• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزادی کے بعد پچیس سال کے اندر ہی پاکستان کا دو حصوں میں تقسیم ہوجانا ایک غیر معمولی واقعہ تھا ۔ اس سانحہ سے دونوں حصوں میں تقسیم ہونے والے افراد متاثر ہوئے، خواہ انکا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبہ سے رہا ہو۔ ادب پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ اس سانحہ پر ادیبوں اور شاعروں نے کیا کردار اد کیا اس کے اثرات کو کس طرح لیا اور اپنی تحریروں سے حقائق پیش کیے یا پھر صرف ادبی ضروریات کو پورا کیا۔ کئی ادیب ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس سانحہ کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ وہ خود ا س سانحہ سے براہ راست متاثر ہوئے۔ 

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حوالے سے اردو ادب میں کیا اور کتنا کام ہوا ہے۔ ناول نگاروں نے ۱۹۴۷ ء سے ۱۹۷۱ ء تک رونما ہونے والے حالات و واقعات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ پڑھنے والے کو یہ سانحہ ایک تسلل اور کسی منصوبہ بندی کا حصہ نظر آتا ہے ۔ بعض ناول نگاروں نے سقوط ڈھاکہ کے رونما ہونے میں لسانی مسئلہ کو بھی موضوع بحث بنایا کہ زبان کے مسئلے پر شروع ہونے والی بحث کا اختتام دو الگ الگ مملکتوں کی صورت میں سامنے آیا ۔ جبکہ زبان کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا جو آپس میں بیٹھ کر حل نہ کیا جاسکتا ہو ۔

ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں دونوں نے اس سانحہ کے پس منظر میں قیام پاکستان اور اسکے بعد بدلتے ہوئے حالات کوپیش کیا۔ سانحہ کے پس منظر میں لکھے گئے زیادہ تر ناول اور افسانے المناک انجام پر ہی اختتام پزیر ہوئے مگر بعض افسانوں میں اس سانحہ کے فوری بعد رونما ہونے والے حالات کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان میں ہجرت در ہجرت کا کرب ، بے وطنی کا طعنہ ، غدار وطن اور گمنامی کی زندگی کا اظہار نظر آتا ہے۔ 

اس سانحہ کی وجہ سے کتنے لوگوں کو ہجرت کے کرب سے دو سری بار گزرنا پڑا ، کتنے لوگ بے سرو سامان ہوئے کتنی زندگیا ں تباہ و برباد ہوئیں ، مائوں بہنوں کی عزتوں کو پامال کیا گیا ۔ اور وہ لوگ جو ابھی پہلی ہجرت کے زخموں سے چور چور تھے ابھی انکے پرانے زخم بھر بھی نہ پائے تھے کہ انھیں ایک بار پھر نئے زخم سہنا پڑے جن لوگوں نے پہلی ہجرت کے سبب اپنے پیاروں کو اپنے سامنے کٹتے مرتے دیکھا اور جو لوگ اپنی عزتیں اور اپنی جانیں بچا کر اپنی منزل پر پہنچے ہی تھے کہ ایک بار پھر اپنی جانوں کا نذرانہ دینا پڑا۔

ناولو ں کا ذکر کریں تو رضیہ فصیح کا ناول’ صدیوں کی زنجیر ‘‘ جس میں انہوں نے ایک ساتھ رہنے والے اور آپس میں زنجیر کی طرح جڑے ہوئے لوگوں کا ذکر کیا لیکن جب ان کے درمیان تنازعات پیدا ہوئے تو وہ کس طرح بکھر گئے اور ایک دو سرے سے جدا ہوگئے اور کل کے دوست آج ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ اسی طرح سلمی اعوان اپنے ناول ’’ تنہا ‘‘ میں ان حادثات و واقعات کی نشاندہی کرتی ہیں جس کی وجہ سے ملک ٹوٹنے کی نوبت آئی اسی کے ساتھ ساتھ وہ بنگالیوں کی اس جد وجہد کا بھی ذکر کرتی ہیں جو انہوں نے قیام پاکستان کے وقت کی تھیں۔ 

انتظار حسین کا ناول ’’ بستی ‘‘ میں بھی قیام پاکستان سے لے کر سانحہ مشرقی پاکستان کے ان حالات و اقعات کا تذکرہ نظر آئے گا جو پاکستان کے قیام اور اسکے دو لخت ہونے کا موجب بنے۔ ان ناول نگاروں نے بحرانوں کے ساتھ ساتھ انسانی رویوں کا بھی بغور مطالعہ کیا کہ کس طرح سے رویوں نے اس سانحہ پر اپنے اثرات مرتب کئے۔ الطاف فاطمہ نے اپنے ناول ’’ چلتا مسافر ‘‘ میں اس سا نحہ کے بہت ہی اہم کردار بہاریوں کے حوالے سے لکھا ہے جسے ہمارے ادیبوں نے بہت کم اپنی تحریروں کا حصہ بنایا ہے۔ 

کرنل ریٹائرڈ رئوف ظفر نے اپنے ناول ’’ ماتم شہر آرزو ‘‘ اور طارق اسما عیل ساگر نے ’’ کمانڈو ‘‘ اور ’’ لہو کا سفر ‘‘ میں جنگ کے حالات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا اور جنگ کے دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیا ۔ جبکہ طارق اسماعیل ساگر نے اپنے ناول ’’ وطن کی مٹی گواہ رہنا ‘‘ میں ایک جاسوس کی کہانی پیش کی ہے جو پاکستانی ہے اور بھارت میں جاسوسی کے لئے داخل ہوتا ہے۔ جیون خان کا ناول ’’ دیپتی ‘‘ اور طارق محمود کا ناول ’’ اللہ میگھ دے ‘‘ دونو ں ناول نگاروں نے بنگلہ دیش کے آخری ایام کے جو اثرات انسانی نفسیات پر پڑے ان کا گہرا مطالعہ پیش کیا ہے۔

قرۃ العین حیدر نے اپنے ناول ’’ آخر شب کے ہم سفر ‘‘ میں ان حالات و واقعات کا جائزہ پیش کیا جو سانحہ مشرقی پاکستان کا سبب بنے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنگ آزادی سے لیکر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کا احوال بھی پیش کیا ۔ ان ناولوں میں بحرانوں کی ایک تاریخ بھی دکھائی دیتی ہے، ان میں فوج کے کردار کو بھی سرا ہا گیا ہے کہ کس طرح فوج نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مختصر یہ کہ ناول نگاروں نے تمام حالات و واقعات کو کہیں اختصار اور کہیں مفصل پیش کرکے ہر پہلو کو قاری کے سامنے رکھ دیا ۔

کوئی بھی ادیب جب کسی حادثے یا واقعہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتا ہے تو وہ صرف اس حادثے اور واقعہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اس کے ہر پہلو کو مختلف زاویوں سے پرکھ کر قلم بند کرتا ہے، تاکہ قاری حقیقت سے آگاہ ہو اور اس کے ذہن میں کوئی ایسا سوال نہ آئے جس کا جواب اسکو تحریر میں نہ مل سکے۔ ناول نگاروں نے صرف حالات و واقعات اور تواریخ کو ہی اہمیت نہیں دی بلکہ جاندار کرداروں کو پیش کیا تاکہ جذبات کا اظہار کھل کر ہو سکے ان کرداروں کی وجہ سے سانحہ کے حالات و واقعات نے حقیقت کا روپ دھارا اور یوں پوری کہانی ایک حقیقت بن گئی ۔گر چہ اس موضوع پر لکھے گئے ناولوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں مگر مختصر تعداد نے بھی سانحے کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا۔

بعض افسانہ نگاروں نے اپنی تحریروں کے ذریعے قبل از وقت ا س سانحہ کی نشاندہی کر دی تھی۔ جیسا کہ غلام محمد کا افسانہ ’’ ایک سہما ہوا شخص‘‘ اور آغا سہیل کا ’’ پرچم ‘‘ ان میں اس سانحہ کے خدشات کی عکاسی واضع نظر آتی ہے۔ انتظار حسین افسانہ نگاری کے حوالے سے ایک معتبر اور بڑا نام ہے ان کا پسندیدہ موضوع بھی ہجرت اور وطن سے دوری ہے۔ انہوں نے اس موضوع اور پس منظر میں کئی افسانے تحریر کئے جن میں ’’ اسیر ‘‘ ،’’ صبح کے خوش نصیب ‘‘ ، ’’ بے سبب‘‘ ، ’’ کشتی ‘‘ ، ’’ نیند ‘‘ ، ’’ شہر افسوس‘‘ ، وہ جو کھو ئے گئے ‘‘ ، اور ’’ وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے ‘‘ بہت مشہور ہیں ۔ان افسانوں میں انتظار حسین نے جلا وطنی ، ہجرت کا کرب ، عقل و شعور سے عاری لوگوں ، مفاد پرست ٹولہ، وغیرہ جیسے پہلوئوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔احمد سعدی بنگلہ دیش کے مایہ ناز افسانہ نگار رہے ہیں۔ خاص طور پر ۷۱ کے بعد پناہ گزینوں کے کیمپوں کے ابتر حالات کو نہایت جذباتی انداز میں ہیش کیا ہے ۔ 

ان کے افسانوں میں ’’ درد کا رشتہ ‘‘ ، ’’ پہلا آدمی ‘‘ ، ’’ تیسرا دن ‘‘ ،’’ بے زبان ‘‘ ، ’’ چہرہ ‘‘ ، مٹی کی خوشبو ‘‘ ، ’’ پھول اور پتھر ‘‘ ، ’’ غبار شب ‘‘ ، ’’ سمجھوتہ ‘‘ ، ’’ آبلہ پا ‘‘ ، ’’ زخمی پرندوں کا سفر ‘‘ یہ تمام افسانے اپنی مثا ل آپ ہیں ۔ شبنم یزدانی کے افسانوں میں ظلم و استحصال ، نا انصافی مفاد پرست اور منافق لوگوں کے خلاف صدا بلند نظر آتی ہے ۔ ان کے مشہور افسانے ’’ پنڈولم ‘‘ ، ’’روح کی چنگاری ‘‘ ، اور صلیب بردوش ‘‘ ہیں ۔س۔م ساجد نے سانحہ ۱۹۷۱ء کوبھی ایک نئے انداز میں پیش کیا۔

انکے مشہور افسانے ’’ کہانی کا قتل ‘‘ ،’’ معمولی سی بات ‘‘ ، ’’ بوڑھی آنکھیں ‘‘ ہیں۔شہناز پروین کا افسانہ ’’ بجھتے چراغ ‘‘ کا موضوع کیمپ اور کیمپ میں رہنے والوں کی زندگی ہے کہ کس طرح یہ لوگ کیمپ میں اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ان کا ایک اور افسانہ ’’ رنگ محل ‘‘ ایک علامتی افسانہ ہے جس میں سانحہ بنگال کوعلامتی جہت میں پیش کیا گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ ان کے افسانے ’’مالک ‘‘ اور’’ مکتی ‘‘ اس حوالے سے بہت مشہور افسانے ہیں۔شاہد کامرانی کے افسانوی مجموعہ ’’ بے انت سفر ‘‘ کی تقریباًً تمام ہی کہانیاں سانحہ بنگال کے پس منظر میں لکھی گئیں ہیں ۔ افسانہ ’’ سنگم سے سنگم تک ‘‘ میں دوسری ہجرت کی المناکیوں کا ذکر ہے، جبکہ افسانہ ’’ پھر ترا دیدئہ تر ‘‘ میں دوسری ہجرت کے باعث نئے شہر کی اجنبیت کی سنگینی اور لوگوں کی بے حسی کا تذکرہ ہے ۔ 

اس کے علاوہ انکے افسانے ’’ اشلوک ‘‘ ، ساتویں پل سے پرے ‘‘ ، سچے جھوٹے آئینے ‘‘ ، بے انت سفر ‘‘، ’’ سکل بن پھول رہی سرسوں ‘‘ ، ’’دسمبر کی سردیوں میں ایک موت‘‘ ، ’’ آخری کڑی ‘‘ ، ’’وہ جواپنے تھے ‘‘ قابل ذکر افسانے ہیں جس میں کیمپوں کی اذیت ناک زندگی کا ذکر بھی ہے اور بنگال کی زمین کے حسن اور اور اس سے محبت کا احساس بھی ہے۔ 

جمیل عثمان نے ’’ جلا وطن ‘‘ میں ۲۶ سال گذرنے کے باوجود ان دل خراش یادوں کو تازہ کیا جو ۱۹۷۱ء میں ہونے والے سانحہ کے نتیجے میں لوگوں کے دلوں میں خا موش ضرور تھیں مگر فراموش نہیں ہوئی تھیں۔ سقو ط ڈھاکہ کے پورے پس منظر کو اس طرح پیش کیا کہ نیا قاری بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔ شہزاد منظر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں اور اس پس منظر میں ان کی تخلیقات خود بولتی ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ خود اس سانحہ کے متاثرین میں شامل ہیں ۔ انکے افسانوی مجموعہ ’’ ندیا کہاں ہے تیرا دیس ‘‘ میں یو ٹو پیا ، تیسرا وطن ، اجنبی ، رات کے پچھلے پہر ، دشمن ، پچھتاوا ، اور اب ہم کہاں جائیں گے ماں ، شامل ہیں۔ ان کے افسانوں میں دوسری ہجرت کا کرب ، نئی مٹی کی اجنبیت ، غیروں جیسا سلوک ، اور ہجرت کے سبب ہونے والی بردبادی کے قصے شامل ہیں ۔ 

احمد زین الدین کے افسانے درد کی چاندنی ، نورا ، مجذوب کی بڑ ، پالا ، آرزوئوں کا ایک ویرانہ ، تیرگی کے دھاگے ، ٹیکاسو کے پھول ، زندگی کے ساز پر، ان کہانیوں کا مطالعہ کریں تو تمام کہانیاں مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے سانحہ کا پس منظر لئے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ ذاکر عزیزی کے افسانے انتظار ، دھند ، صحرا میں پھول ، چراغ تلے ، تیس دن تیس راتیں یہ وہ افسانے ہیں جو بنگال میں کھیلے گئے خونی رقص پر مشتمل ہیں ۔ نعیم آروی کا افسانہ گودھرا کیمپ اور ام عمارہ کے افسانے یہ گناہ بے گناہی ، کس نے کس کو اپنایا ، امرلتا ، وہ خود بھی اس وقوعہ سے براہ راست متاثر تھیں اس لئے انکے افسانوں میں شدت زیادہ دیکھا ئی دیتی ہے۔ 

مسعود مفتی اردو افسانے کا ایک بہت بڑا نام ہے انہوں نے بھی اس سانحہ پرافسانے قلم بند کئے ہیں ۔ جس میں ہم نفس ، امید ، کفارہ ، تشنگی ، نیند، ناگفتی ، یہ وہ افسانے ہیں جس میں انہوں نے انسان کے بدلتے چہرے ، نسلی و مذہبی منافرت ، جنگی قیدیوں کے ساتھ بد ترین غیر انسانی سلوک کی تفصیل اور اسی طرح کے دوسرے موضوعات زیر بحث ہیں۔ مسعود اشعر وہ افسانہ نگار ہیں جو انسان کے اندر پیدا ہونے والے انتشار کو بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں انکے افسانے ڈاب اور بیئر کی بوتلیں ، آنکھوں پر دونوں ہاتھ، بیلا نائی رے جو لدی لدی ، اور اپنی اپنی سچائیاں، دکھ جو مٹی نے دئیے ، ان سب میں مسعود اشعر نے بنگال میں ہونے والی بغاوت ، بنگال کے ما حول کی عکاسی اور ۱۹۷۱ء کے انقلاب کے پس منظر کو بہترین عکاسی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

مختصر یہ کہ ہمارے بعض ادیبوں نے اس سانحہ کو طویل تاریخی منظر میں پیش کیا ہے۔انہوں نے سانحہ کو ۱۹۴۷ ء سے ۱۹۷۱ ء تک کے حالات و واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی جبکہ بعض ادیبوں نے سانحہ کے حوالے سے ۱۹۴۷ ء تا ۱۹۷۱ء تک کے حالات و واقعات نہایت اختصار کے ساتھ پیش کئے ہیں اور بعض ادیبوں نے سانحہ کو تاریخی و سیاسی مسئلہ قرار دیا ۔غرض یہ کہ ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں نے اس سانحہ کے نتیجے میں ہونے والی ہجرت اور اس کے نتیجے میں انسانی اذیتوں کا کھل کر اظہار کیا ہجرت در ہجرت کے کرب کو بیان کیا ۔ ظلم و ستم اور ان کے کیمپوں کی درد ناک صورتحال کو نہایت تکلیف دہ جذبات کے ساتھ بیان کیا۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔ 

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی