• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سری لنکن منیجر پریانتھا کی میت گھر پہنچنے پر بھائی نے کیا کہا؟

سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی میّت پہنچنے پر اُن کے بھائی نے سری لنکن اور پاکستانی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی کارروائی اطمینان بخش کی جائے۔

پریانتھا کمارا کی میّت اُن کے گھر پہنچنے پر اُن کے بھائی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’واقعے کی شروعات میں ہمیں سرکاری طور پر معلومات فراہم نہیں کی جا رہی تھی کہ آخر کارروائی کی جا رہی ہے یا نہیں۔‘

سری لنکن منیجر کے بھائی نے کہا کہ ’نئی معلومات سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزمان کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ ہمیں انصاف ضرور ملے گا۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’میری سری لنکن اور پاکستانی حکومت سے اپیل ہے کہ جو کچھ بھی کارروائی کی جائے وہ اطمینان بخش ہو۔‘

پریانتھا کے بھائی نے کہا کہ ’اس کے علاوہ ہمیں آگاہ رکھا جائے کہ کارروائی میں کیا ہورہا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے۔‘

اُنہوں نے مزید کہا کہ ’کارروائی کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی ہم یہ کہہ سکیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اطمینان بخش ہے۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگا دی تھی۔

مشتعل افراد کا مبینہ دعویٰ تھا کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

پریانتھا کمارا قتل کیس میں ملوث مزید 40 ملزمان کی شناخت ہو گئی، ملزمان کو مختلف ویڈیوز کی مدد سے شناخت کیا گیا۔

خاص رپورٹ سے مزید