• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے سال کا آغاز ہمیشہ ہی اچھی توقعات اور خیر کی دعائوں سے ہوتا ہے اور اس مرتبہ بھی یقیناً ایسی ہی خواہشوں کے ساتھ 2022 کا خیرمقدم کیا جارہا ہے لیکن دعائیں اور خواہش تو اچھی توقعات کی ہی ہیں تاہم حالات و واقعات خدشات سے بھرے پڑے ہیں بالخصوص اگر حکومت کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی اور اپوزیشن کے اس تمام عرصے میں جارحانہ طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ توقع عبث ہے کہ نیا سال ملکی سیاست، حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعلقات کا اور عوام کو درپیش زندگی کے مسائل اور مصائب سے نجات دلانے کیلئے آئیڈیل ثابت ہوگا۔ 

خواہشات تو یہ ہیں کہ نیا سال اس ملک کے ان کروڑوں لوگوں کیلئے جنہیں زندگی کی بنیادی ضروریات کے حصول کیلئے بھی مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ مہنگائی کے پل صراط کو ہر روز عبور کرنا پڑا ان کیلئے آسانیاں لیکر آئے۔ لوگوں کو روزگار باوقار انداز سے اور زندگی گزارنے کے مواقع خودداری کے ساتھ نصیب ہوں لیکن اگر گزشتہ چند سالوں کی طرف پلٹ کر حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا نظر نہیں آتا کیونکہ اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی ہے۔ 

چار سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ابھی تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی بھی سطح پر اتنی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوسکی کہ وہ عام آدمی کے حالات کی بہتری کیلئے مل جل کر مشاورت کے ساتھ پیش رفت کریں حکومت کی طرف سے اجتماعی معاملات میں اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے جذبے کا فقدان ہے تو دوسری طرف مخالفانہ ردعمل متشدد طرز عمل کی شکل اختیار کر چکا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت کی مقبولیت اور اس کی سیاسی قوت کو مسلسل خسارے کا سامنا ہے۔ 

ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پہ درپہ ناکامی اور پھر صوبہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی شکست اس کی واضح مثال ہے۔ اس صورتحال کو بھی بدقسمتی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ ملکی تاریخ میں ابھی تک کوئی ایسا میکنزم موجود نہیں ہے جو حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی قوتوں کے درمیان محاذ آرائی کی صورت میں مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کیلئے کسی مکالمے کا انتظام کرے۔ اب تک ملک کے ’’وسیع تر مفاد‘‘ کیلئے ملک میں جمہوریت کو بار بار ختم کیا گیا لیکن کوئی ایسا ادارہ یا طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا جو اقتدار کے حصول کی خواہش کئے بغیر فریقین کے درمیان ’’ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد‘‘ میں اپنا کردار ادا کرے۔ 

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں تو بالخصوص جس کی ضرورت ناگزیر ہوچکی ہے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں وہاں دو مرتبہ حکمرانی کرنے والی جماعت کی شکست نے خود وزیراعظم عمران خان کے سامنے بھی یہ حقیقت واضح کی ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے انتخابات میں دوراندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا جنہوں نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گوکہ انہوں نے ملک بھر میں حکومتی جماعت کی تنظیم کا ڈھانچہ ہی ازسرنو تشکیل دیا ہے لیکن فی الوقت اس فیصلے سے بھی مطلوبہ نتائج ملنے مشکل ہی نظر آتے ہیں۔ 

یہاں بطور خاص بلوچستان کیلئے قاسم سوری کا انتخاب اس تناظر میں غیر موزوں نظر آتا ہے کہ حقائق کی دھند میں لپٹی سیاست دعوئوں، خدشات، خواہشوں اور الزامات کے عروج پر ہے جس کا آغاز اور اختتام گھوم پھر کر اس وقت سیاسی صورتحال کے ’’مرکزی کردار‘‘ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی لندن سے وطن واپس آنے یا نہ آنے پر ہی ہوتا ہے اور ان کے وطن واپسی کے معاملے پر مسلم لیگی رہنما حکومت کو اور حکومتی ترجمان اپوزیشن کو ڈرا رہے ہیں۔

مسلم لیگی رہنما کا دعویٰ ہے کہ معاملات طے ہو چکے ہیں نوازشریف بہت جلد وطن واپس آنے والے ہیں وطن واپسی پر وہ لاہور میں ان کے فقیدالمثال استقبال کے مناظر کو اس ’’چشم تصور‘‘ سے دیکھ رہے ہیں جو80 کی دہائی میں محترمہ بینظیر بھٹو کی واپسی پر ہوا تھا وہ پرامید ہیں کہ قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے میاں نوازشریف خود گرفتاری دیں گے اور کچھ ہفتے یا مہینے جیل میں رہیں گے اور پھر تین مرتبہ وزیراعظم رہنے کے ’’منصبی استحقاق‘‘ کی بنیاد پر گھر پر نظربندی کیلئے ان کی درخواست منظور کرلی جائے گی اور پھر وہ اپنے قانون دانوں کے ساتھ مل کر اپنے خلاف عدالتی فیصلوں کو عدالت میں ہی چیلنج کریں گے اور اس مقصد کیلئے ان کے وکلا نے شواہد کے ساتھ خاصی تیاری بھی کر رکھی ہے جس کی بنیاد پر وہ آنے والے انتخابات میں چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر اتنی سیاسی طاقت حاصل کر لیں گے کہ اپنی نامزد کردہ شخصیت کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کرا سکیں گے۔ 

جبکہ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے نزدیک یہ ایک ناقابل یقین بات ہوگی لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ نوازشریف کی سزا اور نااہلی ختم کرنے کیلئے راستے تلاش کئے جا رہے ہیں چونکہ وزیراعظم کے پاس اطلاعات کی مصدقہ فراہمی کے کئی ذرائع ہوتے ہیں جن کے پیش نظر ان کے مذکورہ بیان سے مسلم لیگی رہنمائوں کے دعوئوں کے بعض حصوں کو تقویت بھی ملتی ہے لیکن یہ سب کچھ میڈیا پر بیانات اور ٹاک شوز کی حد تک دکھائی دے رہا ہے عملی طور پر صورتحال ایسی نہیں کہ جس سے فریقین کے دعوئوں پر بلاسوچے سمجھے یقین کر لیا جائے۔ 

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ میاں نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے حکومت اور مسلم لیگ ن دونوں ہی ایک دوسرے سے خائف ہیں ورنہ ترجمانوں اور بعض وزرا کی جانب سے جیل میں صفائی کرانے کی پیش بندی کیلئے ایسے بیانات کی ضرورت پیش نہ آتی۔ حکومتی جماعت خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے سیاسی صدمے سے شاید کافی عرصے تک نہ نکل سکے کیونکہ آئندہ ماہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت جسے خود تحریک انصاف کے رہنما اور وزراء بھی تسلیم کرتے ہیں اگر صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئی تو مسلم لیگ (ن) وہاں کلین سویپ کر سکتی ہے۔ 

ظاہر ہے کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخاب کے نتائج بڑی حد تک پنجاب پر اثر انداز ہونگے گو کہ صورتحال سے نبردآزما ہونے کیلئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نئی تنظیم سازی کی ہے جو ان کی نگرانی میں کام کرے گی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں وہ بالخصوص ٹکٹوں کی تقسیم کے فیصلے بھی خود کریں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کے پی کے کی صورتحال کا ازالہ ہو سکے گا اور کیا ٹکٹوں کی صحیح تقسیم بھی پنجاب میں مسلم لیگ کو شکست دے سکے گی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید