• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی ، ملک کا سب بڑا تجارتی و اقتصادی مرکز اور سرکاری خزانے کو مالی وسائل کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے باوجود کسی زمانے سے عروس البلاد اور روشنی کا شہر کہلانے والا کراچی حکومت کی بے اعتنائی کا شکار رہا، جس کے نتیجے میں شہر کے وسائل روز بروز بڑھتے گئے اور سنگین تر ہوتے چلے گئے، کراچی کے مسائل کے حل، تعمیر اور ترقی کے لئے خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں ہوسکا، آیئے 2021 کے حوالے سے ان کاموں پر نظر ڈالتے ہیں جو مختلف اداروں کی جانب سے کراچی کی بہتری ، ترقی اور خوشحالی کے لئے انجام دیئے گئے اور کراچی کے شہریوں کو بلواسطہ یا بلاواسطہ فائدہ پہنچا، زیرِ نظر مضمون میں کا تذکرہ بھی شامل ہے جس سے کراچی یا اس کے شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑا یا شہری پریشانی میں مبتلا ہوئے۔

کراچی کے انفراسٹرکچر میں کوئی نمایاں تبدیلی یا ترقیاتی کام تواتر کے ساتھ عمل میں نہیں آسکے، کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے بھی ادھورے رہے اور سن 2021ء میں کراچی اس بات کا منتظر رہا کہ وہ منصوبے جن پر کام جاری تھا انہیں مکمل کیا جائے، جن منصوبوں کا وفاقی اور صوبائی حکومت نے اعلان کیا تھا ان کا آغاز ہو۔ کراچی کے شہری منتظر رہے کہ ان کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، اسٹریٹ لائٹس، کے سی آر، گرین لائن، یلو لائن، اورنج لائن اور ریڈ لائن کے منصوبے مکمل ہوں لیکن یہ سارے کام مکمل کرنے کے اعلانات توہوتے رہے لیکن ایک بھی منصوبہ نہ تو مکمل ہوںاور نہ ہی شہری اس سے مستفید ہوئے، تاہم کوویڈ ۔19 کی ویکسی نیشن کے لئے حکومت سندھ کے موثر انتظامات نظر آئے۔پورے سال کراچی کے مختلف مقامات پر یہ سہولت مفت مہیا کی گئی۔

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خا ن 2021ء میں تین مرتبہ کراچی تشریف لائے ،16 جون 2020ء کو انہوں نے کراچی میں کورونا وائرس کی صورتحال سمیت شہر کے منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں شرکت کی ۔ 10اگست کو وزیراعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھر کراچی کا دورہ کیا اور کراچی شپ یارڈ میں شپ لفٹ اینڈ ٹرانسفر سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے، پاکستان 50 سال پہلے ترقی کے جس سفر پر گامزن تھا بدقسمتی سے بعد کے سالوں میں برقرار نہ رکھ سکا ہم نے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے ، خود انحصاری اور دوسروں پر انحصارکرنا شروع کردیا ، وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کریں گے، یہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ کراچی کے مسائل کا حل اور ترقی کے لئے وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، اسی روز وزیراعظم کے زیر صدارت کراچی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق جائزہ اجلاس بھی ہوا جس میں کے فور منصوبے ، گرین لائن اور دیگر منصوبوں پر غور و خوض کیا گیا۔

27 ستمبر کو وزیراعظم پاکستان نے کراچی سرکلر ریلوے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کی۔ کے سی آر ایک بڑا منصوبہ ہے جس کے تحت ٹرین پورے شہر سے گزرے گی اور ٹریفک کا دبائو کم ہوگا،وزیر اعظم نے کینٹ اسٹیشن پر کراچی سرکلر ریلوے کا سنگ بنیاد رکھا اور کہا کہ یہ منصوبہ صرف کراچی کے لئے نہیں بلکہ اس سے پورے ملک کو فائدہ ہوگا، انہوں یہ بھی کہا کہ انگلینڈ میں لندن، امریکہ میں نیویارک اور پاکستان کے لئے کراچی اہم شہر ہے، کراچی کی ترقی میں پورے پاکستان کی ترقی ہے، کراچی سرکلر ریلوے کا ٹریک 43 کلو میٹر طویل ہوگا، 33 اسٹیشن بنائے جائیں گے اور الیکٹرک ٹرینیں بھی چلائی جائیں گی اور یہ منصوبہ اگلے 24 ماہ میں مکمل کرنے کی خوشخبری سنائی گئی تھی، اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد یومیہ پانچ لاکھ مسافر مستفید ہوں گے اور اس پر 250 ارب روپے لاگت آئے گی۔وزیر اعظم نےمختلف اعلانات کئے لیکن کسی بھی اعلان پرتاحال عمل شروع نہیں ہوسکا۔

سال رواں کا سورج ڈوبنے کو آیا ہے لیکن پاکستان ریلوے کی جانب سے کے سی آر کے حوالے سے کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی اور شہری جس طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے انتظار کرتے تھے اسی طرح کراچی سرکلر ریلوے کے چلنے کے انتظار میں ہیں۔

کراچی میں ایک طویل عرصے سے گرین لائن ، یلو لائن ، اورنج لائن اور ریڈ لائن منصوبے تعمیر کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور بعض منصوبے زیر تعمیر بھی ہیں لیکن تاحال کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے، اب یہ نوید سنائی گئی ہے کہ 25 دسمبر کو وزیر اعظم پاکستان گرین لائن بس سروس کا افتتاح کریں گے اور شہری اس سہولت سے مستفید ہونا شروع ہوجائیں گے۔2021ء میں بھی حکومت وعدے کرتی رہی لیکن عملی طور پر کوئی بھی قدم سامنے نہیں آیاالبتہ 19 ستمبر کو شہر قائد میں گرین لائن منصوبے کی 40 بسیں پہنچیں بعد میں بقیہ بسوں کی کھیپ بھی کراچی پہنچ گئی۔ اکتوبر 2021 ء میں گرین لائن کوریڈور کے لئے 250 جدید سہولتوں سے آراستہ بسیں کراچی پہنچ گئیں۔ اسی طرح سندھ حکومت نے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے 240 بسیں منگوائی ہیں لیکن تاحال سڑک پر ان میں سے ایک بھی بس نہیں آئی اور شہری گزشتہ کئی سالوں کی طرح آج بھی ان بسوں کو سڑکوں پر دیکھنے کا منتظر ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کہ گرین لائن بس سروس کا منصوبہ 2016ء میں شروع ہوا تھا اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ایک تقریب میں اس منصوبے کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھا تھا اور اسے ایک سال میں مکمل ہونا تھا تاہم آج بھی اس منصوبے پر کام جاری ہے، گرین منصوبے کی بسوں سے لدا ہوا بحری جہاز پاکستان پہنچا تو شہریوں میں ایک بار پھر پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے امید کی کرن پیدا ہوئی کہ اب انہیں آمدورفت میں سہولت حاصل ہوگی لیکن اب یہ بسیں کھڑی ہیں اور گرین لائن منصوبے کے تعمیراتی کام کی تکمیل کی منتظر ہیں۔

5 مارچ کو ریڈ لائن کے منصوبے کے سی ای او واصف اجلال نے اعلان کیا کہ گرین، یلو اور ریڈ لائن منصوبے مکمل ہونے کے بعد کراچی میں تیزی رفتار پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آئے گی، یہ بس سروس ملیر ہالٹ سے نمائش تک چلائی جائے گی اور شہر کی بہتری اور خوبصورت کے لئے ریڈ لائن کے منصوبے کے ساتھ ساتھ 25ہزار نئے درخت لگائے جائیں گے، مکمل ڈرینج سسٹم تبدیل کیا جائے گا لیکن یہ معاملہ بھی جوں کا توں رہا اور نتیجہ صفر۔

سڑکیں ، اسٹریٹ لائٹس کی فراہمی ، نکاسی آب اور انفراسٹرکچر کی بہتری شہر کی بنیادی ضروریات ہیں۔ سڑکیں ، اسٹریٹ لائٹس اور نکاسی آب کے معاملات درست ہوں گے تو شہر کے بیشتر مسائل ازخود حل ہوجائیں گے۔ لیکن نے لگتے ہیں، کراچی میں سال2021 ء کے دوران سڑکوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے بڑے بڑے منصوبے تو سامنے نہیں آئے تاہم کراچی کی کچھ سڑکوں کی استرکاری اور تعمیر و مرمت ضرور مکمل کی گئی جس سے شہریوں کو سہولت میسر آئی ۔

بلدیاتی اداروں نے جن سڑکوں کی استرکاری، مرمت اور تعمیر کی ان میں محمود آباد روڈ، جگر مراد آبادی روڈ، ویسٹ وہارف روڈ، اولمپیئن اصلاح الدین روڈ، یوسی۔15 کورنگی روڈ، مجید کالونی مظفر آباد کی دو سڑکیں، فریسکو چوک برنس روڈ سے اولڈ این ای ڈی کیمپس تک کی سڑک، کریم آباد کی سڑک ، کورنگی سیکٹر 13-D کی مرکزی سڑک اور ضلع غربی میں چمن سنیما روڈ کی 80 ہزار مربع فٹ کی کارپیٹنگ کی گئی ، ڈیفنس ہائوس اتھارٹی نے خیابان اتحاد، خیابان سعدی اور خیابان رضوان کی سڑکوں کی استرکاری کی جبکہ خیابان شہباز، خیابان بحریہ میں اسی طرح مختلف سڑکوں کے گرین بیلٹ اور کیاریاں بنا کر پودے لگائے گئے ، چوہدری خلیق الزماں روڈ کو ماڈل سڑک کے طور پر تعمیر کیا گیا اور آرائشی لائٹوں کے ساتھ تزئین و آرائش کی گئی، ان سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ اسٹریٹ لائٹس کو درست کیا جائے، فٹ پاتھ تعمیر کی گئیں اور نکاسی آب کے لئے لائنوں کو تبدیل کیا گیا۔

13 نومبر 2021ء کو کراچی کے لئے ایک اعشاریہ ایک ارب کی لاگت سے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی نوید سنائی گئی اور ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے کراچی شہر کے مختلف علاقوں کی گلی محلوں کی سڑکوں اور اسٹریٹ لائٹس کو بہتر بنانے کا حکومت کی طرف سے عندیہ دیا گیا۔اسی طرح 28 ارب روپے کی لاگت سے ملیر ایکسپریس وے ، 30 ارب روپے کی لاگت سے پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے یلو لائن، 12 ارب روپے کی لاگت سے حب کینال اور 16 ارب روپے کی لاگت سے دھابیجی سے کراچی پانی پہنچانے کا انتظام کرنے کی نوید بھی سنائی۔خدا کرے یہ سارے کام اپنی تکمیل کو پہنچیں۔

کراچی میں پہلی مرتبہ کے ایم سی کے ایمرجنسی رسپونس اور سندھ پولیس کے متعلقہ شعبے کے ساتھ معاہدہ کیا گیا جس کے تحت محکمہ فائر بریگیڈ ، میڈیکل سروسز، میونسپل سروسز اور محکمہ سٹی وارڈن کے عملے کو جدید خطوط پر ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تربیت فراہم کرنے کا آغاز کیا گیا، اس پروجیکٹ کے تحت پولیس اور کے ایم سی کا متعلقہ عملہ ایک ساتھ حادثات سے نمٹنے کے لئے موجود ہوگا۔اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ آگے چل کر اس تعاون میں وسعت پیدا کی جائے گی اور ایسا سسٹم وضع کیا جائے گا جس میں ایمرجنسی یا حادثات کی صورت میں شہری جوں ہی 15 یا فائر ڈپارٹمنٹ کو فون کریں کے ایم سی اور پولیس کے شعبے متحرک ہوجائیں اور مل کر کام کریں جس سے ایمرجنسی رسپونس اور ریسکیو میں کم سے کم وقت لگے گا اور شہریوں کی جان و مال بچانے میں مدد ملے گی۔

کراچی کی تاریخی عمارتوں کی بہتری کے لئے 2021ء میں ایک قدم یہ اٹھایا گیا کہ امریکی قونصل جنرل نے ثقافتی ورثہ تحفظ پروجیکٹ کے تحت فریئر ہال کی تاریخی عمارت کو اصل شکل میں بحال کرنے کی خوشخبری سنائی، فریئر ہال کی 156 ویں سالگرہ کے موقع پر امریکی قونصل جنرل نے کہا کہ تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کو طویل عرصے کے لئے محفوظ بنایا جائے گا، اس سلسلے میں امریکہ نے پاکستان میں ایسے 30 ثقافتی ورثہ پروجیکٹ کے لئے 6.4 ملین ڈالر مختص کئے ہیں تاکہ ورثے کو بہتر اور محفوظ کیا جاسکے، نیزفریئر ہال کی موجودہ عمارت کے اسٹرکچر اور اس کے تحفظ میں حائل مسائل کا تجزیہ کرکے تفصیلی رپورٹ بھی تیار کی جائے گی، فریئر ہال کی بحالی کے کام کئے جائیں گے جن میں مرکزی ہال کے قدیم زینے کو مضبوط بنانا ، پہلی منزل کے لکڑی کے فرش کو محفوظ بنانا، دروازوں اور کھڑکیوں کو بہتر کرنا اور بارش کے پانی سے بچانا، واٹر پروف چھت کی مرمت، بجلی کی نئی وائرنگ اور عمارت کے ٹاور اور نچلے حصے کی مرمت اور بحالی بھی شامل ہے، جو 2022 میںہی ممکن ہوگا۔

اس سال منوڑا فرنٹ بیچ کے نام سے ایک خوبصورت تفریحی مقام تعمیر کیا گیا، یہ کام ادارہ ترقیات کراچی کے ماہرین نے مکمل کیا، شہری منوڑا بیچ کی طرف سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے رخ نہیں کرتے تھے، اس منصوبے سے عوام کی توجہ منوڑا کے ساحل کی مبذول ہوئی، فیملیز کے لئے انتہائی محفوظ ماحول فراہم کیا گیا ہے، 30 اکتوبر 2021ء کو سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ ، سید سردار شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کے ساتھ مل کر اس تفریحی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا، یہ بھی بتایا کہ اس ساحلی تفریحی مقام پر پہنچنے کے لئے سی ویو پر ایک جیٹی تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ کلفٹن کے علاقے سے منوڑا بیچ تک فیری سروس شروع کی جاسکے اس سروس سے شہریوں کو کلفٹن سے منوڑا تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔ اس سے پہلے کراچی میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں تھی اور نہ ہی اس طرح کے ساحلی مقام پر کوئی باقاعدہ تفریح گاہ بنائی گئی تھی۔یہ حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کا پہلا ترقی یافتہ ساحل ہے جس پر شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

پہلامیری گولڈفیسٹیول

22 تا 24 جنوری کے درمیان پہلا میری گولڈ فیسٹیول کا انعقاد کیا، جس میں گیندے کے پھول کی مختلف اقسام نمائش کے لئے رکھی گئیں اور شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد میں اس فیسٹیول میں شرکت کی، گیندے کا پھول اپنی خوبصورتی اور رعنائی کی وجہ سے پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے اور لوگ اپنے گھروں اور باغات میں یہ پھول لگاتے ہیں جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں کے درمیان خوبصورتی کے لئے یہ پھول لگائے جاتے ہیں،اس فیسٹیول میں باغات اور باغبانی سے متعلق ماہرین نے بھی شرکت کی۔

کچرا گاڑیاں

15 نومبر کو ضلع شرقی کی 31 یوسیز میں ڈھائی سو چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے گھر گھر سے کچرا وصول کرنے کا آغاز کیا گیا ، 200 کچرا اٹھانے والی گاڑیاں ضلع شرقی کو فراہم کی گئیں، یہ ایک نیا منصوبہ ہے اور اس پر عملدرآمد سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کرے گا، اگر یہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو اس کا دائرہ کار کراچی کے دوسرے ضلعوں تک بھی پہنچایا جائے گا تاکہ کراچی کو کچر ے سے صاف کیا جاسکے۔

30 نومبر کو چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم کے فور پروجیکٹ کا دورہ کیا اور پروجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ کراچی کو یومیہ 650 ملین گیلن پانی کی فراہمی کا منصوبہ اکتوبر 2023 ء تک مکمل کرلیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پہلے اس منصوبے کی تعمیر کی ذمہ داری حکومت سندھ کے پاس تھی تاہم سندھ حکومت کے پاس ایک معاہدے کے تحت اب یہ منصوبہ وزیراعظم کے کراچی پیکیج کے تحت وفاقی حکومت تعمیر کر رہی ہے اور اس پس منظر میں وفاقی حکومت نے واپڈا کو کے فور منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔

قبرستانوں کا نظم و نسق

کراچی کے قبرستانوں کا نظم و نسق چلانے اور متعلقہ معاملات کی نگرانی کے لئے فلاحی اداروں اور کے ایم سی کے افسران پر مشتمل ایک آٹھ رکنی سینٹرل کمیٹی قائم کی گئی، اس کمیٹی کے قیام کا مقصد قبروں کی فراہمی سے لے کر مردوں کی تدفین تک تمام معاملات کی نگرانی کرنا ، تمام قبروں اور تدفین کا ریکارڈ رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ قبرستانوں کی حدود میں کوئی غیر اخلاقی اور غیر سماجی سرگرمیاں وقوع پذیر نہ ہوں، کمیٹی کا مقصد یہ بھی ہےکہ قبروں اور مردوں کی آوارہ جانوروں سے حفاظت ضرورت انتظامات کریں۔ کمیٹی میں کے ایم سی کے افسران کے علاوہ الخدمت ویلفیئر سوسائٹی ، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ، دعوت اسلامی، النور ویلفیئر اور جے ڈی سی ویلفیئر آرگنائزیشن کے نمائندے شامل کئے گئے تاکہ قبرستانوں کی حالت کو بہتر بنایا جاسکے۔

ماضی میں بلدیاتی انتخابات کی طرح کنٹونمنٹ بورڈکے الیکشن بھی تعطل اور لمبے عرصے کے لئے التواء کا شکار رہے ، 2000 ء کے بعد سپریم کورٹ کے احکامات پر 2015 ء میں کنٹونمنٹ بورڈکے انتخابات ہوئے اور اس کے بعد گزرتے سال 12 ستمبر کو یہ انتخابات ہوئے۔

کراچی کو سال بھر مختلف مسائل کا سامنا بھی رہا جن میں شہریوں کو بلواسطہ یا بلاواسطہ تکالیف اور اذیت سے گزرنا پڑا ان مسائل میں تجاوزات کے خاتمے کی مہم مختلف عمارتوں میں آگ لگ جانے کے واقعات اور دیگر مسائل شامل تھے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے کراچی میں تجاوزات کے خلاف احکامات سامنے آتے رہے جن پر تمام اداروں نے مکمل عملدرآمد کیا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گجرنالے سے 7343 ، پکی اور کچی تعمیرات ختم کی گئیں، محمود آباد نالے سے 283 اسٹرکچر سمیت 1478 تعمیرات اور اورنگی ٹائون نالے سے 3292 کچی اور پکی تعمیرات جن میں مکانات، دکانیں، کارخانے شامل تھے مسمار کردیئے گئے، مکانات، دکانیں اور کارخانے گرانے کا کام سارا سال جاری رہا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے شاہراہ فیصل پر واقع نسلہ ٹاور گرانے کے بھی احکامات جاری کئے۔ نسلہ ٹاور کے مکینوں ، شہریوں اور مختلف سیاسی تنظیموں نے اس پر احتجاج کیا لیکن آخر کار سپریم کورٹ کے احکامات پر نسلہ ٹاور کو مسمار کردیا گیا۔

کراچی میں اس سال آگ لگنے کے کئی واقعات ہوئے جن میں مہران ٹائون کورنگی کی فیکٹری ،کو آپریٹو مارکیٹ ،وکٹوریہ مارکیٹ صدر اور تین ہٹی پل کے نیچے جھونپڑیوں میں لگنے والی آگ شامل ہیں، اسی طرح پیٹرول پمپ پر کھڑے ہوئے ٹینکر میں لگی ہوئی آگ بھی ایک اہم واقعہ تھا۔ 2021 میں فائر بریگیڈ کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے 24 فائر ٹینڈرز اور 2 بائوزر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے حوالے کئے گئے۔ یہ جدید ترین فائر ٹینڈرز ہیں اسی طرح کراچی کے 6 انڈسٹریل زونز ، ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی، بن قاسم انڈسٹری، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور پاکستان رینجرز سندھ کو دو دو جدید فائر ٹینڈرز اور کراچی چیمبر آف کامرس اور کورنگی کریک انڈسٹریل پارک کو ایک ایک فائر ٹینڈر فراہم کیا گیا اس طرح مجموعی طور پر وفاقی حکومت سے ملنے والے 48 فائر ٹینڈرز اور 2 نئے بائوزر کا کراچی کے فائر بریگیڈ کے فلیٹ میں اضافہ ہوا۔

شہریوں کو جانوروں اور پرندوں سے بھی بے انتہا محبت ہوتی ہے خصوصاً پالتو جانوروں کو لوگ اپنے گھر کے فرد کی حیثیت دیتے ہیں، کراچی کے چڑیا گھر میں 8 جون کو ببر شیر فوت ہوگیا 24 ۔نومبر کو چڑیا گھر میں نایاب نسل کا سفید شیر ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو کر مر گیا، یہ شیر 2012ء میں افریقہ سے کراچی چڑیا گھر لایا گیا تھا۔

2021 ء اپنے اختتام کی طرف ہے،امیدہے کہ 2022 ء میں کراچی کے مسائل جن میں انفراسٹرکچر، سڑکوں کی تعمیر ، پبلک ٹرانسپورٹ، کراچی سرکلر ریلوے، پانی، بجلی، سیوریج اور دیگر مسائل حل ہوں گے اور کراچی ایک بار پھر روشنیوں ، رنگوں اور امنگوں کا شہر ہوگا۔

گرین لائن بس سروس کا افتتاح

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے 10 دسمبر کو گرین لائن بس سروس کا افتتاح کیا، 15دن کے لیے یہ بس سروس آزمائشی طور پر چلائی جائے گی، 25 دسمبر سے باقاعدگی سے شروع کی جائے گی اس موقع پر وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کو پاکستان کا معاشی انجن قرار دیا،کراچی کے شہریو ںکے لیےایک طویل مدت کے بعد 35.5 ارب روپے کی لاگت سے گرین لائن بس ریپیڈ ٹرانزٹ سسٹم کو مکمل کیا جارہا ہے۔ 

اس منصوبے سے ضلع وسطی اور ضلع غربی کے سوا لاکھ سے زائد مسافروں کو جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی، 21 کلومیٹر طویل گرین لائن بس سسٹم پر ہر ایک کلو میٹر کے بعد اسٹیشن بنائے گئے ہیں، بس کا کم سے کم کرایہ 15 روپے اور زیادہ سے زیادہ 55 روپے مقرر کیا گیا ہے، کراچی میں نئے سال کے آغاز سے ہی شہری اس جدید سہولت سے استفادہ کرسکیں گے۔

شجر کاری مہم

اسی طرح کراچی میں شجر کاری مہم کے سلسلے میں ایک لاکھ سے زائد پودے لگانے کا ہدف مقر ر کیا گیا تاکہ کراچی کی ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جائے ۔19 مارچ2021 کو تین روزہ آل پاکستان فلاور ،فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل شو منعقد کیا گیا، اس شو کو دیکھنے کے لئے ہزاروں شہری باغ ابن قاسم پہنچے اور انواع و اقسام کے رنگ برنگی پھولوں سے لطف اندوز ہوئے یہ فیسٹیول کوٹھاری پریڈ کے سو سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا، اس موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا اور اس میں اس پارک کی سو سالہ تکمیل پر اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد ، ڈائریکٹر جنرل پارکس طحہ سلیم اور دیگر افسران نے مل کر کیک کاٹا۔ 

اس شو میں ڈیڑھ لاکھ پھولوں سے پاکستان کا نقشہ تیار کیا گیا جو ایک منفرد کام تھا جبکہ تین لاکھ سے زائد پھول نمائش میں رکھے گئے تھے۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے تعاون سے 300 میاواکی فاریسٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ،ان میں پہلا میاواکی فاریسٹ میٹروپول ٹرائی اینگل اور دوسرا میاواکی فاریسٹ بے نظیر بھٹو پارک کلفٹن کے قریب لگایا گیا ہے تاکہ شہر میں پودوں کی کمی کو دور کیا جاسکے، میاواکی فاریسٹ جاپان کی ایک ٹیکنالوجی ہے جس میں کم جگہ پر زیادہ پودے لگائے جاتے ہیں، یہ فاریسٹ ایسی جگہوں پر لگائے جاتے ہیں جہاں ٹریفک اور ہجوم زیادہ ہو، ایک مربع میٹر میں نو درخت لگائے جاتے ہیں، میٹروپول ٹرائی اینگل میں 90 درخت لگائے گئے اس کے علاوہ تین پارکوں کی تزئین و آرائش کرکے انہیں شہریوں کے لئے کھولا گیا ان میں باغ رستم ،فیملی پارک کلفٹن جو خستہ حالی کا شکار تھا اور ایک طویل عرصے سے شہریوں کے لئے بند تھا کھولا گیا۔ 

دوسرا پارک گلبرگ میں ارفع فیملی پارک ہے جس کی تزئین و آرائش دوبارہ سے کی گئی اور اس کا نام نو عمر سوفٹ ویئر انجینئر ارفع کریم کے نام پر رکھا گیا، تیسرا پارک ناظم آباد نمبر ایک پر واقع ذیشان حیدر شہید پارک ہے اس پارک کی حالت درست کی گئی اور شہریوں کے لئے استعمال کے قابل بنایا گیا ، کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب نے آغا خان پارک کلفٹن میں 8 نومبر سے شجر کاری مہم کا افتتاح کیا اور شہریوں سے درخواست کی کہ ہر شہری کم از کم ایک درخت ضرور لگائے تاکہ شہر کو سر سبز و شاداب کیا جاسکے۔ 

گیم چینجر

کراچی ساحل کی جامع ترقی کے منصوبے (کے سی سی ڈی) کی سی پیک منصوبہ کراچی کے لئے جدید اربن انفرا اسٹرکچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جو پسماندہ شہری ڈھانچے میں جکڑے ہوئے اس ساحلی شہر کا عالمی منظر نامہ تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ منصوبے میں کئی نئی گودیاں بنائی جائیں گی، شہر کی سب سے پرانی جھونپڑ پٹی کی ری سیٹلمنٹ ہوگی اور منوڑہ اور سینڈ پٹ بیچ کو ملانے والے سمندری پل بنائے جائیں گے۔

اس منصوبے کی اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ مکمل چینی سرمایہ کاری پر مشتمل ہوگا۔ سی پیک کے فریم ورک میں یہ نیا اضافہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے اور یہ امید کی جارہی ہے کہ یہ عالمی سرمایہ کاری کے لئے خاصا پرکشش اور پاکستان کے لئے بڑا منافع بخش منصوبہ ثابت ہوگا وزیراعظم نے اسے گیم چینجر کہا، اس سے کراچی کا شمار ترقی یافتہ ساحلی شہروں میں ہونے لگے گا اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ پاکستان میں سمندر سے جڑی معیشت کے پھیلاؤ کی غیر معمولی گنجائش ہے۔

کراچی میں پیراگلائڈنگ کا آغاز

 11 دسمبر کو کراچی کے علاقے نیا ناظم آباد میں پیراگلائڈنگ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے، یہ پیراگلائڈنگ کراچی کی تاریخ میں میں پہلی مرتبہ شروع کی گئی ہے اس موقع پر بتایا گیا کہ ہل پارک سے کڈنی ہل تک چیئر لفٹ شروع کی جارہی ہے اور چیئرلفٹ لگانے کاکام آئندہ چند ہفتوں میں شروع کردیا جائے گا، جبکہ واٹر اسپورٹس شروع کرنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ 

پیراگلائڈنگ تین مختلف انداز سے کی جاتی ہے ، کراچی کے بلند ترین مقام کڈنی ہل پر بھی پیراگلائڈنگ شروع کی جائے گی جس سے یقینا شہرکی رونقوں میں اضافہ ہوگا ، نوجوانوں کے لئے پیرا گلائڈنگ ایک دلچسپ کھیل ہے، پیراگلائڈنگ دنیا بھر میں بے انتہا مقبول ہے او ر اکثر پہاڑی علاقوں میں پیراگلائڈنگ کی جاتی ہے۔

سندھ اسمبلی نے بلدیاتی ایکٹ میں تبدیلی کا بل منظور کرلیا

سندھ اسمبلی نے 11 دسمبر کو بلدیاتی ایکٹ میں تبدیلی کا بل منظو رکرلیا جس کے ذریعے کراچی کے بلدیاتی نظام میں زبر دست تبدیلی لائی گئی ہے کراچی میں ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کو ختم کرکے 25 سے 27 ٹائونز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ بھر کی بلدیاتی کونسلز کو 9 صوبائی محکموں کی امور کی نگرانی کا اختیار دے دیا گیا ہے سندھ پولیس کے امور میں منتخب بلدیاتی کونسلز کو شامل کیا گیا ہے۔ 

پرائمری و سیکنڈری اسکول بنیادی مراکز صحت کے افسران ، سہ ماہی رپورٹ بلدیاتی کونسلز کو دینے کے پابند ہوں گے، محکمہ کھیل ، محکمہ خصوصی افراد ، ذراعت ، لائف اسٹاک کے ضلعی دفتر بلدیاتی کونسلز کو رپورٹ دیں گے، سندھ کے ہر بلدیاتی کونسل میں خواجہ سراہو ں او رخصوصی افراد کے لئے ایک ایک فیصد نشست ہونگی، میئر کراچی کا انتخاب خفیہ رائے دہی کے بجائے شو آف ہینڈ سے ہوگا۔ 

میئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے بھی کام کریں گے، کراچی کے تمام بڑے اسپتال حکومت سندھ کے زیر انتظام کام کریں گے، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو بھی حکومت سندھ کو دیا گیا ہے، حکومت سندھ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ میں بلدیاتی انتخابات فروری یا مارچ میں کرادیئے جائیں گے۔