• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پُر رونق اور آباد شہر ہوں یا شہرِ خموشاں ،دونوں جگہ عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں ۔آباد شہروں میں آوازیں اور بول چال معمول کی بات ہے لیکن شہرِ خموشاں میں عمارتیں زبان حال سے اپنا احوال بیان کرتی ہیں ۔چوکُنڈی کا قبرستان بھی زبان حال سے اپنا احوال سناتاہے۔

چوکُنڈی کا قبرستان کراچی سے مشرقی جانب نیشنل ہائی وے پر ۲۹ کلومیٹر یا ۱۸ میل کے فاصلے پر کر بائیں جانب واقع ہے ، اس قبرستان میں تقریباً چھ سو قبریں پیلے ریتلے پتھروں سے بنائی گئی ہیں جنہیں جنگ شاہی کے علاقے سے لایا گیا تھا۔ یہ قبریں پر ڈھائی فٹ چوڑی اور پانچ فٹ یا آٹھ فٹ لمبی ہیں، ان کی اونچائی بھی چار فٹ سے لے کر چودہ فٹ تک پائی جاتی ہے ۔ 

پکی قبروں کے علاوہ بھی یہاں قبریں بارہ سو سے زائد ہیں ،یہ قبرستان تقریباً دو کلو میٹر کے دائرے میں واقع ہے جس کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری طور پر صرف ایک چوکیدار متعین ہے، جو گائیڈ کا کام کر کے کچھ حاصل کر لیتا ہے لیکن چوری چکاری کے واقعات نے اصل قبرستا ن کو نصف کردیا ہے ۔ 

ان قبروں پر آرائش وزیبائش کے جو نقش ونگار بنائے گئے ہیں وہ حد درجہ قیمتی اور نایاب ہیں ،ان میں خاص سندھی ،مغل ،اسلامی طرز کی جالیاں بھی لگی ہوئی ہیں جو سنگ تراشی کا بہترین نمونہ ہیں ،قبروں پر نقاشی کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات اور دیگر خطاطی کے بیش قیمت کام کیے ہوئے ہیں جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کرتے ہیں اور متاثر بھی۔

قبرستان کی بیشتر قبروں کا تعلق جو کھیو خاندان سے ہے ،بلوچ قبائل کے بھی لوگ مدفون ہیں ۔یہ پندرہویں صدی سے اٹھارویں صدی تک کی تعمیرات ہیں جو مغلوں کی حکمرانی کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اکیلی قبروں کے علاوہ بعض جگہ آٹھ مُردوں تک کی قبریں ایک پلیٹ فارم پر ہیں، اوربہت سی جگہ عمودوں کی چھتری بنا کر اور اُس پر گنبد یا قُبّہ بنا کر ڈھک دیا گیا ہے ، یہ قبریں نیچے سے بڑی پیمائش اور کئی درجوں میں چھوٹی پیمائش کے ساتھ ایسے تعمیر کی گئی ہیں کہ اہرام یا پیرامڈکی شکل بن جاتی ہیں۔

اکیلی قبروں میں نچلے درجے پر چھ عمودی سلیں ،دوسرے درجے پر ذرا چھوٹی پیمائش کی مزید چھ سلیں لگائی گئی ہیں ،درجوں کی تعداد زیادہ بھی ہے، جس میں چھوٹی پیمائش کی سلیں لگائی گئی ہیں اور اوپر سے اُفقی انداز میں سلیں لگا کر قبر کو ڈھک دیا گیا ہے ۔مردوں کی قبروں پر تعویذ کی جگہ تاج یا پگڑی منقوش ہے جب کہ خواتین کی قبروں کے تعویذ کسی زیور کی شکل میں ہیں۔ سلوں پر ہندسی اشکال اور گھڑسوار ،شکار کے منظر ،دیگر نشانات اور ہتھیار کی اشکال بڑی ہنر مندی سے سینڈاسٹون پر کھود کر بنائی گئی ہیں ۔یہاں پر کلماتی بلوچ لوگوں کی قبریں بھی پائی جاتی ہیں ،کلمات کے نام سے مکران کے ساحل پر ایک گاؤں آباد ہے ۔

یہ قبرستان بغیر کسی نگہداشت کے تھا کہ ٹھٹھہ کے اسسٹنٹ کلکٹر نے ۱۸۵۱ عیسوی میں حکومت کو توجہ دلائی اور پھر ۱۹۰۴ء میں اس کی دیکھ بھال سرکاری طور پر شروع ہوئی۔ ایسی قبریں منگھو پیر ،سہر اب گوٹھ اور سون میانی کے علاقوں میں بھی پائی جاتی ہیں ،ہنیدان ، بلوچستان ، کارپاسان اور گندر میں ڈنگا گاؤں کے پاس بھی موجود ہیں ،جن پر سنگی سلیں ،عربی خطاطی اور ہندسی اشکال سے مزین ہیں ،ملیر میں بھی ۱۹۱۰ء کے لگ بھگ کچھ قبریں اِسی انداز کی دریافت ہوئی ہیں جن پرقرآنی آیات یا دیگر نقش ونگار کے علاوہ مُردوں یا قبیلوں کے نام بھی کندہ ہیں ۔ 

جوکھیو یا جوکھیا افراد جن سے یہ قبریں زیادہ تر وابستہ پائی گئی ہیں، اس قبیلے کے اب بھی اِس قبرستان کے قرب وجوار میں آباد ہیں ،جوکھیو افراد در اصل سمّہ قبائل کی ایک شاخ یا وارث ہیں۔ ان لوگوں کا ذکر اور جھرک قبرستان نیز بلوچ قبائل کے تذکرے ۱۹۲۵ء کی ایک کتاب میں مذکور ہے ،جو چوکُنڈی کی طرزِ تعمیر اور جھرک ،سونڈا اور کھڑ کھڑو لوگوں کے تذکرے پر مشتمل ہے ،اور بیان کرتی ہے کہ اِسی طرز کے سندھ میں تقریباً بیس مختلف قبرستان پائے جاتے ہیں۔

چونکہ قبر کے نچلے ڈھانچے میں چھیددار جالی پتھر کی سلوں میں استعمال ہوئی ہے اس لیے ۱۹۱۷ ء کی ایک رپورٹ میں یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ مُردوں کو زمین کی اوپری سطح پر ہی دفن کیا گیا ہے ،لیکن تحقیق نے یہ ثابت کردیا کہ یہ خیال غلط ہے ،وہ زیرِ زمین ہی دفن ہیں ۔بعض قبروںپر ۱۱۶۹ ہجری یا ۱۷۵۶ عیسوی کے الفاظ بھی درج ہیں ۔میاں غلام شاہ کلھوڑو (شاہ دردی خان) جو ۱۷۷۲ء میں وفات پا گئے تھے اُن کی قبر بھی اِسی انداز کی ہے ۔سمّہ قبیلے کا سردار جام نظام الدین ثانی (۱۴۶۱ء۔۱۵۰۹ء)کا مقبرہ بھی اِسی طرح کا ہے ،اور میر معصوم کا مقبرہ جو اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کلھوڑو حکمرانوں کے زمانے میں سکھر میں تعمیر ہوا وہ بھی اِسی طرز کا تعمیر کردہ ہے۔ 

یہی طرز باغوانہ گاؤں لسبیلہ بلوچستان کے جنوب مغرب میں پایا جاتا ہے ۔یہ بات ۱۹۳۱ء میں مائی مسورہ کا مقبرہ نامی کتاب سے معلوم ہوئی،فقیر خاتون صوفی کی قبر پندرہویں صدی کے آخر میں اِسی طرزِ تعمیر کی ایک مثال ہے ۔گجّو میں ٹھارو پہاڑی کے قریب چودہویں صدی کی تعمیر کردہ قبریں بھی اِسی سے ملتی جلتی ہیں۔ گجّو کے علاقے میں جو ٹھٹھہ سے صرف ۱۰ میل کے فاصلے پر ہے ایک انتہائی قدیم مزار شیخ ابو تراب کا بھی پایا جاتا ہے جو ۱۷۱ھ مطابق ۷۸۸ء کا تعمیر کردہ ہے۔

یہ طرزِ تعمیر نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان کے علاقے راجستھان ،گجرات میں منڈا قبائل کی قبروں میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ وہاں کے راجپوتوں کا بڑا گہرا تعلق جوکھیو ،نمیری ،بُرفات اور کَچھ کے مہاجرین لاشاری قبائل سے رہا ہے،جو سندھ اور مکران میں سمّہ حکمرانوں کے دور میں یہاں ہجرت کر کے آگئے تھے ، یہ لوگ بلوچی ،کلماتی قبیلے سے بھی خاندانی تعلقات اور رشتے ناطے رکھتے تھے ۔یہی طرزِ تعمیر ٹھٹھہ کے قریب مکلی پہاڑی پر واقع دنیا کے سب سے بڑے قبرستان میں بھی پایا جاتا ہے ،لیکن وہاں چوکُنڈی کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔

چوکُنڈی یا چوکُھنڈی کے لفظ کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ طرزِ تعمیر کا نام ہے اور بعض لوگوں کے بقول یہ علاقے کا نام ہے ۔جام مریدبن حاجی کی قبر پر لفظ چوکُنڈی لکھا ہوا ہے ،اور کچھ دیگر قبروں پر بھی یہی لفظ کھدا ہوا دیکھا گیا ہے ،شیخ خورشید حسن جو آثار ِ قدیمہ کے ایک ماہر کی حیثیت رکھتے ہیں اُن کا خیال ہے کہ یہ جگہ کا نام ہے۔۱۹۲۰ء میں بینرجی نے بھی چوکُنڈی گاؤں کا ذکر کیا ہے، جبکہ ممتاز حسن جو ایک دانشور ،مصنف اور آثارِ قدیمہ سے بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ’’ چو‘‘سندھی میں چار کو کہتے ہیں اور کُھنڈی پائے کو یا کونے کو کہتے ہیں لہذا وہ جگہ جو چار عمودوں پر ایک چھتری یا قُبّے کو گھیرے وہ چوکُنڈی کہلاتی ہے‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ چھتری ایک قبر کے اوپر گنبد یا قُبّے کی صورت میں چار پایوں پر قائم ہوتی ہے لیکن چوکُنڈی کے قبرستان میں بنائے گئے برآمدے چار عمودوں سے زیادہ کے بھی ہیں ،جیسا کہ منگھو پیر کی قبروں پر بھی پائے جاتے ہیں ۔

ممتاز حسن کہتے ہیں، کہ دراصل یہ لفظ اُس قبرستان سے منسلک ہوگیا تھا جو لانڈھی کے قریب واقع ہے ،جہاں یہ جام مرید کی قبر پر کندہ کیا ہوا ہے ،اُن کے خیال کے مطابق چوکُنڈی کا لفظ اس علاقے کا نام ہے اور کسی ہندسی شکل سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، ہوسکتا ہے کی کسی زمانے میں یہ لفظ اُس طرزِ تعمیر کو کہتے ہوں جو یہاں پایا جاتا ہے ،اور بعد میں اِس جگہ کا نام ہی چوکُنڈی ہوگیا۔

بروہی صاحب کے مطابق، چوکُنڈی ایک گنبد نما چھت کو کہتے ہیں ،جسے چھتری بھی کہا جاتا ہے جو چار یا آٹھ عمودوں پر ٹکی ہوئی ہو مگر ایسی عمارت ہر طرف سے کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ کلیم لاشاری مطابق، قبر جام مرید پر یہ لفظ ’’ صاحبِ چوکُنڈی‘‘ کے معنی میں لکھا گیا ہے جیسے ’’ صاحبِ جائیداد‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔یعنی ’’چوکُنڈی اُس کی قبر پر تعمیر کی گئی‘‘۔ وہ اپنی اِس دلیل کے لیے گوٹھ راج ملک کی قبر کی مثال پیش کرتے ہیں جس پر اُسی طرح لکھا ہوا ہے جیسے جام مرید کی قبر پر ۔

لہٰذا وہ یہ لفظ کسی مقام کا نام ہونے کے مخالف ہیں۔ ڈاکٹر بلوچ نے بھی چوکُنڈی کے لفظ سے بحث کی ہے،یہ چار دیواروں سے گِھری ہوئی جگہ کو کہتے ہیں جو اوپر سے کھلی ہوئی ہو ،اور ایسا سندھ کی ثقافت میں پایا جاتا ہے، لہٰذا چوکُنڈی کا لفظ قبر یا مزار کے لیے نہیں بلکہ اُس عمارت کے لیے بولا جاتا ہے جو اُس کے گرد بنائی جائے۔