے کیوں کہ ان کا سلوک ہم بچوں سے ہمیشہ اچھا ہوتاہے ہم جب کبھی ان کی دکان سے چاکلیٹ یا بسکٹ خریدتے ہیں تو وہ بہت شفقت کا سلوک کرتے ہیں۔

نعمان کی رائے سے ہم متفق ہوگئے۔ بابا کے پاس گئے۔ بابا ہمیں دیکھ کر مسکرائے اور پیارسے پوچھا بچوں کیا خریدنے کا ارادہ ہے ۔ہم نے کہا کچھ نہیں بابا، یہ سن کر بابا حیران ہوئے اور کہنے لگے پھر کیا مسئلہ ہے۔ ہم نے اس مکان میں ہونے والےواقعہ کی تمام تفصیلات انہیں بتائیں اور پوچھا ،بابا کیا کوئی بیٹا اپنے باپ کو مارپیٹ سکتا ہے۔ہمارے بات سن کربابا نے ایک گہری سانس لی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اچھا بچوں پہلے تم اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر میں تمہیں پوری کہانی سناتا ہوں۔ بابا نے بتایا کہ اس لڑکے کا باپ سرکاری افسر تھا۔ اس کے پاس جب لوگ اپنے کاموں کے سلسلے میں جاتےتو وہ ان کے کام کرنے کی بجائے طرح طرح سے انہیں تنگ کرتا اور اس وقت تک ان کا کام نہیں کرتا تھا جب تک وہ انہیں منہ مانگی رشوت نہیں دے دیتے۔

وہ پورے ڈپارٹمنٹ میں رشوت خورکی حیثیت سے بدنام تھا۔ اس نے اپنے بچوں کی پرورش حرام کی کمائی سے کی تھی ۔بچوں کی ہر فرمائش پوری کرنا اس کے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا جس کے نتیجے میں بچے بگڑتے چلے گئے۔ ایک دن اس پر فالج کا حملہ ہوا ،اسے ملازمت سے برطرف کردیاگیا جس کے بعد اس گھر میں روپے پیسے کی ریل پیل کی جگہ تنگ دستی نے لے لی ۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ واقعہ یہ ہوا کہ ایک حادثے میں اس کی بیوی اورایک بیٹا ہلاک ہوگئے۔ اب اس گھر میں یہ دونوں باپ بیٹے رہ گئےہیں۔ 

بیٹا بہت غصے والا ہے اس کی مرضی کے خلاف ذرا سی بھی کوئی بات ہوتو وہ باپ کو مارنے پیٹنے لگتا۔ میں نے بابا سے کہا، کہ دوسرے گھروں میں بھی بیٹے ہیں وہ تو باپ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔ بابا نے میری بات سن کر سرد آہ بھری اور کہنے لگا تم ٹھیک کہتے ہو بیٹا! دراصل ان باپ بیٹے کا معاملہ کچھ اور ہے اس لڑکے کی رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہے درحقیقت وہ اس کے باپ کی حرام کمائی کا ہے اور حرام کی کمائی سے انسان خود ہی نہیں بگڑتا بلکہ اس کی نسلوں کو بھی بگاڑ دیتی ہے اور اس کی زندہ مثال تم نے دیکھ ہی لی ہے بابا کی بات ختم ہوئی تو ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ عزم بھی کیا کہ ہم کبھی رشوت نہیں لیں گے اور حرام کی کمائی سے ہمیشہ دور رہیں گے۔