• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیالکوٹ میں پیش آنے والے وحشت ناک اور بے رحم واقعے نے سوشل میڈیا صارفین کو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالب علم مشال خان کے قتل کی یاد دلا دی۔

گزشتہ روز صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ایک نجی فیکٹری کے ورکرز نے توہینِ مذہب کے نام پر اپنی ہی فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کو بے رحمی سے قتل کر کے لاش کو جلا دیا تھا۔

اس افسوس ناک واقعے کے بعد سے سوشل میڈیا پر سفاک مجرمان کے خلاف شدید ردِ عمل دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پاکستانی عوام 2017ء میں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کے واقعے کو بھی یاد کر رہے ہیں۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اس وقت ہیش ٹیگ ’مشال خان‘ ٹاپ ٹرینڈ ہے جہاں صارفین اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے اپنا ردِ عمل دے رہے ہیں۔

ایک صارف نے کہا کہ ’انتہا پسندی کی پرورش نے آپ کا سماجی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے، سری لنکا کے منیجر کا قتل کوئی چونکا دینے والا واقعہ نہیں ہے کیونکہ یہ اس سے پہلے بھی کئی بار ہوا ہے۔‘

صارف نے طالب علم مشال خان کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’مشال خان کے قاتل ابھی تک آزاد ہیں۔‘

ایک صارف نے کہا کہ ’ہم مذہب، فرقہ واریت، غیرت کے نام پر قتل، طبقاتی شعور کے قتل کے بارے میں بات کرتے ہیں، ہم انسانیت کی بات کب کریں گے؟‘

صارف نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’براہِ کرم پہلے انسان بنو پھر جو چاہو، یہ معاشرہ کتنے مشال خان کو مارے گا؟‘

جعفر خان نامی صارف نے کہا کہ ’جب ریاست مذہبی جنونیوں کے سامنے بے بس ہو اور مذہب کو سیاسی اور ذاتی معاملات طے کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جائے تو ایسی بربریت آسانی سے ہو جاتی ہے۔‘

صارف نے کہا کہ ’کل مشال خان کا شکار ہوا، آج سری لنکن منیجر کا اور کل کوئی ہم میں سے بھی ہو سکتا ہے۔‘

کشف نامی صارف نے کہا کہ ’چار سال پہلے مشال خان تھا، آج سری لنکا کا آدمی تھا اور کل یہ ہم میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے، یہ ہجوم اور یہ ذہنیت کسی کو نہیں بخشے گی، یہ صرف آغاز ہے۔‘

واضح رہے کہ 2017ء میں 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو طلباء کے مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کا الزام لگا کر تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔

کیس کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، جس میں یونیورسٹی ملازمین بھی ملوث تھے، مشال اور اس کے ساتھیوں کے خلاف توہین رسالت یا مذہب کے شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک مخصوص سیاسی گروہ کو مشال کی سرگرمیوں سے خطرہ تھا جبکہ مشال خان یونیورسٹی میں بے ضابطگيوں کے خلاف بھی کھل کر بات کرتا تھا جس کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ اس سے خوفزدہ تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگادی تھی۔

مشتعل افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

خاص رپورٹ سے مزید