بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کو براہ راست عوامی مباحثہ کرنے کا چیلنچ کردیا۔
بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے آج بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کو دعوت دی ہے کہ وہ قوم کے سامنے براہِ راست عوامی مباحثے میں شریک ہوں، جہاں دونوں رہنما اپنے اپنے سیاسی وژن اور انتخابی منشور پیش کریں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بنگلادیش میں سیاسی جواز صرف آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتا ہے اور شفافیت و اعتماد کے بغیر کوئی بھی انتخابی نتیجہ عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔
امیر جماعت اسلامی نے لکھا کہ سیاسی جواز صرف آزاد اور منصفانہ انتخابات سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ انصاف اور اعتماد کے بغیر کوئی بھی نتیجہ عوام کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔
جولائی 2024 کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے امیر نے کہا کہ سیاسی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئی نسل کو سیاست کا ایک نیا، مہذب اور غیر تصادمی انداز دکھائے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ جولائی انقلاب کے بعد ہم پر لازم ہے کہ ہم نوجوانوں کو یہ ثابت کریں کہ سیاست مہذب، شائستہ اور غیر محاذ آرائی پر مبنی بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ دونوں رہنما میڈیا اور عوام کے سامنے ایک ساتھ آئیں تاکہ سیاست کا ایسا انداز پیش کیا جا سکے جو تنقید کو قبول کرنے والا، جوابدہ اور شفاف ہو۔
بی این پی چیئرمین کی جانب سے حال ہی میں پیش کیے گئے سیاسی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے طارق رحمان کو ایک ایسے براہِ راست عوامی فورم پر آنے کی دعوت دی جہاں دونوں جماعتیں اپنے انتخابی منشور پیش کریں اور عوام خود فیصلہ کر سکیں۔
تاہم اس تجویز پر بی این پی کی جانب سے تاحال کوئی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔