سپریم کورٹ میں فاتحہ خوانی کی تقریب کے دوران دو گروپوں میں فائرنگ کے کیس کی سماعت کے دوران مجرم راجا باسط عرف عبدالباسط کو عمر قید کی سزا سے بری کر دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ فاتحہ خوانی جاری تھی کہ ایک گن مین نے پہلے فائرنگ کی، جس کے بعد دفاع میں جوابی فائرنگ کی گئی۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کراس فائرنگ کے معاملے پر ریمارکس دیے کہ ’’ایسا فارمولا اب بدنام ہو چکا ہے۔‘‘
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ’’گن مین نے فائرنگ کیوں کی؟ کیا گن مین چوہدری تھا؟ گن مین جنگ بچا رہا تھا؟‘‘
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’’ہم سمجھتے تھے کہ صرف بلوچستان میں فائرنگ سے قتل ہوتے ہیں، جب سے یہاں آیا ہوں دونوں کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہوں۔ بلوچستان میں ایک شخص قتل ہوتا ہے، یہاں پورے خاندان قتل ہو جاتے ہیں۔‘‘
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ’’اگر ایک پارٹی فاتحہ خوانی کر رہی تھی تو آپ بھی اپنی فاتحہ خوانی کرتے، تھپڑ کا جواب فائرنگ سے کہاں دیا جاتا ہے؟‘‘
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ فائرنگ کا آغاز گن مین نے کیا اور اس نے 8 گولیاں چلائیں۔ یہاں پچاس پچاس لوگ مسلح ہوتے ہیں، کہاں کا انصاف ہے؟ جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آپ نے اپنا دفاع ضرور کیا، لیکن اشتعال کا مظاہرہ زیادہ کر دیا۔
وکیلِ صفائی کے مطابق دونوں جانب سے شدید فائرنگ ہوئی جبکہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ’’کوئی ڈیڑھ سو گولیاں چلیں۔‘‘
عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے عبدالباسط کو کیس سے بری کر دیا۔
یاد رہے کہ فاتحہ خوانی کی تقریب کے دوران ذاتی دشمنی کی بنا پر دو گروپوں میں تصادم ہوا تھا۔ ابتدائی فائرنگ پہلے سے موجود گروپ کے گن مین نے کی تھی جبکہ جوابی فائرنگ میں گن مین سمیت مخالف گروپ کے تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔