• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحقیقی مقالوں کی چوری،قائمہ کمیٹی میں 5 جامعات کے وائس چانسلرز طلب

اسلام آباد ( وقائع نگار )تحقیقی مقالوں کی چوری،قائمہ کمیٹی میں5جامعات کے وائس چانسلرز طلب ، ایچ ای سی جامع سوال نامہ بنا کر وی سیز کو بھیجے، 15 دن میں رپورٹ دیں ،کنوینر، تحقیقی مواد کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں،سینٹ کی قائمہ کمیٹی وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر رانا مقبول کی زیر صدارت ہواجس میں پانچ جامعات قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، پشاور یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹییونیورسٹی آف پنجاب لاہور اور یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ کے تحقیقی مقالوں کا جائزہ لینے ، منظوری اور پبلشنگ کے طریقہ کار کے معاملات کا جائزہ لیا گیا، رانا مقبول نے کہا یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے، اجلاس میں مستقبل کیلئے لائحہ عمل اختیار کیا جائیگا کہ کس طرح اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے، تحقیقی مقالوں کی چوری اور غلط استعمال کے تدارک کے لئے متعلقہ اداروں کی طرف سے ہر ممکن اقدام یقینی بنایا جائے گا، تحقیقی مقالوں کے مواد کی چوری کے حوالے سے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی اداروں سے بھی شکایات وصول ہو رہی ہیں، ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ جامعات کے وائس چانسلرز کے تحقیقی مقالوں کی منظوری ایچ ای سی سے ہوتی ہے اور باقیوں کی متعلقہ یونیورسٹی کرتی ہیں،انٹر نیشنل مقالے کو ڈبلیو کیٹیگری میں رکھتے ہیں اور انٹرنیشنل مکالموں کی منظوری انٹرنیشنل ایجنسیاں دیتی ہیں، کمیٹی کو بتایا گیا کہ 600مقالوں کی منظوری کی درخواست آئی تھی جن میں سے 3سو کو منظور کیا گیا، کنوینرنے کہا کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ اب تک کتنے مقالوں کی درخواستیں آئیں، کتنے جعلی یا نقل شدہ مواد سے مرتب کئے گئے تھے،معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے، ذیلی کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ایجنڈہ میں شامل جامعات کے وائس چانسلر کو طلب کر لیا،کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2007میں اس حوالے سے ایک پالیسی بنائی گئی تھی جس میں اب تک 3سو کیسز کا جائزہ لیا گیا ہے ، شکایت کا 90دن میں جائزہ لیکر رپورٹ تیار کر لی جاتی ہے ، رانا مقبول نے کہا آسٹریلیا میں ایک پاکستانی نژاد پروفیسر نے فون پر آگاہ کیا ہے کہ اُنکے تھیسز کے مواد کو پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وی سی نے چوری کر کے ڈگری حاصل کی ہے اسکی شکایت پی ایم پورٹل، ایچ ای سی و دیگر اداروں کو کی ہے مگر ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، متعلقہ ادارے اُنکی شکایت کے حوالے سے رپورٹ دیں،ریسرچ پیپرز کی چوری اور غلط استعمال کو روکنا انتہائی ضروری ہے متعلقہ ادارے ایسے اقدامات اٹھائیں کہ حقدار کو حق مل سکے، ان پانچ یونیورسٹیز کے وی سیز کو ایچ ای سی ایک جامع سوال نامہ بنا کر بھیجے اور پندرہ دن کے اندر کمیٹی کو رپورٹ فراہم کریں ، ذیلی کمیٹی نے پانچ جامعات کے تحقیقی مواد کی تفصیلات بھی آئندہ اجلاس میں طلب کر لیں۔

اہم خبریں سے مزید