• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جرمنی کی ڈائری۔۔۔سید اقبال حیدر
دیار غیر خصوصا یورپ اور دیگر مغربی ممالک کی مشینی زندگی میں اپنے ملک کی سیاست میں دلچسپی وطن سے محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ہم پاکستانی اسی وطن کی محبت کے نشے میں سرشار وطن عزیز سے آنے والے سیاسی کرداروں کے آگئے پیچھے گھومتے ہوئے انھیںVIP پروٹوکول بھی دیتے ہیں جومغربی گورے سیاستدانوں اور سیاسی حلقوں میں نظر نہیں آتی ۔گورے اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہیں اور اپنا بریف کیس خود اٹھاتے ہیں مگرہمارے پاکستان سے آنے والے سیاستدان ایک عام سیاسی ورکر،جیالے کی عام کار میں سفر کے بجائے لمبی چوڑی مرسڈیز میں بیٹھنا اور اس کے مالک کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں جس کی زندہ مثالیں اور واقعات موجود ہیں۔ عمران خان پیرس آئے بڑے مجمع اورعوامی ڈنر کو جلدی میں چھوڑ کر ایک’’ ٹیکسٹائل کے بزنس مین‘‘ کے ساتھ چند لوگوں سے ساتھ ڈنر میں چلے گئے۔میاں نواز شریف ہائیڈل برگ،جرمنی آئے تو اس وقت کے ایک بزنس مین کے مہمان بن کر رہ گئے۔ ایسے طرز عمل سے عام سیاسی ورکرز کے دل میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے مگر یہ ورکرزمجبوری کے تحت’’ پرانی تنخواہ‘‘ والے محاورے کے تحت اپنی پارٹیوں سے جڑے رہتے ہیں ا نہیں پارٹی کی محبت ایسا کرنے پر مجبور رکھتی ہے حالانکہ یہی سیاسی ورکر جب کبھی پاکستان جاتا ہے اور ’’جرمنی کے قیام‘‘ کے دوران عنایت کردہ سیاسی لیڈر کا عنا یت کردہ وزیٹنگ کارڈ لے کر پاکستان میں لمبا سفر کر کے اسلام آباد ملنے جاتا ہے تو اس کی یہ خواہش بھی دم توڑ دیتی ہے مگر جرمنی سے گئے صاحب حیثیت حضرات کی تصاویر آئے دن ’’فیس بک‘‘ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ہم بات کر رہے تھے جرمنی میں پاکستانی سیاست کی، پچھلے دنوں جرمنی میں پی ٹی آئی دوبارہ نئے عزم کے ساتھ منظم ہوتی نظر آئی جرمنی میں مقامی طور پر مرکزی قیادت کی ہدایات کے مطابق الیکشن ہوئے اور 28اکتوبر کو نئی پڑھی لکھی عہدہ داروں کی ٹیم منتخب ہوئی جس میں مردوں کےساتھ خواتین بھی شامل ہیں۔نئے منتخب افراد میں قاضی حبیب الرحمٰنصدر ڈاکٹر شکیل ،نائب صدر جویریا کنول چوہدری، جنرل سیکرٹری خواتین کی ونگ کی سیکرٹری زرین سومرو اور انفارمیشن سیکرٹری کی زمہ داری مزمل شریک کو سونپی گئی۔یہ مقامی الیکشن مرکز کے نمائندے OIC کے ہیڈ ڈاکٹر ریاض اور ڈاکٹر عامر کیانی کی زیر نگرانی ہوئے۔ پی ٹی آئی جرمنی کے نئے منتخب صدر قاضی حبیب الرحمن اس چنائو سے پہلے ہی جرمنی میں پاکستانی کمیونٹی میں سماجی اعتبار سے بہت متحرک تھے اسی ماہ انھوں نے ایک لاوارث پاکستانی کی میّت پاکستان بھجوانے میں مثالی کردار ادا کیا ہے۔جرمنی میں ن لیگ بظاہر خاموش ہے اور ان کی کوئی قابل ذکر سرگرمیاں منظر عام پر نہیں ہیں۔جرمنی کے رہائشی رانا لیاقت جو پنجاب میں دوبارہ ایم پی اے منتخب ہوئے تھے اور پاکستان میں صوبائی اسمبلی میں مصروفیات کے تحت جرمنی میں اپنی سیاسی سرگرمیوں سے آج کل دور ہیں مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق جرمنی کی ن لیگ کی مقامی قیادت میں حافظ عبدالرحمٰن کو بڑے عہدہ کی اہم ذمہ داری ملنا جرمنی میں ن لیگ کو دوبارہ متحرک کر دے گا ۔حافظ عبدالرحمٰن ایک پڑھے لکھے کامیاب بزنس مین کے ساتھ ساتھ سماجی حلقوں میں بھی خاصے متحرک ہیں انھیں مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ راشد غوری چوہدری شفیق اور جرمنی میں پرانے ن لیگیوں کے جو رابطے جو ٹوٹ چکے ہیں انھیں بحال کریں اور ایک مضبوط ٹیم بنائیں ۔جرمنی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک طویل کہانی ہے اس ملک میں جیالے سب سے پہلے متحرک ہوئے اور یہاں ملکی سیاسی سرگرمیاں شروع کیں اگر یہ کہا جائے توبے جا نہ ہوگا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو دیکھ کر دیگر سیاسی جماعتوں کے ورکروں نے اپنی سیاسی صف بندیاں کیں۔جرمنی میں ابتدائی دنوں میں PPP کو فعال کرنے میں سجاد نقوی،ظہور احمد،شیخ سلیم،ظفر عباس شاہ ،سہیل خان،پرویز زیدی ،راجہ انور،انور بٹ، سیّد زاہد عباس ْحمید اللہ زاہد پیش پیش تھے آج پیپلز پارٹی جرمنی کی قیادت سیّد زاہد عباس کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے پارٹی کو جرمنی کے شہر شہرانتہائی فعال کردیا ہے بی بی شہید کا یوم شہادت ہو یا یوم تاسیس تمام دن تواتر سے منائے جاتے ہیں۔ ان کے متحرک ساتھیوں میں کفا یت سلہریا، میاں اکمل لطیف، سیّد جعفر عباس،رحمت اللہ چوہدری،فاروق چوہدری راشد مرزا،شبیہ الحسن جعفری،نسیم چیمہ، مجاہد عباس شاہ،منیر بیگ،فرید شاہ،خواتین میں زینت ہارون،مسزنشاط بیگ ہیں۔ پارٹی کی تمام تقریبات میں مرحومین میں ظفر عباس شاہ،مطلوب انقلابی اور پرویز زیدی کی خدمات کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔
یورپ سے سے مزید