• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم نے دوران خطاب حکومت کے خلاف بیرونی سازش سے متعلق خط لہرادیا


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں ملکی مفاد کا کہہ کر لکھ کر دھمکی دی گئی، لیکن ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔

پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں ’امر بالمعروف‘ جلسے سے خطاب میں عمران خان نے بیرونی سازش کا انکشاف کیا اور عوام کے سامنے خط لہرادیا۔

انہوں نے جیب سے خط نکال کر لہراتے ہوئے کہا کہ قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزام نہیں لگارہا ہوں، ان کے پاس ثبوت کے طور پر خط موجود ہے، بہت سی باتیں ہیں، بہت جلد اور مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کوئی بھی شک کرے گا، اسے دعوت دوں گا کہ آف دی ریکارڈ دیکھ سکے گا، بیرونی سازش کی ایسی بہت سی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں ہر چیز ظاہر کر رہاہوں، جو میرے پاس ثبوت ہے، کوشش ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کردوں کہ میرے ملک کو نقصان پہنچے۔

عمران خان نے کہا کہ بھٹو نے جب ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی تو ان کے خلاف آج جیسے حالات بنادیے گئے ہماری خارجہ پالیسی کو باہر سے متاثر کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پھر وہی سازش ہو رہی ہے، جو بھٹو کے خلاف ہوئی، سازش کا ہمیں 3 ماہ سے پتہ ہے، ہمیں پتہ ہے کہ باہر سے کن کن جگہوں سے ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ذوالفقار علی بھٹو والا وقت نہیں، اب وقت بدل چکا ہے، آج کل کے دور میں کوئی چیز نہیں چھپتی، ہم دوستی سب سے کریں گے لیکن غلامی نہیں کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج اسی بھٹو کے داماد آصف زرداری اور نواسہ بلاول بھٹو زرداری دونوں ہی کرسی کے لالچ میں ذوالفقار علی بھٹو کی قربانی کو بھلاکر اس کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ بلاول بھٹو تم اپنے نانا کے نام پر سیاست کر رہے ہوں لیکن اپنے نانا کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھ گئے ہو، یہی ن لیگ والے ہیں جو کہتے تھے کہ آصف زرداری کا پیٹ پھاڑ کر بھی چوری کا پیسہ نکالیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ جو آج سب اکٹھے ہوگئے ہیں، قاتل اور مقتول اکٹھے ہوگئے ہیں، جنہوں نے انہیں اکٹھا کیا ہمیں اُن کا پتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ لندن میں بیٹھا ہوا شخص کس کس سے ملتا ہے، پاکستان میں بیٹھے کردار کس کے کہنے پر چل رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک کو پرانے لیڈرز کے کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں، باہر سے ہماری حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جو جمہوریت پسند ہوتا ہے وہ عوام کے پاس جاتا ہے، بے غیرت آدمی کی کوئی عزت نہیں کرتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پیسہ باہر سے آرہا ہے، ہمارے لوگ زیادہ تر انجانے میں اور کچھ جان بوجھ کر پیسے کے لیے ہمارے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوگی تو قوم سب کو دیکھے گی، منحرف ارکان سے کہتا ہوں میری مخالفت میں ووٹ نہ ڈالنا، قوم تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، آپ کے پاس ایک ہی راستہ استعفیٰ دو۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ 25 کروڑ روپے رکھ کر کہو کہ ضمیر جاگ گیا ہے قوم نہیں مانے گی، صرف ہمارے لوگ ہی واپس نہیں آئیں گے بلکہ ن لیگ اور پی پی کے ایم این ایز کے بھی ضمیر جاگ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے وعدہ کرنا ہے، کبھی کسی حکمران کو اجازت نہیں دیں گے کہ قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دے، ساری قوم پارلیمنٹ کی ووٹنگ دیکھے، آپ نے ایک ایک آدمی کو دیکھنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت کیا جان بھی جاتی ہے تو جائے لیکن میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گا، دعویٰ کرتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ساڑھے 3 سال میں کسی حکومت نے ایسی پرفارمنس نہیں دی، جو ہم نے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں معاشی ترقی پر اپوزیشن دنگ رہ گئی ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری ریکارڈ ایکسپورٹ کر رہی ہے، ہم نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے ٹیکس زیادہ اکٹھا ہونے پر عوام کو پٹرول، ڈیزل پر 10 روپے بڑھانے کے بجائے کم کیے، بجلی کی قیمت بھی کم کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جیسے عوام کو پٹرول، ڈیزل اور بجلی پر سبسڈی دی، یقین دلاتا ہوں، امیروں سے ٹیکس اکٹھا کروں گا اور آئندہ بھی عوام پر پیسہ خرچ کروں گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھے بھی بڑی دیر تک پاکستان کا نظریہ نہیں پتہ تھا، 18 سال کی عمر میں باہر گیا، وہ فلاحی ریاست دیکھی، 25 سال سے اپنے نظریے پر کھڑا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹا چور نہیں بڑا ڈاکو ملک کو تباہ کرتا ہے، یہ 3 چور 30 سال سے ملک کا خون چوس رہے ہیں، ان کے اربوں ڈالرز اور پراپرٹی باہر ہے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن مجھ پر تنقید کر رہی ہے کہ ملک تباہ کردیا ہے، جب ہماری 5 سال کی حکومت مکمل ہوگی، سارا پاکستان دیکھے گا کہ کسی حکومت نے تیزی سے غربت کم نہیں کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کورونا میں اپنے ملک کو بند نہیں کیا، سندھ حکومت نے بھی میری بات نہیں مانی لیکن آج ساری دنیا نے تسلیم کیا جو پاکستان نے قدم اٹھائے اس سے اپنی قوم، معیشت اور غریبوں کو بچایا۔

وزیراعظم نے تحریک عدم اعتماد کو اپوزیشن کا این آر او حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا ڈرامہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے عدم اعتماد کا ڈرامہ صرف اس لیے کھیلا کہ وہ چاہتے تھے کہ پرویز مشرف کی طرح میں بھی گھٹنے ٹیک کر این آر او دے دو۔

عمران خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے اپنی کرسی بچانے کے لیے ان چوروں کو این آر او دیا، یہی وجہ ہے ملک میں پی پی اور ن لیگ کے 10 برسوں میں لوٹ مار ہوئی، یہ شروع دن سے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جو ہم بوجھ اٹھا رہے ہیں وہ پرویز مشرف کے این آر او کا نتیجہ ہے، میں کہتا ہوں حکومت جاتی ہے تو جائے، میری جان بھی جاتی ہے تو جائے، کبھی بھی انہیں معاف نہیں کروں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مریم بی بی نے زندگی میں ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کیا ہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کو اردو ہی نہیں بولنی آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری سے کہوں گا کہ بلاول بھٹو زرداری کو لیڈر بنانے کے لیے پہلے تھوڑا بڑا ہونے تو دیتے۔

عمران خان نے بلاول بھٹو پر تنقید کی اور کہا کہ پی پی چیئرمین مجھے روز دھمکی دیتا ہے، مجھے نیب نے بلوایا تو میں کیا کروں گا، میں رو دوں گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ خود دار قومیں اوپر جاتی ہیں، ہم قانون لائے ہیں ریاست خواتین کو زبردستی وراثت کا حق دلوائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم وہ خارجہ پالیسی لانا چاہتے ہیں، جس کے بعد ہم کسی کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوں گے، ہم امن میں سب کے ساتھ ہوں گے۔

قومی خبریں سے مزید