• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیاہے،حاجی زیبرعلی ۭ

پشاور( وقائع نگار) جمعیت علماء اسلام پشاور سٹی میئرشپ امیدوارحاجی زیبرعلی نے کہاہے پشاور میری پیدائش، پرورش ، تربیت کا شہر ہے لیکن موجودہ حکومت نے شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیاہے جس کی وجہ سے دل خون کے آنسوں رورہاہے، پشاورکے باسیوں کو نکاسی آب، صفائی، تعلیم، صحت، ٹریفک مسائل، گیس وبجلی لوڈشیڈنگ اور کھیلوں کی میدانوں کی کمی جیسے درپیش چیلنجز کا سامنا ہیں، مسائل ومشکلات اور چیلنجزکے لئے ایک جامع منصوبہ بندی کردی ہے اور پشاور کے غیور عوام، تاجربرادی،بزرگ شہری، مائیں، بہنیں اور بیٹیاں19دسمبر کوکتاب کے نشان پر مہر لگاکرپشاور کو ایک ماڈل شہر بنانے میں ساتھ دیں۔ زبیرعلی نے سابقہ ڈسٹرکٹ ناظم حاجی غلام علی ، تاجر رہنمائوں ملک مہر الہی، شوکت علی خان،مہمند چیمبرصدر سجادعلی، محلہ خداد صدر غلام حسین ، سبزی منڈی صدرملک انعام اور مشتاق احمد کے ہمراہ مینا بازار،محلہ خداد، پیپل منڈی ، سبزی منڈی، موچی لڑہ، چڑیکوبان اور ملحقہ بازار کے انتخابی مہم کا دورہ کیا۔ تاجربرادری نے زیبرعلی کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور ان کو پھولوں کے ہار پہناکر پھولوں کے پتے نچھاور کی۔ زبیرعلی نے کہاکہ پشاور کو ماڈل شہر بنانے، تعمیروترقی اور خوشحالی کے لئے سیاسی جماعتوں، بزنس کمیونٹی، مائوں، بہنوں اور بزرگ شہریوں نے میرے سپورٹ کا اعلان کردیا جو خوش آئندہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح میرے والد نے بحیثیت ڈسٹرکٹ ناظم پشاور شہر کی خدمت کرکے 200ٹیوب ویلوں کی تنصیب، سڑکوں کی کشادگی، فٹ پاتھوں کی تعمیر،نکاسی آب کے مسائل، سٹریٹ لائٹس، ٹریفک مسائل کے حل کے لئے ملک سعد فلائی اوور ،مفتی محمود فلائی اوور کی تعمیر کی منظوری اور سٹی سرکلر روڈ کی تعمیر جیسے منصوبے دورحکومت میں مکمل کی۔ انہوں نے کہاکہ میرے خاندان اور والد کی پشاور شہر کے لئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، خیبرروڈ اور صدر روڈ کو کشادگی اور دوبارہ تعمیر کیاجس سے ٹریفک مسائل پر بڑی حد قابو پایا گیا اور ان کے نقش قدم پر چل کرپشاور شہر کے بنیادی مسائل حل کرکے دم لینگے۔ انہوں نے کہاکہ بزنس کمیونٹی، شہری،بزرگ، مائیں، بہنیں اور نوجوان 19دسمبرکوکتاب کے نشان پرمہر لگا کر پشاورکی تعمیر وترقی میں جے یوآئی کا ساتھ دیں اور تعلیم، صحت ، ٹریفک مسائل، نکاسی آب وصفائی اورسڑکوں وگلی کوچوں کی تعمیریقینی بنائے۔
پشاور سے مزید