• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرزا اسد ﷲ خان غالب کو دنیا سے رخصت ہوئے 153سال بیت گئے

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) مغلوں نے برصغیر کو تین تحفے یعنی اُردو، غالبؔ اور تاج محل دیئے ہیں۔ مرزا اسدا للہ خان، جن کا تخلص غالب ہے، وہ 15 فروری 1869ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اس فلسفی شاعر کو دنیا سے رخصت ہوئے 153 سال بیت گئے ہیں لیکن جو شہرت اس فلسفی شاعر کو حاصل ہوئی وہ کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہ ہوسکی۔غالب جب پانچ سال کے تھے تو ان کے والد مرزا عبداللہ بیگ میدان جنگ میں گولی کا نشانہ بنے اور وفات پا گئے۔ چچا نصراللہ بیگ جو آگرہ کے گورنر بنے، انہوں نے مرزا کی کفالت کی۔ لیکن تین سال بعد ہی، یعنی جب مرزا آٹھ برس کے تھے تو وہ بھی دنیا سے کوچ کر گئے۔چچا نے گھر پر اسد اللہ کی تعلیم و تربیت کا بند وبست کر دیا تھا ۔ فارسی اور عربی کے استاد مقرر کر دیئے تھے۔ غالب کے چچا نے بغیر لڑے آگرہ کا قلعہ انگریز لارڈ لیک کے حوالے کر دیا تھا جس کے بدلے میں انگریزوں نے انہیں نوازا تھا ۔ مرزا کے چچا کے انتقال کے بعد چچا کے سالے نواب احمد بخش خان والی لو ہارو نے غالب کے لئے انگریزوں کی پنشن جاری کروائی جس سے مرزا کی گزر بسر ہونے لگی۔ 1810 میں جب مرزا کی عمر تیرہ سال کی ہوئی تو ان کی شادی کر دی گئی۔ شادی کے بعد غالب دہلی منتقل ہو گئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ شادی کے بعد مرزا چاندنی چوک کے بلی ماران محلے میں ایک حویلی کرائے پر لے کر رہنے لگے۔ شروع میں اسد تخلص رکھا پھر اسی نام کے ایک اور شاعر منظر پرآئےتو تخلص بدل کر غالب رکھ لیا۔انھیں مغل دربار تک رسائی حاصل ہوئی تو وہ نجم الدّولہ، دبیرُ الملک، مرزا نوشہ اور نظام جنگ جیسے خطاب اور القاب سے نوازے گئے۔غالب بحیثیت نثار بھی اردو ادب میں نہایت اہم مقام رکھتے ہیں اور خاص طور پر ان کے خطوط کا شہرہ ہوتا ہے جس میں انھوں نے نثر کو ایک نیا آہنگ اور اسلوب دیا۔ غالب غزل گو شاعر، قصیدہ نگار اور اچھے نثر نگار تھے۔

دل لگی سے مزید