• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’’نمو‘‘ بشیرا اور دل لگی کی کامیابی سے انہیں بہت شہرت ملی

70 ء کی دہائی میں فلمی صنعت میں بے شمار چہرے متعارف ہوئے، ان نئے چہروں میں چند خوش نصیب اداکارائوں نے بہ طور ہیروئن بے حد شہرت و کام یابی حاصل کی، لیکن چند خُوب صورت اداکارائیں ایسی بھی تھیں، جو ثانوی کرداروں یا سائیڈ ہیروئن سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ جب کہ یہ اداکارائیں ہیروئنز کی تمام خصوصیات کے باوجود اپنی قسمت سے اس مقام تک نہ پہ نچ پائیں۔ آج ہم ایک ایسی اداکارہ کا ذِکر کریں گے، جس نے ’’نِمو‘‘ کے نام سے فلمی صنعت میں شہرت حاصل کی ۔ 

نِمو جس کا اصل نام نورین بٹ تھا، 3؍ اگست 1950ء میں لاہور میں پیدا ہونے والی اس اداکارہ کے والد شہزادہ محمود متحدہ ہندوستان میں راج پال کے نام سے جانے جاتے تھے، ایک اداکار اور مصنف کی حیثیت سے ان کا نام فلمی دنیا میں مشہور تھا۔ انہوں نے پہلی شادی وہاں ایک ہندو عورت سے کی، جن کے بطن سے ایک بیٹا جو بالی وڈ میں ونود کھنہ کے نام سے ایک بڑا فلم اسٹار بنا، وہ اس حوالے سے نِمو کے بھائی تھے۔ پاکستان بننے کے بعد شہزادہ محمود کراچی آگئے، جہاں انہوں نے فلم اسٹوڈیو بنانے کی کوشش کی، مگر مایوس ہو کر جلد ہی لاہور آگئے۔ 

ان کی بیوی ان کو چھوڑ کر دوبارہ بھارت چلی گئیں اور پھر دونوں میں طلاق ہوگئی۔ لاہور میں انہوں نے دوسری شادی کی ، جس سے اداکارہ نِمو اور اس کے دو بھائی پیدا ہوئے۔ معروف ڈراما آرٹسٹ عابد بٹ، نِمو کے بڑے بھائی تھے۔ اس حوالے سے نامور ٹی وی اداکارہ ، نگہت بٹ، نمو کی بھاوج تھیں، نمو کے ایک بھائی زاہد بٹ کراچی میں رہتے تھے، فلم میں کام کرنے کا شوق انہیں والد صاحب کی وجہ سے ہوا، یہ اُن دنوں کی بات ہے، جب نِمو صرف نورین کہلاتی تھیں۔ اداکاری کا شوق انہیں نگار خانوں کی طرف لے گیا، شروع شروع میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، جب وہ کسی فلم کےلیے اپنا اسکرین ٹیسٹ دیتیں تو فلم ساز انہیں غیر موزوں قرار دیتے۔ 

نورین کی بڑی بڑی جھیل سی گہری آنکھیں اورتیکھے نقش بھی ان فلم سازوں کو نظر نہ آتے، مگر اس لڑکی نے ہمت نہ ہاری اور اپنے دل کی عدالت میں فلم سازوں کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی، دل کی عدالت نے فیصلہ اس کے حق میں دیا او وہ جہد مسلسل کرتی رہی ۔ شباب پروڈکشنز نے اپنی ایک نئی فلم فسانہ دل کا جب آغاز کیا تو اداکار ندیم کے مدِ مقابل اس نئی لڑکی نورین کو نِمو کا نام دے کر بہ طور ہیروئن کاسٹ کرلیا۔ 

نِمو کا نام انہیں شباب کیرانوی نے دیا، اس فلم میں سائن کرتے وقت شباب کیرانوی نے اپنی شرائط کے مطابق ایک معاہدہ سائن کرنے کو نِموسے کہا، جس کے مطابق وہ پانچ سال تک کسی اور فلم ساز کی فلم میں کام نہیں کریں گی، اس ایگریمنٹ کے لیے نِمو صاحبہ تیار نہ تھیں۔ ان کے انکار نے انہیں ’’فسانہ دل‘‘ کی کاسٹ سے علیحدہ کروادیا، حالاں کہ بہ طور ہیروئن کے چانس تھا ، مگر نِمو نے یکدم ایگریمنٹ سے انکار کردیا ، اپنے کیریئر کی شروعات سے پہلے ہی ایک بہت بڑا رِسک لیا۔ فسانہ دل میں پھر نِمو کی جگہ اداکارہ دیبا بیگم کو کاسٹ کرلیا گیا۔

دیگر فلم سازوں نے جب اس نئی لڑکی کی اس ہمت اور جرأت کا سُنا تووہ اپنی نجی محفلوں میں اس کا ذکر بڑے اچھے انداز میں کرنے لگے۔ فلم سازاور ہدایت کر اسلم ڈار جو نِمو کے والد سے پہلے شناسا تھے، دونوں کشمیری برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک روز وہ نِمو کو فلم میں کاسٹ کرنے کے لیے ان کے گھر پہنچ گئے۔ اپنی فلم ’’سخی لٹیرا‘‘ میں انہوں نے نمو کو کاسٹ کیا۔ اسلم ڈار کو نِمو ہمیشہ اپنا محسن مانتی رہیں۔ 

ہم سے بھی جب ملاقات ہوتی تو گفتگو میں وہ ان کا نہایت احترام کےساتھ ذکر کرتی تھیں، سخی لٹیرا میں بہ طور سائیڈ ہیروئن ان کے کام کو لوگوں نے بے حد پسند کیا۔ یہ ملبوساتی میوزیکل کام یاب فلم 1971ء میں کراچی کے رینو سنیما میں پیش کی گئی۔اس فلم میں اپنے زمانے کے باڈی بلڈر نصراللہ بٹ نے ہیرو کا کردار کیا، جب کہ اداکارہ رانی نے ان کی ہیروئن کا رول کیا تھا۔ یہ پہلی فلم تھی، جس میں بہ طور اداکار اسلم ڈار نے وِلن کا کردار کیا تھا۔

فلم ’’سخی لٹیرا‘‘ کے بعد اسلم ڈار کی سسپنس سے بھرپور فلم ’’مجرم کون‘‘ جس میں ٹی وی کی معروف شخصیت ضیاء محی الدین نے پہلی بار ہیرو کا کردار کیا تھا اور ان کے مقابل روزینہ نے ہیروئن کا رول کیا، اس فلم میں نِمو کو ایک اہم کردار میں پیش کیا گیا۔ یہ فلم اگست 1971ء میں کراچی کے ریگل سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ اسلم ڈار، نِمو کی فرمانبرداری اور اداکاری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی ہر آنے والی فلم می ان کو لازمی طور پر کاسٹ کرتے۔ 

اداکار سلطان راہی کو بام عروج پر پہنچانے والی فلم بشیرا میں نِمو نے سلطان راہی کی لڑاکا بیوی کا کردار نہایت عمدگی سے نبھایا ، جب کہ اردو فلم زرق خان میں نمو نے ایک بار پھر اپنی اداکاری کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ اس فلم میں انہوں نے ایک حریت پسند مجاہد کی بیوی کا کردار ادا کیا۔ 1974ء میں اسلم ڈار کلاسیک رومانی نغماتی بلاک بسٹر اردو فلم ’’دل لگی‘‘ میں جہاں شبنم، ندیم ، نیر سلطانہ، آغا طالش، ریحان، لہری، عقیل نے اپنی کردار نگاری کے حوالےس کافی شہرت پائی، وہاں اس فلم میں اداکارہ نِمو کی شوخ و چنچل برجستہ اداکاری کا ہر کوئی دیوانہ نظر آیا۔ سلطان راہی جواس زمانے میں پنجابی فلموں کے بڑے سپرہٹ ہیرو بن چکے تھے، لیکن اس فلم میں انہوں نے نِمو کے مزدور باپ کا مختصر کردار بڑے غضب ناک انداز میں ادا کیا۔

اداکار ندیم نے راجہ مکینک کا لازوال کردار کیا، ایک غریب بستی میں رہنے والا راجہ ایک امیر زادی شبنم کی محبت میں سب کچھ بھول جاتا ہے، نمو جس نے رانی کا کردار کیا تھا، وہ بچپن سے راجہ کو چاہتی ہے، لیکن راجہ اس کی محبت کو سمجھ نہ پایا تو ایک روز رانی نے خود اس طرح سےاظہار محبت کیا ’’سیاں اناڑی میرے دل کو جلا ئے ‘‘ اس فلم میں نِمو نے اپنی بڑی خوب صورت آنکھوں کا نہایت ہی عمدہ استعمال کیا، وہ خاموش رہتی ہیں، تو ان کی آنکھیں بولتی ہیں۔ اپنے راجہ کی محبت کی خاطر اپنی محبت کی قربانی دینے والی نِمو اس کردار میں امر ہوگئیں۔

کتابی چہرے اور خُوب صورت آنکھوں والی اس اداکارہ نے اپنے پورے کیریئر میں 113؍ ریلیز شدہ فلموں میں مختلف نوعیت کے کردار نہایت احسن طریقے سے ادا کیے۔ ان کی آخری فلم 2003ء میں فوجا امرتسریا ثابت ہوئی، جس میں اداکار شان نے ہیرو کا کردار کیا، اردو اور پنجابی فلموں کے علاوہ نِمو نے چند پشتو فلموںمیں اپنی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔

بشیرا اور دل لگی کی ملک گیر کام یابی نے نِمو کو بے حد مصروف اداکارہ بنا دیا تھا، وہ زیادہ تر ثانوی اور سیکنڈ ہیروئن کے طور پر کاسٹ ہوتی رہیں، وہ زیادہ تر موڈرن اور گلیمرل کرداروں میں بے حد پسند کی گئیں۔ 1977ء میں ہدایت کر نذرالاسلام کی بلاک بسٹر اردو فلم ’’آئینہ‘‘ میں انہوں نے ایک الٹرا موڈرن ہائی سوسائٹی کی برگر لڑکی کا رول کیا، جو اپنے شوہر قوی کے ساتھ تاش اور شراب کی محفلوں میں بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ 

آئینہ کے علاوہ نِمو نے جن فلموں میں اپنی اداکاری کے اعلی جوہر دکھائے، ان میں چاہت، ننھا فرشتہ، فرض اور مامتا، شیریں فرہاد، نیک پروین، موم کیگڑیا، انوکھی، سنگم، پیار کا وعدہ، دل کے داغ، آواز، قربانی، دو دل، آنگن، آب حیات کے نام قابل ذکر ہیں، جب کہ ان کی پنجابی فلموں میں حشر نشر، کل کل میرا ناں، ڈنکا، دادا، انتقامدی اگ، خون دا دریا، شرابی، بابل صدقے تیرے، ہتھکڑی، بلونت کور، واردت، فراڈ، چور سپاہی، نظام ڈاکو، دو طوفان، دونشان، نوکرتے مالک، ماں پتر، پکار، پتر شاہیئے دا، میڈم باوری، اچھو 302، کے نام خاص طور پر شامل ہیں۔

جس دور میں اداکارہ نِمو اردو اور پنجابی فلموں میں کام کررہی تھیں، تو ہر فلم ساز اور ہدیات کار ان کے کام سے بے حد مطمئن تھا ۔ انہوں نے تقریباً ہر بڑے ہدایت کار اور ہیروز کے ساتھ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شباب پروڈکشن کی ایک ان ریلیزفلم ’’سمجھوتہ ‘‘ میں ان کا کلب ڈانسر کا کردار یادگار اور خُوب صورت تھا، مگر یہ فلم مکمل ہونے کے باوجود ریلیز نہ ہوپائی۔ نِمو، طبیعت کے حوالے سے ایک ملن سار اور با اخلاق خاتون تھیں ۔ 

کسی کا دکھ اور تکلیف دیکھ کر وہ دکھی ہوجایا کرتی تھیں، ہر ممکن اس کی مدد کرتیں، بہ طور اداکارہ انہوں نے بہت دولت کمائی، لیکن اپنی سخاوت کی وجہ سے غریبوں کی مدد کرتی رہیں، بھارت میں اپنے بھائی معروف فلم اسٹار ونود کھنہ کا ذکر وہ اکثر کرتی رہتی تھیں ، جن دنوں وہ فلموں میں بے حد مصروف تھیں، تو ان دنوں بھارت سے اداکار ونود کھنہ کے ساتھ ان کی باقاعدہ خط و کتابت ہوتی رہتی تھی ، ونود کھنہ اپنی پاکستانی بہن کے لیے خیر سگالی اور دعائوں کے ڈھیروں خطوط بھیجتے رہتے تھے۔ یہ بات خود ایک ملاقات میں نمو نے ہمیں بتائی۔ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے والی یہ باہمت اداکارہ اندر سے بڑی دُکھی تھیں۔ 

اپنے دُکھوں کا اظہار کرتے ہوئے اکثر رودیا کرتی تھیں، اپنے پہلے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ جب فلمی دنیا میں میرا نام بن گیا، تو میرے والدین نے میری شادی ایک ایسے شخص سے کردی، جس نے میری زندگی میں مجھے بہت تکلیفیں دیں، وہ ایک خود غرض، لالچی شخص تھا، جو فلم ساز اور ہدایت کاروں کو جاکرتنگ کرتا۔ ایک بار اس لالچی شخص نے 55؍ ہزار روپوں کی خاطر نِمو کو زہر دے کر مارنے کی بھی کوشش کی، مگر اس کی زندگی تھی اور وہ بچ گئیں، بڑی مشکل سے اپنے پہلے شوہر سے بذریعہ عدالت طلاق حاصل کی۔ 

اس ناکام شادی کے بعد نِمو نے تہیہ کرلیا کہ اب وہ شادی نہیں کرے گی۔ نِمو کا جس عدالت میں طلاق کا معاملہ چل رہا تھا، اس عدالت کا مجسٹریٹ جاوید دستگیر نامی شخص تھا، جس نے ان کی دُکھ بھری کہانی سن کر اس ظالم شخص سے اسے آزادی دلائی۔ جاوید دستگیر نے اسے اپنی بیوی بنانے کی پیش کش کی، کئی دنوں تک غور کرنے کے بعد نمو نے جاوید کی پیش کش قبول کرلی اور ان سے نکاح کرلیا، اس شادی کے بعد وہ فلمی دنیا کے ہنگاموں سے دور ہوگئیں۔ فلم ساز اور ہدایت کار مسلسل انہیں اپنی فلوں میں کاسٹ کرنے کی آفر کرتے رہے، بس وہ بہت کم فلموں میں نظر آنے لگیں۔

اپنے دور کی دل کش خُوب صورت اداکارہ 16؍ دسمبر 2010ء میں وفات پاگئیں، لاہور میں آسودہ خاک ہیں۔ نِمو کی بیٹی منزہ شوبز کی دنیا میں متعارف ہوچکی ہیں۔ وہ اداکاری اور گلوکاری کے شعبوں میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید