دانتوں کے ماہرین نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف دانتوں پر نہیں بلکہ زیادہ توجہ مسوڑھوں اور زبان کی صحت پر دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ صرف برشنگ دانتوں کی بیماری سے محفوظ رہنے کے لیے کافی نہیں۔
دانتوں کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لوگ دانتوں اور منہ کی صحت کے مقابلے میں صرف چمکدار سفید دانت رکھنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، حالانکہ مسوڑھوں کی صحت بہت سی بیماریوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
انکا کہنا تھا کہ آنتوں کے بعد منہ ایک متنوع بیکٹیریا کمیونٹی کا گھر ہے، جسے اورل مائیکرو بائیوم کہا جاتا ہے اور سات سو سے زیادہ اقسام کی ایسی مائیکرو بائیوم ہماری زبان، مسوڑھوں اور دانتوں پر پائے جاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر منہ کی صفائی پر صحیح توجہ نہ دی جائے اور مسوڑھوں کے کنارے کی برشنگ، دانتوں کے درمیان برش کرنا اور زبان کی صفائی بہتر انداز میں نہ کی جائے تو یہ جسم میں وسیع پیمانے پر سوزش پیدا کر سکتا ہے، جو ذیابیطس، دل کی بیماری اور حتیٰ کہ ڈیمنشیا کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔
دانتوں کی ہائیجین (صفائی) کی ماہر لارا ہیمپل مین کے مطابق روزانہ دانتوں کے درمیان صفائی کرنا یعنی ایک چھوٹے پائپ کلینر نما ٹوتھ برش کا استعمال کر کے ہر دانت کے درمیان صفائی کرنا، دو منٹ تک برش کرنے سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ برشنگ صرف منہ میں موجود 80 فیصد تک پلاک کو ہٹا پاتی ہے لہٰذا صرف برش کرنا کافی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا سارے دانتوں کے درمیان صفائی، کلیاں نہ کرنا تاکہ ٹوتھ پیسٹ زیادہ دیر تک منہ میں رہ سکے اور صرف برش کے وزن سے مسوڑھوں کو زیادہ دیر تک برش کرنا اہم ہے۔
برطانیہ کے وونڈر آف ویل نیس کلینک میں بایوکیمسٹ اور ڈینٹسٹ ڈاکٹر سیبستیان لوماز اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ابتدائی طور پر منہ سے خون آنا، جو کہ مسوڑھوں کی بیماری کی نشانی ہے جسم میں دائمی سوزش کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا بیالوجیکل ڈینٹسٹری میں ہم منہ کی دیکھ بھال کو جسم کا آئینہ سمجھتے ہیں۔