• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ن لیگ اور پی ٹی آئی کی موجودگی میں پیپلز پارٹی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہے؟

وزیر اعظم عمران خان سمیت حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے دوروں کے باعث لاہور میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معرکہ سر کرنے کے لئے بڑی سیاسی و دینی جماعتوں نے ازسرنو صف بندی کیلئے ایک دوسرے سے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ وزیراعظم عمران نے سوموار کے روز صوبائی دارالحکومت کا دورہ کیا۔ گورنر ہائوس میں گورنر چودھری محمد سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات میں صوبے کی سیاسی معاشی اور انتخابی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم کو گورنر پنجاب چودھری سرور نے اپنے دورہ یورپ کی تفصیلات سےاور آب پاک اتھارٹی کے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خاں بزدار نے نئے بلدیاتی نظام، امن و امان کی صورتحال ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کے دیگر معاملات پر وزیراعظم کو بریف کیا۔ وزیراعظم عمران خاں نے اپنے دورہ لاہور کے دوران صوبائی وزراء اور پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں سے بھی ملکی سیاسی صورتحال پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ 

وزیراعظم عمران خاں کو بتایا کہ حکومت نے آپ کے ویژن کے مطابق بلدیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ بااختیار اور خودمختار جمہوری ادارے بنانے کے لئے نیا بلدیاتی نظام لانے کے لئے آرڈیننس جاری کر دیا ہے جو پنجاب اسمبلی کے رواں اجلاس سے منظور کروا لیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے وزیراعظم کو نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے پنجاب میں اپنی اتحادی جماعت کے تحفظات اور دیگر معاملات سے بھی آگاہ کیا۔ 

وزیراعظم نے بتایا کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ مجھے علم ہے کہ بلدیاتی اداروں کو سیاسی اور انتظامی اختیارات منتقل کرنے میں کون کون لوگ رکاوٹ بن رہے ہیں لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے جب بلدیاتی اداروں کے ذریعے شہریوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں گی وہ آپ کو دعائیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقابلہ کسی ایک جماعت سے نہیں بلکہ کرپٹ مافیاز کے ساتھ ہے جو ہر قدم پر حکومت کیلئے رکاوٹ بن رہے ہیں لیکن ہم عوام کی زندگی میں بہتری لا کر دم لیں گے۔ یہ مہنگائی بھی چند مہینوں میں ٹھیک کر لیں گے۔ 

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہمارے سیاسی حریفوں اور کرپٹ حکمرانوں کے اصل چہروں سے پردہ اٹھ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی احتجاجی کالوں کو عوام سنجیدہ نہیں لے رہے۔ وزیراعظم نے اعلیٰ حکومتی عہدوں کو باور کرایا کہ انہیں کرپشن کے حوالے سے شکایات ملتی ہیں لیکن میں ان کی تحقیقات کرواتا ہوں کرپشن قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی علامت ہے۔ قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے وہ کرپشن کے سدباب کے لئے فوری اقدام اٹھائیں۔ وزیراعظم نے پارٹی وزراء اور عہدیداروں کو بتایا کہ پنجاب میں نیا پاکستان صحت کارڈ ایک انقلابی قدم ثابت ہو گا ۔ 

اس پروگرام سے 3 کروڑ خاندانوں کو 10لاکھ روپے فی خاندان علاج معالجے کیلئے دیئے جائیں گے۔ وہ ریاست مدینہ کے قیام کی طرف ایک قدم ثابت ہو گا۔ اسی طرح تعلیم اور امن و امان کو مثالی بنانے کے لئے آگے بڑھیں گے۔ عوام آئندہ انتخابات میں ہمارا ساتھ دیں گے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت پندرہ روز 31 دسمبر کو ختم ہو جائے گی۔ نئے بلدیاتی نظام کے لئے صوبے میں 11میونسپل کارپوریشنوں کے میئروں، ڈپٹی میئروں اور 25 اضلاع بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کا عوام براہ راست چنائو کریں گے اور پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کا جماعتی بنیادوں پر الیکٹرنک مشینوں کے ذریعے خفیہ رائے شماری سے انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

میئر، ڈپٹی میئر اور کونسلرز کا مشترکہ پینل ہو گا اور سادہ اکثریت سے امیدوار کامیاب ہوں گے۔ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعت یا آزاد افراد پینل کی شکل میں حصہ لے سکیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب تک ہماری حکومت کمزور کو طاقتور نہیں بنا سکتی ہم اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ بلدیاتی اداروں کے ذریعے لوگوں کے 70فیصد بنیادی مسائل حل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا مجھے سب معلوم ہے کہ 40سالوں میں ماضی میں حکمرانی کرنے والوں نے ملک کو کس طرح لوٹا اور عوام کو مقروض کر دیا گیا۔ اب کرپٹ حکمرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں جس پر شرکاء نے تالیاں بجا کر وزیراعظم کو داد دی۔ 

وزیر اعظم کو پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے جو رپورٹ پیش کی گئی اس پر من و عن عمل ہونا ایک سوالیہ نشان ہے پہلے بھی 5مرتبہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کر کے بلدیاتی انتخابات کو التوا میں ڈال دیا گیا۔ سیاسی حلقوں کےمطابق اب بھی حکومت نے الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے بلدیاتی آرڈیننس جاری کیا، نئے بلدیاتی نظام کے تحت حلقہ بندیاں کرانا اورمقررہ وقت پر بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نظر نہیں آرہا، اب دیکھنا ہے کہ حکومت کا بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اگلا قدم کیا ہو گا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید