• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پاکستان میں کلبوں کے سسٹم کو آسان بنانے کی ضرورت ہے

پی سی بی چیئرمین رمیز راجا نے چارج سنبھالنے کے بعد سے کئی افسران کو رخصت کیا ہے اور کئی افسران خود ہی ملازمتیں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ رمیز راجا فرنٹ فٹ پر کھیل کر فیصلے کررہے ہیں اور امید ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ میں موجود چیلنجوں سے نبرد آزما ہوکر معاملات کو جلد بہتر بنائیں گے انہیں پاکستان میں کلبوں کے سسٹم کو آسان بنانے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہی وہ فیکٹری ہے جہاں سے پاکستان ٹیم کو باصلاحیت کھلاڑی ملتے ہیں۔

اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم اچھی کارکردگی دکھا کر جیت رہی ہے لیکن نچلی سطح پر جتنی گڑ بڑ ہےاسے ہنگامی بنیادوں پردیکھنے کی ضرورت ہے۔رمیز راجا خود کھلاڑی رہے ہیں اورسسٹم کو اچھی طرح جانتے ہیں اور خامیوں سے بھی واقف ہیں اس لئے امید ہے کہ وہ خامیوں کو دور کرائیں گے اور سسٹم کو تباہ کرنے والوں سے نجات حاصل کریں گے۔ بنگلہ دیش کے خلاف جیت پاکستان کے لیے تو خوشیوں کی نوید ہے مگر بنگلہ دیش کے پاس سوچنے کو بہت کچھ ہے۔ دوسری اننگز کی بیٹنگ ہمیشہ بنگلہ دیش کی کمزوری رہی ہے۔ 

اس کمزوری کا کوئی مستقل مداوا لازم ہے ورنہ بنگلہ دیش، ٹیسٹ کرکٹ میں، کبھی درست سمت میں نہیں جا پائے گا۔بنگلہ دیش کے مسائل اپنی جگہ لیکن پاکستان میں ڈومسیٹک سیزن جاری ہے اور بیٹسمین رنز کے انبار لگارہے ہیں۔کوکو برا گیند سے بیٹنگ پچوں پر بیٹسمین اس قدر زیادہ سنچریاں بنارہے ہیں کہ شائد سلیکٹرز بھی پریشان ہوں گے کہ کون اچھا ہے اور کس کو منتخب کرنا ہے۔پاکستانی شاہینز کی ٹیم سعود شکیل کی قیادت میں سری لنکا کا دورہ مکمل کر چکی ہے جبکہ قاسم اکرم کی کپتانی میں پاکستان انڈر19ٹیم کا اعلان ہوچکا ہے جو ایشیا کپ اور جونیئر ورلڈ کپ میں حصہ لے گی۔

کھلاڑی قومی سطح اور بین الاقوامی سطح پر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ ےرہی ہے۔اچھی کارکر دگی کے باوجود پاکستانی کرکٹ ٹیم میں مزید نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔زمبابوے اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں کمزور حریف تھیں ان کے خلاف کچھ مزید نوجوان کھلاڑی آزما لئے جاتے تو غلط نہیں تھا لیکن ہار کے خوف سے ٹیم انتظامیہ مشکل فیصلے کرنے سے گھبرارہی ہے۔

سعود شکیل اور زاہد محمود کو بھی چیک کر لیا جاتا تو اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔بلاشبہ بابر اعظم کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم فتوحات حاصل کرکے دنیا کی صف اول کی ٹیم بن رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنیئر کھلاڑیوں شعیب ملک، محمد حفیظ ،سرفراز احمد اور عماد وسیم کو مستقبل کیا ہوگا۔

سلیکٹرز کو ان کھلاڑیوں کے بارے میں واضع پالیسی بنانا ہوگی۔ پہلے ٹیسٹ میں شاہین شاہ آفریدی نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹوں سمیت میچ میں مجموعی طور پر 7 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ٹیسٹ رینکنگ میں شاہین شاہ آفریدی3 درجے ترقی پاکر کیریئر کی بہترین 5ویں پوزیشن پرپہنچ گئے ۔

اسی طرح میچ میں 7 وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر حسن علی کی بھی ترقی ہوئی ، پانچ درجے چھلانگیں لگاتے ہوئے کیریئر کی بہترین 12ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین بھی تازہ ترین رینکنگ میں پیچھے نہیں رہے اور عابد علی کے ساتھ ساتھ پہلا میچ کھیلنے والے عبداللہ شفیق کی بھی ترقی ہوئی ہے۔

عابد علی بنگلہ دیش کے خلاف دوسری اننگز میں سنچری بنانے سے محروم رہے لیکن میچ میں 133 اور 91 کے اسکور کی بدولت 28 درجے ترقی پا کر کیریئر کی بہترین 20 ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں نصف سنچری بنا کر اپنا انتخاب درست ثابت کرنے والے عبداللہ شفیق 83ویں نمبر کے ساتھ ٹیسٹ رینکنگ کا حصہ بنے ہیں۔عبداللہ پر مسلسل تنقید ہورہی تھی لیکن انہوں نے اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا۔

اس ترقی کے برعکس پاکستان کے کپتان بابراعظم ایک درجہ تنزلی کے بعد ساتویں سے آٹھویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی کے باعث حسن علی پانچ درجے ترقی پاکر 11ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں ۔21 سالہ شاہین آفریدی کا ٹیلنٹ اس بات کی گواہی ہے کہ ہمارے ملک میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں، ان کھلاڑیوں کو درست وقت پر اور درست فارمیٹ میں موقع دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان کرکٹ میں مزید ہیرے سامنے آئیں ان ہیروں کو تراشنے کے لئے ایسے جوہری کی ضرورت ہے جو ٹیلنٹ کی قدر جانتا ہو۔

پاکستان میں کلب کرکٹ کے قوانین کو سادہ اور آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ 22کروڑ آبادی والے ملک میں کئی اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو موقع مل سکے اور یہ ٹیلنٹ ضائع نہ ہو۔ اس وقت کلب کرکٹ کے سسٹم کو پیچیدہ بناکر آرگنائزر ز کو پریشانی میں مبتلا کردیا گیا ہے اس نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید