• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تھرپارکر میں کارونجھر پہاڑ کاٹنے کا کام فوری روکنے کا حکم


تھرپارکر میں عدالت نے کارونجھر پہاڑ کاٹنے کا کام فوری روکنے کا حکم دے دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز اور ایس ایس پی تھرپارکر کو حکم دیا کہ پہاڑ کاٹنے کی مشینری فوری ہٹائی جائے جو گاڑیاں پتھروں سے بھر ی ہیں، خالی کی جائیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ افسران کو 6جنوری کو طلب کیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ پہاڑوں کی کٹائی سے مقامی لوگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ ان کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔

26 جولائی 2011 کو سندھ حکومت کے ماتحت ادارے مائنز اینڈ منرل ڈپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کی ایک ماربل انڈسٹریز کو گرینائٹ ایریا سے 2500 ایکٹر مختص کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

ننگرپارکر کے پہاڑوں کو کاٹ کر گرینائٹ پتھروں کو لے جانے کا سلسلہ شروع ہوا، جس پر ننگر پارکر کے شہریوں نےاحتجاج بھی کیا۔

ننگرپارکر کے مقامی افراد کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور محکمہ منرل اینڈ مائنز کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے پہاڑوں سے قیمتی پتھر نکالا جارہا ہے، نجی کمپنی کوہ نور مائنز کو 25 سو ایکڑزمین 2030 تک لیز پر دی گئی ہے۔

مائنز اینڈ منرل حکام کا کہنا تھا کہ کارونجھر کی کٹائی پر پابندی عائد ہے۔

ننگر پارکر میں کارونجھر پہاڑوں کی کٹائی اور قیمتی پتھر نکالنے کی اطلاعات پر سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کرم علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئےڈی سی تھر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر منرل اینڈ مائنز، ڈپٹی کنزرویٹر وائلڈ لائف، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیاحت و ثقافت کو 6 جنوری کو عدالت میں دستاویزات سمیت پیش ہوکر وضاحت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جوڈشیل مجسٹریٹ نے حکم نامے میں ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کو ہدایت کی ہے کہ ننگر پارکر میں پہاڑوں کی کٹائی فوری طور پر بند کی جائے۔

عدالت نے متعلقہ محکمہ کے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کٹائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

قومی خبریں سے مزید