• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سدا بہار اور دِلوں پر راج کرنے والی اداکارہ ’’بابرہ شریف‘‘

سنہرا رنگ، گلاب جیسے چہرے والی ایک مہ جبین خوب صورت لڑکی نے جب 1970ء کے اوائل میں ٹی وی کے ایک واشنگ پائوڈر کے ایڈ میں پہلی بار جلوہ افروز ہوئی تو ہر طرف اس لڑکی کے چرچے عام ہوگئے۔ اس اشتہار میں اس کے چہرے پر گہری کالی سیاہ بل کھاتی ہوئی لٹ نے اس نوخیز ماڈل کے حسن و جمال کو ناطرین کی توجہ کا مرکز بنا دیا، خاص طور اس دور کی نوجوان لڑکیوں نے اس کی لَٹ کو بہ طور فیشن اپنایا۔ 

یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نئی ماڈل کو پہلے ہی اشتہار سے یہ مقام ملا کہ وہ ایک رول ماڈل کے طور پر سامنے آئی، راتوں رات یہ ماڈل شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ ٹی وی اور شوبزنس کے لوگوں نے اس ماڈل کو اسٹار بنانے کے لیے اسے اپنے ڈراموں، فلموں اور اشتہارات کے معاہدے کرنے کے لیے رابطے کیے۔ ماڈلنگ کی دُنیا کی یہ سپر اسٹار ٹی وی کے کئی ڈراموں میں اپنی اداکاری سے لوگوں کو متاثر کرنے کے بعد جب فلم میں آئیں، تو اپنی پہلی ہی فلم سے کام یابی کےاوج ثریا تک پہنچ گئیں۔ 

کراچی سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کرنے والی اس مایہ ناز اداکارہ کو فلم کے لیے سب سے پہلے فلم ساز و ہدایت کار نذیر صُوفی نے اپنی فلم ’’ایک اور ایک گیارہ‘‘ میں بہ طور ہیروئن کاسٹ کیا۔ اس فلم کی شوٹنگ 1973ء میں کراچی کے ایسٹرن اسٹوڈیو میں شروع ہوئی اور نامکمل ہونے کی وجہ سے ریلیز نہ ہوسکی۔ اداکارہ، فلم ساز اور ہدایت کارہ شمیم آرا نے اس لڑکی کو اپنی ذاتی فلم ’’بھول‘‘ میں کاسٹ کیا، جس کے ہدایت کار ایس سلیمان تھے ، اس فلم کے لیے بابرہ شریف لاہور گئیں، سینئر کیمرہ مین علی جان نے اس فلم کیلئےکے لیے ان کا پہلا سین فلم بند کیا۔ 

زرد رنگ کے سوٹ میں ملبوس جب بابرہ فلم کی شوٹنگ کے لیے پہنچیں، سیٹ پر منور ظریف موجود تھے۔ بابرہ شریف کو دیکھتے ہی برجستہ کہا۔ ’’اے زردے دی پلیٹ کتھوں آئی اے‘‘ یہ سُن کر وہ نروس ہوگئیں اور رونے لگیں۔ علی جان اور ایس سلیمان نے انہیں سمجھایا اور پھر پہلا سین منور ظریف کے ساتھ بھرپور اعتماد کے ساتھ فلم بند کروا کر پورے یونٹ کو بے حد متاثر کیا۔ ’’بُھول‘‘ کی تکمیل کے دوران میں ایس سلیمان نے انہیں اپنی فلم ’’انتظار‘‘ میں ندیم، شبنم اور ممتاز کے ساتھ کاسٹ کیا، جو ان کی پہلی ریلیز ہونے والی فلم کہلائی۔ یہ فلم 9؍اگست 1974ء کو کراچی کے بمبینو سنیما میں ریلیز ہوئی اور بے حد کام یاب رہی۔

1975ء میں نمائش پذیر ہونے والی بلاک بسٹر رومانی، نغماتی فلم ’’میرا نام ہے محبت‘‘ جس میں وہ پہلی بار ہیروئن کے کردار میں آئیں اور اپنی کردارنگاری کا ایسا عکس چھوڑ گئیں کہ جس کے تمام رنگ آج بھی روزاول کی طرح تازہ ہیں۔ ایک محبت کرنے والی معصوم لڑکی ’’روشی‘‘ کا کردار جو محبت، قربانی اور احساس کے تمام جذبات سے مزین تھا اور اس کردار کے تمام تقاضوں کو انہوں نے بہ حُسن و خوبی اور احسن طریقے سے پورے کیے، اس کی نظیر برصغیر کی فلمی تاریخ کے چند کرداروں میں ملتی ہے، جس میں ’’میرا نام ہے محبت‘‘ کی ’’روشی‘‘ کا کردار میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 

اس کردار میں انہوں نے حزن و ملال کی عکاسی، جذبات اور انسانی رشتوں کی جو ترجمانی کی ہے، اپنے مکالموں کی ادائیگی، آنکھوں اور چہرے کے تاثرات کو جس انداز میں اسکرین پر پیش کیے ہیں، اس کی تشریح اور مفہوم کے لیے لفظ اور جملے شاید قلم سے نہ لکھے جائیں، ایک ایسا کردار جسے دیکھنے والی آنکھیں، سُننے والی سماعتیں اور ذہن و دماغ صرف محسوس کرسکتا۔ پڑوسی ملک چین میں اس فلم کی نمائش چینی زبان میں جب کی گئی تو، وہاں کی عوام نے ایک طویل عرصے تک اس فلم کی پزیرائی میں وہاں سنیما گھروں میں لگاتار کئی برس اس فلم کو دیکھا اور پسند کیا، وہاں کی نوجوان نسل خاص طور پر فلم کی ہیروئن روشی اور ہیرو حامد کے کرداروں سے بے حد متاثر ہوئی۔ 

ان کرداروں کو انہوں نے زبردست خراج تحسین پیش کرکے کہا اس فلم کو دیکھتے ہوئے ہماری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑے اور ہمارے دلوں کے گداز کا وہی عالم تھا، جو فلم کے ہیرو حامد اور ہیروئن روشی کا تھا۔ ان دونوں کے درمیان محبت کے بھرپور جذبات نے ہمارے ذہنوں پر گہرا نقش چھوڑا ہے، ہمیں اس فلم کے ذریعے پتا چلا کہ پاکستانی نوجوان نسل کس قدر پاکیزہ محبت کرتی ہے، اس فلم کو دیکھ کر ہمیں فخر ہوا کہ دُنیا میں اس طرح کی سادہ اور پُر اثر فلمیں بھی بنتی ہیں۔

بابرہ، شوبز اور فلمی صنعت کا ایک ایسا نام اور آئیکون ہے، جس نے اپنی فن کارانہ صلاحیتوں، عجز و انکساری کی بناء پر ایک خاص مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت وَقار و نفاست کا مظہر، بے حد اعلیٰ ذوق، مرصع حسین انداز، دیدہ زیب پہناوا اور اندازتکلم اور سحری انگیزی جیسے لفظوں کی تشریح ہے۔ اپنی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے آج بھی وہ ایک وراسٹائل ماڈل اور اداکارہ کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔ وہ ماضی میں بھی شوبز کی دنیا پر حکم رانی کرتی رہیں، آج بھی اس تخت شہرت پر بڑی عقیدت و وقار کے ساتھ براجمان ہیں، انہیں نہ کل نہ آج کسی ابھرتی ہوئی اداکارہ اور ماڈل سے خطرہ تھا نہ ہے۔

انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں کبھی بھی اپنی ہم عصر اور ہم پیشہ ایکٹریس اور ماڈلز کے لیے نہ سازشوں کے جال بنے نہ ہی کسی کو نیچا گرانے کی فکر کی صرف پنے کام کی طرف توجہ دی۔ کبھی سطحی اور سستی شہرت کے لیے نہ کوئی لابیز بنائی نہ ہی کوئی پی آر بنائی۔ اس فیلڈ میں انہوں نے ہرعام و خاص میں اپنی شخصیت اور احترام کا ایک ایسا اثر چھوڑا ، جو آج بھی ان کے نام سے وابستہ ہے فنی لحاظ سے وہ اپنے چھوٹے قد کے باوجود کئی سروقد ہیروئنز کے مقابل قدآور نظر آتی ہیں۔ دنیائے فلم کے عظیم اداکار دلیپ کمار جن کی شخصیت اور فن پر کوئی کلام نہیں، ایک عالم ان کا دیوانہ ہے، لیکن یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وہ خود بابرہ شریف کے فن کے بارے میں ایک موقع پر انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا۔ 

جب انہیں ایک بھارتی فلم ساز نے اپنی فلم ’’راستہ‘‘ میں کام کرنے کی آفر کی تو دلیپ صاحب نے اپنے کردار کو ڈسکس کرنے کے بعد یہ شرط عائد کردی کہ اس فلم میں جو میری بیوی کا کردار ہے، وہ اگر پاکستان کی اداکارہ بابرہ شریف کرنے کے لیے رضامند ہو جائے تو میں کام کرنے کو تیار ہوں۔ فنِ اداکاری کی اکیڈمی جس کے بارے میں یہ بات کہہ دے پھر کوئی اور مثال کیا دی جاسکتی ہے۔ بابرہ کو یہ عزت و توقیر ان کی انکساری، سچائی اور سینئر کی عزت و احترام کی وجہ سے قدرت نے عنایت فرمائی۔ فلمی صنعت کے ایک سینئر اور معمر ترین ٹیکنیشن مسٹر دتہ جو پاکستانی فلمی صنعت کے ابتدائی دور سے بہ طور الیکٹریشن نگار خانوں میں خدمت پر مامور تھے، ایک مرتبہ انہوں نے کہا۔ 

پاکستان اور بھارت میں مجھے کام کرنے کا موقع ملا، صبیحہ خانم سے لے کر اداکارہ صائمہ تک میں ہیروئنز کے لیے سیٹ پر روشنیوں کا اہتمام کیا۔ ایک طویل عرصہ فلمی صنعت میں گزارا، بابرہ شریف جیسی بااخلاق، ملن سار، باادب اور انسانی ہمدردی سے سرشار اداکارہ میں نے نہیں دیکھی، جب دتہ صاحب کے یہ خیالات اور جذبات بابرہ شریف تک کسی نے پہنچائے تو وہ خود چل کر ان کے پاس گئیں اور انتہائی ادب سے انہوں نے دتہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں آپ کی بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے مجھ ناچیز کو اس قابل سمجھا۔

فلم، ٹی وی، ماڈلنگ و فیشن کی دُنیا میں ان کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ فیشن کے ہائی کلاس میگزین، مقامی اور انٹرنیشنل سطح پر شائع ہونے والے میگزین کے سرورق اور اندرونی صفحات بابرہ کے خوشنما اور گریس فل چہرے سے اکثر مزین ہوتے ہیں۔ ان کی چمکدار فریش اسکن، کاسمو پولیٹن، اٹالین، میگزینز کی ہمیشہ ضرورت بنی رہیں، جس کی مثال انٹرنیشنل لکس کی پچاس سالہ جشن کی وہ تقریب تھی، جس میں جب بابرہ کی شرکت ہوئی تو، لوگ دیکھ کر انہیں دنگ رہ گئے تھے۔ وہ اس محفل اور فنکشن کی کوئن معلوم ہورہی تھیں۔ 

اس تقریب میں موجودہ دور کی ٹاپ ماڈلز کی موجودگی کے باوجود وہ سب سے نمایاں نظر آئیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ستاروں کے جھرمٹ میں کوئی چاند اتر آیا ہو بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ بہت سی نامور اور جونیئر ماڈلز میک اپ اور لباس کے معاملے میں ان سے رہنمائی لیتی ہیں۔ وہ ایک بڑی آرٹسٹ ہونے کے ناتے ان کے ساتھ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتی ہیں، بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ ٹی وی یا فلم میں کسی آرٹسٹ کی اداکاری سے وہ متاثر ہوئیں تو کسی ملاقات کے دوران دل سے ان کے فن اداکاری کی تعریفیں کرتیں اور ان کے کام کو سراہانے میں کبھی بخل سے کام نہ لیا۔ فلموں اور ماڈلنگ میں یا فوٹو سیشن میں ان کے لباس اور دیگر سامان کا انتخاب کرتے وقت وہ بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام شوٹ اپنے معیار کی وجہ سے مقبول ہوئے۔

بابرہ شریف کے فنی کیریئر پر آج تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس لیے اس عہدساز فن کارہ کے بارے میں ان کے فلمی کرداروں اور باربار لکھی گئیں باتوں سے ہٹ کراس تحریرمیں ان باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جو ان کی شخصیت کا یا فن کا خاصا ہونے کے ساتھ حاصل مطالعہ بھی ہیں۔ اپنے فنی کیریئر میں انہوں نے سنجیدہ، کامیڈی، رومانی، ایکشن، ڈرامائی، ہر طرح کے کرداروں کو سلیقے اور قرینہ سے ادا کیے۔ 

پاکستان کے سب سے کم عمر ہیرو اشعر کے ساتھ فلم ’’آگ‘‘ میں جہاں لوگوں نے پسند کیا، تو وہاں سینئر اداکار محمد علی کے ساتھ انہیں فلم ’’نشیمن‘‘ میں کام یابی کی سند ملی۔ ایسی مثال کسی اور ہیروئن کے کیریئر میں ہمیں تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتی، جس دور میں انہوں نے فلموں میں اداکاری کا آغاز کیا، تو اس وقت زیبا، رانی، شبنم، دیبا اور ممتاز کاعروج تھا۔ 

بابرہ نے اپنی کردار نگاری سے بہت جلد اپنی ایک علیحدہ شناخت بنا کر صفِ اول کی ہیروئنز میں اپنا شمار کروایا۔ وقت گزرتا رہا، چہرے بدلتے رہے۔ انجمن، نیلی، نادرہ، ریما، گوری، کویتا، مدیحہ شاہ اور چند غیر ملکی اداکارائیں پاکستانی اسکرین پر نظر آئیں، لیکن ان تمام چہروں میں بابرہ کا چہرہ نمایاں اور ممتاز رہا۔ اس مقام تک پہنچنے میں ان کی اپنی حکمت عملی شامل تھی۔ انہوں نے اس بات کی کبھی پروا نہ کی کہ کون آیا، کون گیا، نہ ہی کبھی کسی سے مقابلے کی دوڑ لگائی اپنے آپ کو نمبرون اور سطحی قسم کے خطابات سے دور رکھا۔ 

فلمی صنعت میں آنے سے قبل ان کے نام کے ساتھ سپر ماڈل کی شہرت سے قدرت نے انہیں نوازا ہوا تھا، بہت جلد انہوں نے اپنی عمدہ، طربیہ، المیہ اداکاری سے سپر اسٹار کا لقب اپنے نام کیا اور اپنے آپ کو ایک نابغہ روزگار اداکارہ کے طور پر تسلیم کروایا۔ ان کے سراپا اور زلفوں کا سحر سنیما اسکرین پر کچھ اس طرح سے پھیلا کہ معروف فلمی شاعر تسلیم فاضلی نے ان کی زلفوں کے حوالے سے یہ بہت ہی خُوب صورت گیت لکھتے ہوئے کہا؎

’’جب چمن میں بہاریں آتی ہیں،تیری زلفوں کی بات ہوتی ہے،یہ جو بکھرے سارے عالم میں، خوشبو کی بارات ہوتی ہے‘‘

147؍ریلیز شدہ فلموں میں اپنی سحر انگیز اداکاری سے سلور اسکرین پر فلم بینوں کو متاثر کرنے والی بابرہ نے اپنی ایک ذاتی فلم ’’کشمیر کی بیٹی‘‘ کے نام سے شروع کی تھی، یہ غالباً 1988ء کی بات ہے، اس فلم کی ڈائریکشن کے لیے انہوں نے اس وقت کے معروف اور کام یاب ہدایت کار حسنین کی خدمات لیں، یہ ایک بہت ہی اعلیٰ اور جرات مند موضوع پر مبنی فلم تھی۔ مگر بدقسمتی سے اس فلم کا ایک آدھ سیٹ مکمل ہونے کے بعد یہ فلم نہ بن سکی۔ لاہور کے اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں رہنے والے انسانوں سے محبت اور ان کے مسائل کو جان کر حل کرنے کا جذبہ بابرہ کی زندگی کا مقصد ہے۔ اس راہ میں وہ تن تنہا نکلتی ہیں۔ نہ کوئی کیمرہ، نہ کوئی میڈیا،ان کا مقصد صرف رب کو راضی کرنا ہے۔

پاکستان کی 74؍سالہ فلمی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ واحد اداکارہ ہیں جو تادیر عرصے تک اسکرین پر اپنی آب و تاب کے ساتھ چمکتا دمکتا نظر آنے کے ساتھ اپنی عمر سے کم نظر آتا رہا، بلاشبہ وہ ایک ایسی اداکارہ ہیں، جس نے اپنے نقش ثانی کو نقش اول سے کہیں زیادہ بہتر انداز سے ثبت کرنے کی کوشش کی۔ وہ اس کوشش میں بڑی حد تک کام یاب بھی رہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید